پٹھان کوٹ: چھ حملہ آور ہلاک، ’حملہ سکیورٹی کی ناکامی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption بھارتی وزیرِ دفاع نے کہا کہ انھوں نے کچھ کمزوریاں تو دیکھی ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ یہ حملہ سکیورٹی کی ناکامی ہے

بھارتی وزیرِ دفاع منوہر پاریکر کا کہنا ہے کہ پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملہ کرنے والے چھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

منگل کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کو سکیورٹی کی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نواز شریف کا مودی کو فون، مکمل تعاون کا وعدہ

امید ہے کہ پاکستان حملہ آوروں کے خلاف کاررروائی کرے گا: امریکہ

کشمیر جہاد کونسل نے پٹھان کوٹ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

منوہر پاریکر کا کہنا تھا کہ چھ میں سے دو حملہ آوروں کی لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں اور تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی ہلاکت کے بعد بھی وسیع رقبے پر قائم اس اڈے کی تلاشی کا عمل جاری ہے اور امید ہے کہ سرچ آپریشن بدھ کو مکمل ہو جائے گا۔

حکام کے مطابق انتہائی سکیورٹی والے فصیل بند وسیع ایئر بیس میں کومبنگ آپریشن یعنی شدت پسندوں کی صفائی کا کام بڑے محتاط انداز میں کیا گیا تاکہ مزید ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اس آپریشن میں بھاری فوجی گاڑیاں، حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور تربیت یافتہ فوجیوں کا استعمال بھی کیا گیا۔

پٹھان کوٹ پر یہ حملہ سنیچر کی صبح ہوا تھا اور ابتدائی کارروائی میں چار حملہ آوروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

اتوار کو بھارتی حکام نے مزید دو حملہ آوروں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی جن میں سے ایک کو پیر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔

منگل کو پٹھان کوٹ ایئر بیس کے دورے کے بعد بھارتی وزیرِ دفاع نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ انھوں نے کچھ کمزوریاں تو دیکھی ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ یہ سکیورٹی کی ناکامی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے قبضے سے 40 سے 50 کلوگرام اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ملا ہے۔

منوہر پاریکر نے بتایا کہ نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کو اس واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور ’تحقیقات کے بعد صورتحال واضح ہو جائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آپریشن میں بھاری فوجی گاڑیاں، حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور تربیت یافتہ فوجیوں کا استعمال بھی کیا گیا

خیال رہے کہ پاکستان نے اس حملے کی تحقیقات میں بھارت کو تعاون کا یقین دلایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اس سلسلے میں بھارت کی جانب سے دی گئی معلومات پر کام ہو رہا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم کئی مسلح گروپوں کے اتحاد کشمیر جہاد کونسل نے قبول کی ہے۔

پیر کو جہاد کونسل کے ترجمان سید صداقت حسین نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو ای میل کیے گئے مختصر بیان میں کہا:’پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملہ نیشنل ہائی وے سکواڈ سے وابستہ مجاہدین نے انجام دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دراصل مجاہدین کشمیر کا پیغام ہے کہ کوئی حساس بھارتی تنصیب مجاہدین کی دسترس سے باہر نہیں ہے۔ بھارتی قیادت کے لیے ابھی وقت ہے کہ وہ کوئی وقت ضائع کیے بغیر کشمیریوں کو اپنا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرے اور جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور بند کرے۔‘

ترجمان نے کہا ہے کہ ’پاکستان پر الزامات لگا کر بھارت کشمیریوں کی جہدوجہد آزادی کو سبوتاژ نہ ماضی میں کر سکا ہے اور نہ آئندہ کر سکے گا۔ ‘

اسی بارے میں