بھارت اور روس کے درمیان کئی اہم دفاعی سمجھوتے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نریندر مودی نےکہا ہے کہ روسی ساخت کا كامووف 226 ہیلي كاپٹر بھارت میں بنانے پر ہونے والا سمجھوتہ، میک ان انڈیا کے تحت پہلا بڑا دفاعی منصوبہ ہے

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے روس کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 16 اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے دفتر نے ٹوئٹر پر پیغامات کے ذریعے اس کی معلومات فراہم کی ہیں۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ماسکو میں جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بھارت میں روسی ساخت کا كامووف 226 ہیلي كاپٹر بنانے پر ہونے والا سمجھوتہ، میک ان انڈیا کے تحت پہلا بڑا دفاعی منصوبہ ہے۔

مودی نے کہا کہ ’جوہری توانائی کے حوالے سے ہمارے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے۔ بھارت میں دو مقامات پر 12 روسی ایٹمی ری ایکٹر بنانے کے معاملے میں ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق مشترکہ بیان میں روسی صدر ولاد میر پوتن نے کہا کہ روس اگلے دو عشروں میں بھارت میں دو جگہوں پر چھ ایٹمی ری ایکٹر بنائے گا۔

بعض اہم معاہدے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس برس جب روس نے پاکستان کو حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہیلی کاپٹر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تو بھارت نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا تھا

دونوں ممالک کے شہریوں اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کی آمد و رفت کے لیے بعض قوانین اور ضوابط کو آسان بنایا جائے گا۔

ہیلی کاپٹر انجینیئرنگ کے شعبے میں تعاون بڑھے گا۔ کسٹم سے متعلق کئی امور پر تعاون کی منصوبہ بندی ہوگي۔ روس کے جوہری ری ایکٹرز بھارت میں بنائے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔

بھارت میں شمسی توانائی کے پلانٹ لگانے اور نشریات کے شعبے میں تعاون پر سمجھوتے اور روس میں تیل کی کان کنی جیسے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگلے برس ہونے والی برکس کانفرنس اور دونوں ممالک کے سالانہ اجلاس کے دوران صدر پوتن بھارت آئیں گے۔

نریندر مودی بدھ کی شام کو روس کے دو روزہ دورے پر ماسکو پہنچے تھے اور صدر پوتن کے ساتھ عشائیے میں شرکت کی تھی۔

بھارت اور روس کے درمیان اس طرح کی دو طرفہ بات چیت سنہ 2000 کے بعد سے ہر سال ہوتی رہی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان جہاں تقریباً دس ارب ڈالر کی سالانہ باہمی تجارت ہوتی ہے، وہیں روس بھارت کو فوجی ساز و سامان مہیا کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کے پاس موجود ٹینک، جنگی طیارے، آبدوزیں اور دیگر جتنے بھی تباہ کرنے والے ہتھیار ہیں وہ سب بھارت نے روس سے لیے ہیں

لیکن اس برس جب روس نے پاکستان کو حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہیلی کاپٹر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تو بھارت نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

روس بھی بھارت کے اس فیصلے سے ناراض تھا کہ اس نے روسی جنگی طیاروں کے بجائے امریکہ کے اپاچی ہیلی کاپٹر اور فرانس کے رفائل جنگی طیاروں کو ترجیح دی۔

بھارت کے دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی کے ماسکو کے اس سفر کو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم موقعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں