کشمیر جہاد کونسل نے پٹھان کوٹ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انتہائی سکیورٹی والے فصیل بند وسیع ایئر بیس میں کومبنگ آپریشن یعنی جنگجوؤں کی صفائی کا کام بڑے محتاط انداز میں کیا جا رہا ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم کئی مسلح گروپوں کے اتحاد نے پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کے ذمہ داری قبول کی ہے۔

بھارت کے نیشنل سکیورٹی گارڈز نے دعویٰ کیا کہ پٹھان کوٹ ایئربیس میں جاری آپریشن کے دوران پانچواں مسلح حملہ آور بھی مارا گیا۔

اس طرح اس حملے میں دو افسروں سمیت سات فوجی اور پانچ حملہ آور مارے گئے۔

پٹھان کوٹ: 48 گھنٹے بعد بھی دو حملہ آور ’اڈے میں موجود‘

پٹھان کوٹ ایئر بیس پر دوبارہ جھڑپ: تصاویر

’صبح چوک پر پہنچا تو منظر ہی بدلا ہوا تھا‘

انتہائی سکیورٹی والے فصیل بند وسیع ایئر بیس میں کومبنگ آپریشن یعنی جنگجوؤں کی صفائی کا کام بڑے محتاط انداز میں کیا گیا تاکہ مزید ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔

اس آپریشن میں بھاری فوجی گاڑیاں، حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور تربیت یافتہ فوجیوں کا استعمال بھی کیا گیا۔

شمالی بھارت کے پٹھان کوٹ شہر میں واقع انڈین ایئر فورس کی بیس پر تین روز سے جاری مسلح حملے کے دوران ہی کشمیری مسلح گروپوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بھارت پر واضح کیا ہے کہ وہ ہر حملے کے پیچھے پاکستان کا کردار تلاش کرنے کی عادت سے باز رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں دو افسروں سمیت سات فوجی اور پانچ حملہ آور مارے گئے

پیر کو جہاد کونسل کے ترجمان سید صداقت حسین نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو ای میل کیے گئے مختصر بیان میں کہا:’پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملہ نیشنل ہائی وے سکواڈ سے وابستہ مجاہدین نے انجام دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دراصل مجاہدین کشمیر کا پیغام ہے کہ کوئی حساس بھارتی تنصیب مجاہدین کی دسترس سے باہر نہیں ہے۔ بھارتی قیادت کے لیے ابھی وقت ہے کہ وہ کوئی وقت ضائع کیے بغیر کشمیریوں کو اپنا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرے اور جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور بند کرے۔‘

ترجمان نے کہا ہے کہ ’پاکستان پر الزامات لگا کر بھارت کشمیریوں کی جہدوجہد آزادی کو سبوتاژ نہ ماضی میں کر سکا ہے اور نہ آئندہ کر سکے گا۔ ‘

اس ڈرامائی حملے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں مقیم مسلح گروپ جیش محمد کو ذمہ دار ٹھہرا رہی تھیں اور سفارتی حلقوں میں یہ باتیں گشت کررہی تھیں کہ گروپ کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری کے لیے پاکستان پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔

تاہم جہاد کونسل نے اس حملے کی ذمہ داری تسلیم کرکے حملے کے حوالے سے ہونے والی بحث کو نیا موڈ دے دیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ متحدہ جہاد کونسل کم ا ز کم ایک درجن چھوٹی بڑی مسلح تنظیموں کا اتحاد ہے جو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں قائم ہے۔

27 سال سے سرگرم کشمیری گروپ حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین جہاد کونسل کے چیئرمین ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین جہاد کونسل کے چیئرمین ہیں

مبصرین کا کہنا ہے کہ آٹھ سال قبل ممبئی میں ہوئے مسلح حملے کے بعد بھارت کو پاکستان کے خلاف مقدمہ بنانے میں دقت پیش آئی کیونکہ حملہ آوروں کا تعلق کشمیر کے ساتھ نہیں تھا ، لیکن اب کی بار اس قدر ہائی پروفائل حملے کو خود جہاد کونسل نے تسلیم کیا تو بھارت کا کام آسان ہوگیا۔

یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان اور بھارت باہمی تعلقات کو بحال کرنے میں سنجیدہ نظر آنے لگے تھے۔

واضح رہے کہ چند دن قبل جہاد کونسل نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ وہ معاشی مراعات اور اقتصادی اہداف کے لیے بھارت کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکے۔

اسی بارے میں