کیا مسلم حکمراں جمہوریت سے خوفزدہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ UNIAN
Image caption برونائی میں کرسمس کے متعلق نیا قانون آیا ہے

کرسمس کے موقع پر پاپائے روم نے ویٹیکن سے اپنے خطاب میں اس بات پر تشویش ظاہرکی کہ مشرق وسطی کے جس خطے میں یسوع مسیح پیدا ہوئے اور جس خطے میں مسیحی مذہب ظہور میں آیا اور پوری دنیا میں پھیلا آج عیسائیت اسی خطے میں خاتمے کی دہلیز پر ہے۔ ابھی چند عشرے قبل تک اس خطے میں صرف عیسائی ہی نہیں یہودی، پارسی اور دوسری مذہبی اقلیتیں بڑی تعداد میں آباد تھیں۔

سانتا اس بار کنفیوژڈ کیوں ہے؟

مشرق وسطیٰ میں عیسائیت کو دولت اسلامیہ سے خطرہ

سنہ 2015 کےکرسمس کے موقعے پرجنگ زدہ دمشق کا ایک منظر کل ٹی وی چینلوں پرپوری دنیا میں نشر کیا گیا۔ تاریکی میں ڈوبےہوئے اس حسین تاریخی شہر میں کچھ سہمے ہوئے بچے اور ان کے والدین اپنے روایتی لباسوں میں ملبوس کرسمس منا رہے تھے۔ جب سے امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں نے شام میں خانہ جنگی کوفروغ دیا ہے تب سے وہاں مذہبی اقلیتوں کو انتہائی غیر انسانی حالات کا سامنا ہے۔

دولت اسلامیہ کی شکل میں شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر ایسے سنی مذہبی جنونیوں کا قبضہ ہے جنھوں نے اپنے مخالفین اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف جبر، ظلم، تشدد اور غارت گری کی ایسی تاریخ رقم کی ہے کہ جس کی ماضی میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ دولت اسلامیہ نے مذہبی منافرت اور تشدد کو ایک ایسی غیر انسانی سطح پر پہنچا دیا ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

دولت اسلامیہ کا مقصد سیاسی ہے لیکن اس کی بنیاد مذہبی جنون اور نفرت پر قائم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاپائے روم نے مشرق وسطی میں عیسائیت کو لاحق خطرے کی ذکر کیا ہے

کرسمس سے چند روز قبل برونائی کے مسلم حکمراں نے ایک نیا قانون نافذ کیا جس کےتحت ان کی سلطنت میں اگر کوئی بھی شخص کرسمس منائے گا یا کسی کے پاس ایسی کوئی شے پائی جاتی ہے جو کرسمس منانے میں استعمال ہوتی ہو تو اسے پانچ برس قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔کرسمس پر کسی کو مبارکباد کے پیغام پر بھی سزا کا اہتمام ہے۔

ایک وقت تھا جب سعودی عرب، شام، عراق، ایران، مصر، مراکش، اردن، یمن اور فلسطینی خطے میں مسلمانوں کےساتھ ساتھ بڑی تعداد میں عیسائی، یہودی، پارسی، یزیدی، دروز اور کئی دوسرے مذاہب کےلوگ مل جل کر رہا کرتے تھے۔ لیکن مذہبی جبر، تفریق اور منافرت کے سبب رفتہ رفتہ مذہبی اقلیتیں ان ملکوں سے یا تو کہیں اور چلی گئیں یا پھر ختم ہو گئیں۔ مذہبی اقلتیں ہی نہیں مسلمانوں کے مختلف اقلیتی فرقے بھی اکثریتی فرقے کے ظلم اور جبر کا ہدف بنتے رہے ہیں۔

محض ایک دو ملکوں کو چھوڑکر دنیا میں مسلمانوں کی اکثریت والے کسی بھی ملک میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ یہی نہیں بہت سے ملکوں نے اسلام کے بھی دروازے بند کر دیے ہیں۔ سعودی عرب نے تو مکہ اور مدینہ شہر میں ہی غیر مسلموں کے داخلے پر ہی پابندی لگا رکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک زمانے میں مشرق وسطی میں مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی تھی

مسلم اکثریت والے بیشتر ممالک سعودی عرب کویت، اردن اور متحدہ عرب امارات کی طرح کسی بادشاہ کی ذاتی ملکیت ہیں۔ ایران جیسےکئی ممالک سخت گیرملاؤں کی گرفت میں ہیں۔ مصر اور شام جیسےکچھ ممالک الگ الگ قسم کے آمروں کے تحت آتے ہیں۔ ترکی، ملیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک جمہوریت آمریت اور مذہبیت کےدرمیان کنفیوژڈ رہے ہیں، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسی مذہبی جمہوریتیں سختگیریت سے لڑتے لڑتے اب لاغر ہوتی جا رہی ہیں۔

مشرق وسطی کی ہی طرح بھارت کا شمالی خطہ بھی دنیا کے کئی بڑے مذاہب کے ظہور کا مخزن تھا۔ یہیں پر ہندوازم، بودھ مت، جین اور سکھ مذاہب نے جنم لیا۔ ان میں سے بیشتر ایک دوسرے کو چیلنج کرتے ہوئے وجود میں آئے۔ لیکن ہندو اکثریت والی بھارتی جمہوریت میں یہ سبھی مذاہب پھل پھول رہے ہیں۔ یہاں ہر مذہب کو برابر کا درجہ ہی حاصل نہیں ہے بلکہ انھیں اپنے مذہب کی تبلیغ اور تبدیلی مذہب کا بنیادی حق بھی حاصل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مذہب ختم نہیں ہوا۔ یہی نہیں یہاں صدیوں سے ہر اس مذہب کے لوگ آباد ہیں جو اپنے ملکوں میں ستائے گئے۔

تو پھر کیا مسلم حکمراں آزادی، برابری اور آزادی اظہار کےجمہوری تصور سے خوفزدہ ہیں؟ کیا ان حکمرانوں نے اپنے سیاسی اور ذاتی مفاد کےحصول کےلیے مذہب کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس کا جواب اس حقیت میں پنہاں ہے کہ یہ حکمراں ہر طرح کی آزادی اور مذہبی مساوات کی مزاحمت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں