’راکٹ فائر کرنے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دونوں ممالک کے درمیان تاریخی جوہری معاہدے کے بعد اِس واقعے سے نئی کشیدگی پیدا ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں

ایران نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی بحری جہاز اور دیگر جہازوں کے قریب ایران کی جانب سے تجرباتی طور پر راکٹ فائر کرنے کا امریکی دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔

ایران کے پاسدارن اِنقلاب کے ترجمان نے امریکی دعویٰ کو ’نفسیاتی جنگ‘ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران نے سٹریٹیجک لحاظ سے اہم آبی گزرگاہ میں ’متعدد راکٹ‘ فائر کیے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان تاریخی جوہری معاہدے کے بعد اِس واقعے سے تازہ کشیدگی پیدا ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

بدھ کے روز امریکی فوجی ترجمان کائل رینز نے کہا تھا کہ دو امریکی اور ایک فرانسیسی جہاز سے تقریباً 1,370 میٹر دور سے راکٹ فائر کیے گئے جو کہ ’انتہائی اشتعال انگیز‘ عمل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سمندری گزرگاہ کے حدود میں اتحادی بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں کے گزرنے کے دوران اتنے قریبی علاقے میں ہتھیاروں کی فائرنگ غیر محفوظ، غیر پیشہ ورانہ اور بین الاقوامی سمندری قوانین کے خلاف ہے۔‘

کمانڈر رینز کا کہنا تھا کہ راکٹ فائر ہونے سے تقریباً 23 منٹ قبل ایرانی جہازوں سے سمندری ریڈیو پر اِس بات کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ ایسا کرنے جا رہے ہیں۔

تاہم ایران کے پاسدران انقلاب کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں جنرل رمضان شریف نے کہا ہے کہ ایران نے کوئی راکٹ فائر نہیں کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Fars
Image caption ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی راکٹ فائر نہیں کیے

اُن کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ ہفتے جب امریکہ نے یہ دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے علاقے میں کوئی میزائل یا راکٹ فائر کیے گئے تھے، بحریہ کسی قسم کی کوئی مشق نہیں کر رہی تھی۔‘

’موجودہ صورت حال میں اِس طرح کی بات نفسیاتی دباؤ یا حکمت عملی ہے۔‘

آبنائے ہرمز ایران اور اومان کے درمیان تھوڑی تنگ آبی گزرگاہ ہے جو سمندر کے راستے تیل کی تجارت کرنے والوں کا اہم راستہ بھی ہے۔ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے بحری جہاز بھی اِسی راستے کو استعمال کرتے ہیں۔

سنہ 2012 میں ایران نے اِس گزرگاہ کو بند کرنے کی دھمکی دے دی تھی، یہ ایک طرح سے خلیج عرب کے بالکل دروازے پر ہے اور ایک مقام پر جاکر اِس چوڑائی صرف 33 کلومیٹر یعنی 21 میل رہ جاتی ہے۔

یہ حالیہ تنازعہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں حساس وقت میں ہوا ہے۔ جولائی میں ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدہ عمل میں آیا ہے اور اِس دوران کشیدگی کی فضا بھی قائم تھی۔ لیکن اب بھی امریکہ کے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔

اسی بارے میں