’محبوبہ مفتی کشمیر میں اپنے والد کی ممکنہ جانشین‘

Image caption سوال یہ ہے کہ محوبہ مفتی ہند نواز سیاست کے مفتی ماڈل کی کامیاب سیاسی وارث ثابت ہوں گی یا نہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مفتی سعید کی جگہ ان کی 50 سالہ بیٹی محبوبہ مفتی کو وزارت اعلیٰ کا حلف دلانے کی خبریں گرم ہیں۔

مفتی کی تنظیم پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان اور مفتی سعید کے مُشیر خاص نعیم اختر ان خبروں کی تردید کر چکے ہیں لیکن پارٹی میں مفتی کے جانشین پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے رسمی اور غیر رسمی نشستوں کا سلسلہ جاری ہے۔

فی الوقت مفتی سعید کی پارٹی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے ساتھ مشترکہ طور اقتدار پر براجمان ہے۔

اس جماعت نے حالیہ الیکشن میں 87 میں سے 28 سیٹیں حاصل کر کے دوبارہ اقتدار حاصل کیا لیکن اس بار چیلنج یہ تھا، کہ انھیں ہندوقوم پرست جماعت بے جے پی کے ساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ کرنا پڑا۔

ان کی پارٹی کے اکثر رہنما کہتے ہیں: ’یہ تو مفتی صاحب کا لائف ٹائم رسک تھا۔ انھوں نے بہت بڑا داو لگایا، کیونکہ وہ ریاست میں تعمیروترقی چاہتے ہیں۔‘ لیکن اس خطرےنے ان کی مقبولیت کو نقصان بھی پہنچایا۔

اب جبکہ یہ تقریباً طے ہے کہ ان کے بعد ان کی بیٹی محبوبہ مفتی ہی وزیر اعلیٰ ہوں گی، یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ کیا وہ اقتدار میں بی جے پی جیسے سخت خُو شریک کے ساتھ سیاسی نباہ کر پائیں گی؟

Image caption مفتی محمد سعید کو ہند نواز ماڈل کا خالق کہا جاتا ہے

مفتی سعید کے سیاسی مشیر وحیدالرحمان کہتے ہیں: ’مجبوبہ جی نے پارٹی کو اپنی محنت سے بنایا۔ آج اگر مفتی سعید ایک برانڈ ہے تو اس برانڈ کی خالق خود محبوبہ مفتی ہیں۔ پارٹی میں اس بات پر کوئی بحث نہیں کہ ہماری لیڈر محبوبہ جی ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ محبوبہ مفتی کو نئی دہلی میں سخت گیر ہندوقوم پرست حلقے ’ملی ٹینٹ لیڈی‘ کہتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ معلوم حقیقت ہے کہ کشمیر میں مسلح کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد وہ ان کے گھر جاکر ماتم کرتی تھیں۔

پی ڈی پی کے ایک سینیئر رہنما نے بتایا کہ مفتی سعید جب صحت یاب بھی تھے، انھیں یہی فکر تھی کہ محبوبہ مفتی کس طرح آر ایس ایس اور بھارت کے لیے قابل قبول بن سکتی ہیں۔

فی الوقت عوامی حلقوں کو کشمیر کی ہند نواز سیاست میں کوئی بھی تبدیلی متاثر نہیں کرتی۔

Image caption پرفیسر غنی بٹ اکثر کہتے ہیں کہ فاروق عبداللہ مجبوراً ہندوستانی ہیں اور غلام بنی آزاد کا ہندوستانی ہونا ایک حادثہ ہے، لیکن مفتی سعید ایماناً انڈین ہیں

انجینیئر ہلال کہتے ہیں:’ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پالیسیاں دہلی میں بنتی ہیں اور انھیں یہاں عمل میں لانے کے لیے فوج اور پولیس ہے۔ وزیراعلیٰ کوئی بھی ہو، بس ایک تماشا ہے اور لوگوں کو وعدوں کے آکسیجن پر رکھا جاتا ہے۔‘

دراصل ہند نواز سیاست میں مفتی کا معنی خیز کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے کشمیر میں ہند نواز سیاست کو عوامی لہجے کے ساتھ ہم آہنگ کرکے اسے کسی حد تک اعتبار دلایا، گوکہ حکومت ہند کے مطابق ہند مخالف جذبات کی شدت اب بھی باعث تشویش ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ تُرش مزاج محوبہ مفتی، ہند نواز سیاست کے مفتی ماڈل کی کامیاب سیاسی وارث ثابت ہوں گی یا نہیں؟

اسی بارے میں