بھارت کا اسرائیل کی مدد سے بنائے گئے میزائل کا تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال دفاعی صنعت نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ باراک 8 نامی اس منصوبے کا حجم 1.4 بلین ڈالر ہے

بھارت نے بدھ کو زمین سے فضا میں دور تک مار کرنے والے ایک نئے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس میں فضائی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ تجربہ بھارتی وزیر اعظم نریند مودی کے بھارت کی افواج کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے اقدامات میں سے ایک ہے۔

بھارت کا دو روز میں دو قسم کے میزائل کا تجربہ

بھارت امریکہ کے بجائے اسرائیلی میزائل لے گا

بھارت جس کی سرحدیں دو جوہری طاقتوں چین اور پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں آئندہ دس برسوں میں اپنی فوج پر 250 بلین ڈالر خرچ کرے گا۔

دنیا میں بھارت دفاعی آلات خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے ملک میں ہی دفاعی صنعت بنائی جائے تاکہ دوسرے ممالک سے دفاعی آلات پر خرچ کیے جانے والے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔

بھارت کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بھارت اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ طور پر بنائے جانے والے اس میزائل کا تجربہ کولکتہ میں آئی این ایس نامی جنگی جہاز کے ذریعے کیا گیا۔‘

گذشتہ سال دفاعی صنعت نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ باراک 8 نامی اس منصوبے کی لاگت 1.4 بلین ڈالر ہے۔

فضائی دفاعی نظام میں پتا لگانے کے لیے راڈار، ٹریکنگ اور میزائل گائیڈنس شامل ہیں۔

ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’دنیا میں امریکہ، فرانس، برطانیہ اور اسرائیل کے پاس ہی ایسی صلاحیت موجود ہے۔‘

خیال رہے کہ اسرائیل کا شمار بھارت کو اسلحہ سپلائی کرنے والے تین سر فہرست ممالک میں ہوتا ہے۔

اسی بارے میں