ممبئی: خاتون کی ہلاکت کے بعد ساحل پر سیلفی پر ’پابندی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سمارٹ فون کی وجہ سے سیلفی نے مقبولیت حاصل کی

بھارت کے تجارتی شہر ممبئی میں پولیس نے پندرہ مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں پر سیلفی لینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ان مقامات میں سیاحوں میں مقبول میرین ڈرائیو اور گرگوم چاوپاٹی کا ساحلی علاقہ بھی شامل ہے۔

پولیس کی جانب سے یہ اقدامات گذشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعے کے بعد اٹھائے گئے ہیں جس میں 18 برس کی لڑکی سیلفی لیتے ہوئے سمندر میں ڈوب گئی تھی۔

گذشتہ برس حکام نے ہندوؤں کے ایک تہوار کے موقعے پر بھگدڑ کے خدشے کے سبب مخصوص سیلفی لینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ممبئ پولیس کے ترجمان دھاننجے کولکرنی کے مطابق باندرا بینڈ سٹینڈ، سیون قلعہ، ورلی قلعہ کے قریب سیلفی لینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

پولیس اب شہر کی میونسپلٹی سے رجوع کرے گی تاکہ ان مقامات پر سیلفی لیتے ہوئے حادثات سے بچا جاسکے۔

پولیس کے ترجمان کلکرنی نے مزید بتایا کہ میونسپلٹی ہو سکتا ہے کہ ان مقامات پر لائف گارڈز تعینات کرے اور متنبہ کرنے والے سائن بورڈز لگائے۔

پولیس کی طرف سے یہ اقدامات گزشتہ ہفتے باندرا کے علاقے میں دو لڑکیوں کے سیلفی لیتے ہوئے سمندر میں گرنے کے واقعے کے بعد اٹھائے گئے ہیں۔

اس واقعہ میں ایک لڑکی ڈوب کر ہلاک ہوگئی تھی جبکہ ایک کو وہاں موجود لوگوں نے بچا لیا تھا۔

ستمبر میں ہی ایک جاپانی سیاح آگرہ کے تاج محل میں سیلفی لیتے ہوئے مبینہ طور پر سیڑھیوں سے پھسل کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

گزشتہ برس ہی روسی حکومت نے نوجوانوں کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ نوجوان لوگ مقامات پر سیلفی لینے سے پہلے دو بار سوچیں۔

اسی طرح سپین میں مشہور بیلوں کی دوڑ کے تہوار کے دوران ایک شخص سیلفی لیتے ہوئے ہلاک ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں