بھارتی قونصل خانے کے قریب افغان فوج اور جنگجوؤں میں تصادم

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں

افغان فوج ملک کے شمالی شہر مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے کے قریب ایک عمارت سے جنگجوؤں کو نکالنے کے لیے بر سر پیکار ہے۔

پیر کو عمارت سے دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

مزارِ شریف میں بھارتی قونصل خانے کے قریب فائرنگ

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے قونصل خانے میں گھسنے کی ناکام کوشش کی تھی اور اب وہ پاس کی عمارت میں ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ پہلے بھی افغانستان میں بھارتی قونصل خانے حملہ آوروں کے نشانے پر رہے ہیں۔

افغانستان میں بھارتی سفیر امر سنہا نے بھارتی خبررساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ قونصل خانے کے تمام اہلکار محفوظ ہیں اور اس علاقے کو حملہ آوروں سے خالی کرانے کی کارروائی جاری ہے۔

Image caption پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور آر پی جی، ہینڈ گرینیڈ اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس ہیں

افغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکت سے بچنے کے لیے ’بہت ہی احتیاط سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

بلخ صوبے کے گورنر کے ترجمان منیر فرہاد نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہمارا کلیرینس آپریشن قونصل خانے کے قریب جاری ہے۔‘

مزار شریف کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور آر پی جی، ہینڈ گرینیڈ اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

صوبائي پولیس کے ترجمان شیر جان درانی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ مسلح حملہ آور عمارت سے افغان فوجیوں پر گولیاں چلا رہے ہیں۔

ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption بھارتی سفیر امر سنہا نے بھارتی خبررساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ قونصل خانے کے تمام اہلکار محفوظ ہیں

خیال رہے کہ سنہ 2008 اور 2009 میں کابل سفارت خانے پر دو بار حملہ ہوا تھا جس میں درجنوں افراد مارے گغے تھے۔

مئی سنہ 2014 میں ہرات میں مسلح افراد نے بھارتی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا جبکہ اگست سنہ 2013 میں جلال آباد قونصل خانے پر حملے میں نو شہری ہلاک ہوئے تھے۔

مزار شریف میں ہونے والا تازہ حملہ بھارتی وزیر ا‏عظم نریندر مودی کے کابل دورے کے بعد ہوا ہے۔

اسی بارے میں