’مقصد مذاکرات کو سبوتاژ کرنا تو نہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تقریبا تمام چیلزاور ویب سائٹس اس بات پر متفق ہیں کہ حملہ آور وہی لوگ ہیں جنہوں نے اکتیس دسمبر کی رات کو پنجاب کے ایک پولیس افسر سے کار چھین لی تھی

بھارت کے تمام ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس پر صبح ہی سے پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر شدت پسندوں کے حملے سے متعلق خبریں چھائی ہوئی ہیں اور اس کے ہر پہلو پر بحث و مباحثے بھی جاری ہیں۔

تقریبا تمام چیلزاور ویب سائٹس اس بات پر متفق ہیں کہ حملہ آور وہی لوگ تھے جنھوں نے اکتیس دسمبر کی رات کو پنجاب کے ایک پولیس افسر سے کار چھین لی تھی اور پولیس جنھیں تلاش کر رہی تھی۔

معروف انگریزي اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنے سنیچر کے شمارے میں صفحہ اول پر اس خبر کو شائع کرتے ہوئے سکیورٹی افسران کے حوالے سے لکھا تھا کہ پولیس حکام کو اس بات کا خدشہ ہے کہ جن افراد نے پولیس سے کار چھینی تھی کہیں وہ شدت پسند تو نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت کے بعض میڈیا اداروں نےاس طرح کے سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ آخر اس طرح کی اطلاعات ہونے کے باوجود بھی شدت پسند وہاں تک کیسے پہنچے

صبح جیسے ہی پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر حملے کی خرب آئی بھارتی میڈیا نے اسے کے لیے جیش محمد نامی شدت پسند تنظیم کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ شدت پسندوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔

اس سے متعلق بحث میں تجزیہ کاروں کی رائے اپنی جگہ لیکن ٹی وی چینل ’ٹائمز ناؤ‘ کے رپورٹر اس حملے کے لیے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

چینل کی سکرین پر ’حملے سے پاکستان کا لنک ‘ کی سرخی کے ساتھ نیچے لکھا ہے ’جیش کا دراندازی کر کے حملہ کرنے والا دستہ۔‘

مولانا مسعود اظہر کی تصویر نشر کرتے ہوئے اینکر سوالیہ انداز میں کہتا ’پاکستان کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت۔‘

چینل کے رپورٹر بار بار یہ کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ ’ہمیں ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کی پاکستان کے زیر انظام کشمیر میں جیش محمد کے لیڈر مولانا مسعود اظہر اور حزب المجاہدین کے ساتھ میٹنگیں ہوتی رہی ہیں اور وہیں اس حملے کے منصوبے تیار کیے گئے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اس طرح کے سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ کہیں اس طرح کے حملوں کا مقصد پاکستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کرنا تو نہیں ہے۔

ٹائمز گروپ پر ہونے والی اس موضوع پر بحث کا مرکز ’پاکستانی پراکسی وار‘، پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی اور وہاں پر شدت پسندی کے تربیتی کیمپ ہیں۔ اس کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ ہلاک کیے گئے شدت پسندوں کا تعلق پاکستان کے علاقے بہاول پور سے ہے۔

این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی حکام کو اس حملے کے متعلق خفیہ اطلاعات پہلے ہی مل چکی تھیں اسی لیے ایئر بیس میں نقصان کچھ بھی نہیں ہوا اور شدت پسندوں پر بہت جلد قابو پالیا گيا۔

لیکن اس نے اس طرح کے سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ آخر اس طرح کی خفیہ اطلاعات ہونے کے باوجود بھی شدت پسند وہاں تک کیسے پہنچے؟

چینل کے مطابق ایک شدت پسند نے ٹیلی فون پر اس حملے سے متعلق باتیں بھی کیں تھیں ’تو پھر وہ داخل کیسے ہوئے ، یہاں تک پہنچے کیسے ؟ اور جب پولیس سے کار چھینی گئی تھی اسی وقت اس پر قابو کیوں نہیں پالیاگيا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

این ڈی ٹی پر اس حوالے سے بحث قدر معتدل ہے اور اس کا کہنا ہے کہ شاید اس حملے کے پیچھے وہ طاقتیں ہیں جو بھارت اور پاکستان کے درمیان امن نہیں چاہتی ہیں اور یہ مودی کے لاہور دورہ کے بعد ماحول کو خراب کرنے ایک کوشش ہو سکتی ہے۔

انڈین ایکسپریس نے اس حملے کے تعلق سے مختلف نکتہ نظر پیش کرنے کی غرض کئی مضامین شائع کیے ہیں۔ انھیں میں ایک کی سرخی ہے ’پٹھان کوٹ پر دہشت گردانہ حملہ مودی کی پاکستان کے ساتھ امن کی کوشش کے دل پر حملہ ہے۔‘

اخبار کے مطابق اب اپوزیشن جماعتیں اور مودی کے مخالفین پاکستان کے حوالے سے مودی کی پالیسی پر اپنے حملے اور تیز کر دیں گے۔

بیشتر ہندی چینلز اور ویب سائٹس پر بھی اس حملے کے تعلق بحث کا موضوع پاکستان ہے اور ان کا کہنا ہے پاکستان میں طاقت کا اصل مرکز پاکستانی فوج ہے اور آئی ایس آئی شدت پسند تنظیموں کو بھارت کے خلاف استعمال کرتی ہے۔

بعض چینل تو اس حملے کی پاکستان کی جانب سے مذمت کو بھی دوہرا معیار بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حملے کے لیے ’پاکستان کو بعض مشکل سوالوں کے جواب دینے ہوں گے۔‘

تقریباً سبھی چینل اس خبر کو بار بار نشر کر رہے ہیں کہ بھارت کے وزیر دفاع نے اس حملے کے تناظر میں فوج کے تینوں، فضائیہ، بحریہ، بری افواج کے کمانڈروں اور قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ اہم میٹنگ کی ہے۔

لیکن اس پر جاری بحث کے دوران بہت سے تجزیہ کار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس طرح کے حملوں کے بعد امن مذاکرات کو منسوخ کرنے سے شدت پسندوں کی ہی جیت ہوگی کیونکہ وہ یہی چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ جب بھی بات چيت کی جاتی ہے تو اس طرح کے حملوں کا خطرہ رہتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ رشتے بہتر ہوں۔ اس لیے پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت تو نہیں لیکن بات چیت میں پاکستانی فوج کو بھی بورڈ پر لینے کی ضرورت ہے۔

اس بحث کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آیا اب پنجاب بار بار شدت پسندی کا نشانہ کیوں بن رہا ہے اور اس کا مقصد کیا ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں