سنگین ضلعے کی اہمیت کیوں ہے؟

افغان فوجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگین پر طالبان کے دوبارہ قبضے کی صورت میں افغان فوجیوں کی لشکر گاہ سے اہم سپلائی لائن منقطع ہوجائے گی

ایک وقت تھا جب افغانستان میں موجود بین الاقوامی افواج ضلع سنگین کو اپنے مرکز کے طورپر استعمال کیا کرتی تھیں۔

تاہم اب سنگین میں طالبان کی طاقت میں نہ صرف اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ طالبان ایک بار پھر اس ضلعے کو افغان فوجیوں سے واپس قبضے میں لینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔

خیال رہے کہ سنگین افغانستان کے صوبہ ہلمند کے شمالی ضلعوں کو دارالحکومت لشکرگاہ سے ملانے والا اہم ضلع ہے۔

کیا وجوہات ہیں جن کے باعث ہلمند صوبے کا یہ علاقہ دونوں اطراف کے لیے اتنی اہمیت رکھتا ہے؟

سنگین پر طالبان کے دوبارہ قبضے کی صورت میں صوبے کے شمالی علاقوں میں ان کی نقل و حرکت میں اضافہ ہو جائے گا جبکہ افغان فوجیوں کی لشکر گاہ سے اہم سپلائی لائن منقطع ہو جائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ افیم کی بڑے پیمانے پر کاشت والا علاقہ ہونے کے باعث منشیات کی سمگلنگ پر محصولات کی مد میں طالبان کی آمدنی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اہم سوال یہ ہے کہ کیا طالبان حالیہ دنوں میں اس ضلعے کے علاقوں پر کیے جانے والے قبضے کو برقرار رکھ پائیں گے؟

پیر کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ سرکاری فوجوں نے ضلعی انتظامی دفاتر خالی کر دیے ہیں۔ تاہم طالبان جنگجو وہاں داخل ہونے کے حوالے سے محتاط ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مقامی لوگوں کی بڑی تعداد میں حکومتی فوج کے خلاف غم و غصے کے جذبات پائے جاتے ہیں

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان ان دفاتر کو خالی ہی رکھیں گے جیسا کہ انھوں نے ہلمند کے موسٰی قلعہ اور نوزاد کے علاقوں میں کیا تھا۔ ان علاقوں میں 90 فیصد ضلعوں پر طالبان قابض ہیں تاہم مرکزی علاقے حکومتی کنٹرول میں ہیں۔

ان علاقوں میں آسانی سے نشانہ بنائے جانے کے خطرے کے پیش نظر طالبان جان بوجھ کر وہاں داخل ہونے سے اجتناب برتتے ہیں۔

سنگین پر جنگجوؤں کے لیے قبضہ برقرا رکھنا آسان نہیں ہوگا، تاہم مقامی آبادی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

مقامی لوگوں کی بڑی تعداد میں حکومتی فوج کے خلاف غم و غصے کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رواں سال کے اوائل میں ان علاقوں میں کی جانے والی فوجی کارروائیوں کے دوران حکومتی فوجوں نے غیر قانونی طور پر گھروں کو مسمار کیا تھا اور ان کے کھیتوں اور املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔

طالبان ممکنہ طور پر مقامی لوگوں کے ان جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گے اور مقامی آبادی کی تمام تر ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سے قبل قندوز میں بھی انھوں نے یہی حکمت عملی اپنائی تھی اور وہاں جنگجوؤں کو مقامی شہریوں کے ساتھ تصاویر بنواتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔

افغان حکومت اگر اس پورے علاقے کو جنگجوؤں سے خالی کروانا چاہتی ہے تو انھیں مقامی آبادی کے دل و دماغ دونوں جیتنا ہوں گے۔ اس سے قبل غیر ملکی افواج کی جانب سے بھی اس علاقے کو زیر قبضہ رکھنے کے لیے یہی حکمت عملی اپنائی گئی تھی۔

انھیں چاہیے کہ ایسے فوجی جوان وہاں تعینات کیے جائیں جو 90 کی دہائی کی خانہ جنگی میں حصہ لینے والوں کے خلاف دل میں کینہ نہ رکھتے ہوں، ایسے فوجی جو اپنے پرانے بدلے چکانے میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں۔

اور اس سب سے بھی اہم، تشدد کی بار بار اٹھنے والی لہر کوختم کرنے کے لیے حکومت کو ہر ممکن اقدامات کرنا چاہییں۔ تشدد کی اٹھتی لہر سے سب سے زیادہ مقامی شہری متاثر ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں