طالبان دوبارہ سے کیوں سر اٹھا رہے ہیں؟

افغان حکومت اور اُس کے اتحادی امریکہ اورنیٹو گذشتہ 14 سالوں سے افغانستان میں طالبان سے جنگ کر رہے ہیں۔ لیکن ہزاروں شدت پسندوں کی ہلاکت کے باوجود باغی تنظیم ملک کے بڑے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر رہی ہے۔

طالبان کے دوبارہ سے سر اُٹھانے کی تین اہم وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ سنہ 2014 میں افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کے جنگی مشن کے خاتمے اور بڑی تعداد میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے باعث طالبان کے خلاف کارروائیوں اور بمباری کے خطرات میں واضح کمی آئی ہے۔

طالبان نے ملک کے مختلف حصوں میں فوجی اڈوں، ڈسٹرکٹ مراکز اور سکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے کر کے بھاری ہتھیاروں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ اِن ہتھیاروں کو افغان فورسز کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ طالبان نے پولیس کی درجنوں گاڑیوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے جنھیں یہ اپنے زیر اثر علاقوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ جون سنہ 2014 میں پاکستانی افواج کی جانب سے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد ہزاروں دہشت گرد افغانستان فرار ہوگئے تھے جہاں اُنھوں نے طالبان کی صفوں میں شمولیت اختیار کر لی۔

تیسری اور آخری وجہ یہ ہے کہ اگرچہ افغان سکیورٹی فورسز نے گذشتہ سال کے دوران مسلح جنگجوؤں سے بہت بہتر انداز میں جنگ کی ہے تاہم اُن کے پاس مخصوص صلاحیتوں اور سامان جیسا کہ فضائی طاقت اور جاسوسی کی کمی ہے۔

طالبان کابل کی مرکزی حکومت میں سیاسی کشمکش اور انتظامی اُمور میں کئی جگہوں پر واضح کمزوریوں کو بخوبی اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔

غیر ملکی جنگجو

جون سنہ 2015 میں افغانستان کے سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ ملک میں 7,000 سے زائد غیر ملکی جنگجو لڑ رہے ہیں۔ طالبان کو مشرق وسطی، وسطی ایشیائی ممالک اور پاکستان سے عسکریت پسندوں کی شمولیت کے ذریعے تقویت مل رہی ہے۔

افغانستان میں درجن بھر تنظیمیں ہیں جو وہاں لڑ رہی ہیں۔ اِن میں چند ایک نے طالبان کی بالادستی کو چیلنج کیا ہے تاہم زیادہ تر اب بھی افرادی قوت اور پیسے کے ذریعے افغان طالبان کی حمایت کر رہی ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ظہور سے طالبان اور القاعدہ زیادہ قریب آ گئے ہیں۔

اگست سنہ 2015 میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے طالبان کی نئی قیادت سے بیعت کی تجدید کی تھی اور تمام جہادی تنظیموں سے بھی ایسا ہی کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

کئی محاذ

طالبان، جو افغانستان کی اہم باغی تنظیم ہے اب تین محاذوں پر لڑ رہی ہے۔

افغان حکومت اور اُن کے غیر ملکی اتحادی

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ

امارت اسلامی افغانستان کی سپریم کونسل سے الگ ہونے والے طالبان گروہ

طالبان سنہ 2001 سے افغان فورسز اور اس کے غیر ملکی اتحادی نیٹو اور امریکہ کے ساتھ جاری جنگ میں مصروف ہیں۔

طالبان جنوری سنہ 2015 سے دولتِ اسلامیہ سے بھی لڑ رہے ہیں، جب دولتِ اسلامیہ نے اپنے خود ساختہ خراسان صوبے کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ گروہ پورے افغانستان اور اُس کے ساتھ ساتھ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ملحقہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔

طالبان تیسرے اور نئے محاذ پر اپنے ہی باغی ہونے والے گروہ سے برسر پیکار ہیں جس کے باعث وسائل اور توجہ دونوں ہی تقسیم ہوگئے ہیں۔

طالبان نے ماضی میں بھی افغانستان کے ایک پرانے اور نسبتاً معمولی باغی گروپ حزبِ اسلامی کے خلاف بھی لڑائی کی ہے۔

تفریق اور علحیدگی

سنہ 1994 میں اپنے قیام کے بعد سے طالبان نے اپنے اتحاد پر فخر کیا ہے۔

تنظیم کے اتحاد اور بانی رہنما ملا محمد عمر کے ساتھ جانثارانہ اطاعت نے میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

لیکن اِس یکجہتی میں اُس وقت دراڑیں نظر آئیں جب جولائی سنہ 2015 میں ملا محمد عمر کی ہلاکت کی خبر کے بعد ملا اختر منضور کو طالبان کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

نومبر سنہ 2015 کے اوائل میں افغان طالبان سے الگ ہونے والے گروہ نے ملک کے مغربی صوبے فرح میں ایک اجلاس کے دوران ملا محمد رسول (طالبان دورِ حکومت میں نمروز کے گورنر) کو اپنا رہنما مقرر کیا۔

باغی گروہ کے قیام کے فوراً بعد دونوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی۔ زیادہ تر لڑائی زابل، فرح اور ہیرات کے علاقوں میں ہوئی ہے جہاں باغی گروہ کا کنٹرول ہے۔

دونوں گروہوں کی لڑائی میں ہلاک اور زخمی ہونے والے زیادہ تر جنگجوؤں کا تعلق باغی گروہ سے بتایا جاتا ہے۔

تصادم میں باغی گروپ کے سب سے طاقتور کمانڈر منصور داد اللہ کے بھی ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم ابھی تک ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اِس وقت تک زیادہ تر طالبان رہنما ملا اختر منصور کو اپنا سربراہ تسلیم کر چکے ہیں۔

آخری معرکہ

طالبان نے زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کرنے کی واضح حکمت عملی کے ساتھ سنہ 2015 کی سالانہ موسم بہار کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ جس کا مقصد ’محفوظ‘ علاقوں میں اپنے مستقل اڈوں کا قیام تھا تاکہ قیادت اُن علاقوں میں رہتے ہوئے کام کر سکے اور اس کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن کو مضبوط بناتے ہوئے فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

سنہ 2001 کے بعد سے اِس سال طالبان کے پاس بہت زیادہ علاقہ ہے لیکن وہ قصبوں اور صوبائی دارالحکومتوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔

طالبان کی جانب سے زیادہ سے زیادہ زمینی قبضوں کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اِس سے کابل میں حکومت گر جائے گی۔

اِسی دوران زیرِ التوا امن عمل دوبارہ جلد شروع ہونے کا بھی امکان ہے۔ اجلاس میں افغانستان، پاکستان، چین اور امریکہ کے حکام شامل ہوں گے اور یہ اگلے ہفتے اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس میں افغان مفاہمتی عمل اور طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک روڈ میپ پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

افغان امن عمل میں افغان حکومت، طالبان، امریکہ اور پاکستان چار اہم فریق ہیں۔ جب تک یہ چاروں ایک صفحے پر متفق نہیں ہوتے اور سنجیدگی سے سیاسی حل پر نہیں پہنچتے، بامعنی پیش رفت کا حصول ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں