بحیرۂ جنوبی چین کے متنازع جزیرے پر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC News
Image caption بحیرۂ جنوبی چین پر چین کے علاوہ فلپائن، برونائی، تائیوان، اور ویتنام کا بھی دعویٰ ہے

حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی چین کے متنازع سمندر میں واقع ایک دور افتادہ فلپائنی جزیرے پر بہت سے احتجاج کرنے والے افراد جمع ہوگئے ہیں۔

تقریبا 50 فلپائنی، جن میں زیادہ تر طالب علم شامل ہیں، سنیچر کو سپریٹلی جزائر کے سلسلے میں واقع فلپائن کے فضائی، ارضیاتی، اور خلائی امور کے انتظامی دفتر پگاسا پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں تین دن تک قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ یہاں رہ کر فلپائن کے مخصوص معاشی خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے مسئلے کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔

چین اپنے ہمسایوں کے دعووں کی پروا کیے بغیر بحیرۂ جنوبی چین کے وسائل سے مالامال تمام علاقے پر دعویٰ رکھتا ہے۔

فلپائن کے علاوہ برونائی، ملیشیا، تائیوان، اور ویتنام بھی ان متنازع پانیوں پر اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

توقع ہے کہ یہ گروہ پیر کو جزیرے سے واپس چلا جائے گا۔

گذشتہ ایک سال کے دوران چین کے جزیرے پر ناجائز تعمیرات اور چینی بحریہ کے گشت شروع کرنے کے بعد اس کشیدگی میں اضافہ ہواہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور آسٹریلیا کے جہازوں کی آمدورفت بھی آزادی کے ساتھ جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے قبل فلپائن کے باشندوں نے منیلا میں چین کے قونصل خانے کے خلاف چین کی تعمیری سرگرمیوں پر احتجاج کیا تھا

فلپائنیوں کے اس گروپ کی قیادت بحریہ کے ایک سابق کمانڈر کر رہے ہیں۔ ’کالیان یہ ہمارا ہے‘ کے نام سے پکارے جانے والی اس مہم کے بارے میں گروپ کا کہنا ہے کہ ان کے سفر حب الوطنی پر مبنی ہے اور چین کی جارحیت کے خلاف مزاحمت ہے۔

فلپائنی حکومت کا کہنا ہےکہ وہ اس گروپ کے جذبات کو سمجھتے ہیں لیکن حفاطتی اقدامات کے پیش نظر وہ اس سفر کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ مظاہرین اس متنازع سمندر میں 500 کلومیٹر کا سفر طر کرتے ہوئے اس جزیرے پر پہنچے تھے۔

فلپائن نے اس مسئلے پر دا ہیگ کی ایک مصالحتی عدالت کے سامنے چین کو چیلنج کر رکھا ہے۔ فلپائن کا کہنا ہے کہ چین کی مقرر کردہ حدود ’نائن ڈیش لائن‘ اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ اس کنونشن پر دونوں ممالک نے دستخط کیے ہوئے ہیں۔

چین نے اس مقدمے کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمے کی پیروی کرنے والے پینل کو اس مقدمے کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

اسی بارے میں