پٹھان کوٹ: 48 گھنٹے بعد بھی دو حملہ آور ’اڈے میں موجود‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتہائی تربیت یافتہ فوجیوں نے جگہ جگہ مورچہ سنبھال رکھا ہے

بھارتی حکام کے مطابق ریاست پنجاب کے شہر پٹھان كوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر سنیچر کی صبح حملہ کرنے والوں میں سے کم از کم دو حملہ آور اب بھی وہاں موجود ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔

پٹھان کوٹ سے ہمارے نمائندے نتن شریواستو نے بتایا ہے کہ 50 گھنٹے سے زیادہ کا وقفہ گزر جانے کے بعد بھی حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

انتہائی سکیورٹی والے فصیل بند وسیع ایئر بیس میں کومبنگ آپریشن یعنی جنگجوؤں کی صفائی کا کام بڑے محتاط انداز میں کیا جا رہا ہے تاکہ مزید ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔

اس آپریشن میں بھاری فوجی گاڑیاں، حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور تربیت یافتہ فوجیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

فوج کے اعلیٰ اہلکار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو پٹھان کوٹ کی تازہ صورت حال سے آگاہ کر رہے ہیں۔

Image caption ایئر بیس کے احاطے میں تلاش کا کام محتاط انداز میں جاری ہے

دریں اثنا حکام نے کہا ہے کہ اس پورے حملے میں سات سکیورٹی اہلکار سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چار شدت پسند شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بارے میں انھیں پہلے سے اطلاعات تھیں ایسے میں سات سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت حکومت کے لیے شرمندگی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

بعض حلقوں کی جانب سے ان حملوں کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

پٹھان کوٹ سے مسٹر نتن نے بتایا کہ پیر کی صبح چار بجے کے بعد اچانک بھارتی فضائیہ کے طیاروں کی دو تین بار پروازوں سے لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں۔

Image caption اس آپریشن میں بھاری فوجی گاڑیاں، حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور تربیت یافتہ فوجیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے

یہ بات اہم ہے کہ حملے کے بعد پورے دو دن گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک کوئی واضح معلومات نہیں ہے کہ وہ دو شدت پسند کہاں چھپے ہوئے ہیں۔

پٹھان کوٹ ائیر بیس شمالی بھارت کے سب سے بڑے ائیر بیس میں سے ایک ہے اور بھارتی فوج دنیا میں تیسری سب سے بڑی فوج تسلیم کی جاتی ہے۔

دوسری طرف یہاں پاکستان کے ساتھ سرحد پر آٹھ فٹ اونچی خاردار دیواریں بھی ہیں۔

اسی بارے میں