گاندھی کی زندگی کے آخری 10 برس

یہ بھارت کے عظیم رہنما مہاتما گاندھی کی سنہ 1938 میں مغربی ریاست مہاراشٹرا کے سیوا گرام گاؤں میں بنائی گئی ایک یادگار تصویر ہے، جس میں فکرمند نظر آنے والے گاندھی اپنے دفتر سے کسی کو ٹیلی فون کررہے ہیں۔

موہن داس کرم چند گاندھی یہ تصویر کھینچے جانے سے دو برس قبل سیگاؤں منتقل ہو گئے تھے۔ بعد میں اُنھوں نے اِس گاؤں کا نام تبدیل کر کے سیواگرام یا خدمت والا گاؤں رکھ دیا تھا۔

اُنھوں نے یہاں ایک آشرم یعنی کمیونٹی سینٹر تعمیر کیا جہاں ’کئی اہم فیصلے کیے گئے جنھوں نے بھارت کی تقدیر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔‘

گاندھی اپنی اہلیہ کستوربا اور چند پیروکاروں کے ہمراہ یہاں منتقل ہوئے۔

گاندھی کے بھتیجے کانو گاندھی بھی اُن کے ہمراہ یہاں تھے۔ کانو کے پاس رول آئی فلیکس کیمرا تھا، جس سے وہ عظیم رہنما کی تصاویر بناتے تھے۔

کانو ڈاکٹر بننا چاہتے تھے، لیکن اُن کے والدین نے اُنھیں مذہبی کام کرنے کے لیے گاندھی کے ذاتی عملے میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ وہ دفتر میں حساب کتاب کا کام دیکھتے اور خطوط تحریر کرتے تھے۔

کانو گاندھی نے فوٹوگرافی میں دلچسپی پیدا کی لیکن گاندھی نے اُنھیں واضح الفاظ میں بتا دیا کہ اُن کے پاس کیمرا دلانے کے لیے رقم نہیں ہے۔

کانو اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے اور آخر کار گاندھی نے صنعت کار گھنشیام داس برلا سے کانو کو سو روپے تحفے میں دینے کا کہا تاکہ وہ کیمرا اور فلم کے رول خرید سکیں۔

لیکن گاندھی نے کانو پر تین شرائط بھی عائد کر دیں: اُنھوں نے فلیش استعمال کرنے اور تصویر کے لیے انداز اختیار کرنے کا کہنے سے منع کیا، اور اُنھیں یہ بات بھی واضح کر دی کہ آشرم اُن کی فوٹوگرافی کے لیے رقم نہیں ادا کرے گا۔

کانو نے گاندھی کے ایک خدمت گار سے جو اُن کا کام پسند کرتے تھے، وظیفہ لینے کا آغاز کر دیا۔ اُس کے ساتھ ساتھ کانو اپنی تصاویر اخبارات کو فروخت کرنے لگے۔

سنہ 1948 میں گاندھی کے قتل کے وقت تک کانو بھارت کی تحریک آزادی کے عظیم رہنما کی تقریباً دو ہزار تصاویر بنا چکے تھے۔ برسوں تک کانو کی بنائی گئی تصاویر گمنامی میں رہیں اور پھر ایک جرمن محقق نے اِن تصاویر کو جمع کر کے اُن کی فروخت شروع کر دی۔

اب اُن کی زندگی کے آخری دس سالوں کے دوران بنائی گئی 92 نایاب تصویر کو دہلی کی نذر فاؤنڈیشن نے ایک کتاب کی صورت میں نہایت نفاست سے شائع کیا ہے۔ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے، جس کی بنیاد بھارت کے دو معروف فوٹوگرافروں پرشانت پنجیر اور دِینش کھنا نے رکھی تھی۔

سنہ 1945 میں بنائی گئی اِس تصویر میں گاندھی ممبئی کے بِرلا ہاؤس میں وزن کی مشین پر کھڑے ہیں۔

یہ تصویر اس شخص کی کہانی بیان کر رہی ہے جس نے امن لانے کے لیے تحریک آزادی کے دوران درجنوں بار بھوک ہڑتالیں کیں جن کا مقصد امن کا قیام، مسلمانوں کے حقوق کی پاسداری اور فسادیوں کو شرم دلانا تھا۔

معروف فوٹو گرافر اور کتاب کو مرتب کرنے میں مدد کرنے والے سنجیو سیٹھ کا کہنا ہے کہ ’یہ تصویر اُس شخص کی ہے جس نے اپنے وزن پر نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ ہر وقت اپنا امتحان لیتا رہتا ہے۔ یہ آپ کو اِس شخص کے بارے میں بہت کچھ بتا رہی ہے۔‘

اِس تصویر میں گاندھی کو سنہ 1940 میں سیواگرام میں اپنے دفتر کے باہر کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔ گرمی سے بچنے کے لیے انھوں نے ایک تکیے سے سر ڈھانکا ہوا ہے۔

یہ ایک نایاب اور پرانی تصویر ہے۔

کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کانو گاندھی نے مہاتما کی جو تصایر بنائی ہیں وہ بہت خصوصی ہیں۔

پنجیر کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ اُن کو مہاتما تک ناقابل یقین رسائی تھی، شاید وہ گاندھی سے ڈر کر رہتے تھے اور اُن کے احترام کی وجہ سے ہمیشہ دوری بنائے رکھتے اور وہ اُن کے لیے گہرے تعلق اور قربت کے احساس کو پہنچانے میں کامیاب رہے۔

’کیونکہ وہ اُن سے مخصوص فاصلہ بنائے رکھتے، اِس لیے کانو مختلف اور جدید فوٹوگرافی کرنے لگے تھے۔ اُن کی تصاویر کی دلچسپ فریمنگ اور پیشِ منظر کے غیر روایتی استعمال نے بناوٹ کے کئی قوانین کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔‘

کانو گاندھی نے مہاتما کے ساتھ دور دراز علاقوں کا سفر کیا۔

یہ سنہ 1938 میں بنائی گئی ایک تصویر ہے، جس میں شمال مغربی سرحدی صوبے میں پٹھان اور کانگریس کے چند کارکن ایک ناہموار علاقے میں گاندھی کی گاڑی کو دھکا لگا رہے ہیں۔

کانو گندھی کی پہلی کتاب جو تصاویری سرگزشت پر مبنی ہے، اُس میں عظیم رہنما کے آخری دس سالوں کی سیاسی اور ذاتی زندگی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اِس میں گاندھی کی کئی مزاجوں والی تصاویر ہیں، سوچ میں مگن، خوش، پریشان، غمزدہ اور اپنے حمایتیوں کے درمیان۔

اس تصویر میں گاندھی کی بڑی بہن ریلیت بھین اور ایک رشتہ دار خاتون اُن کے مارچ سنہ 1939 میں گجرات کے راج کوٹ کے علاقے میں کی گئی تین روز کی فاقہ کشی کے بعد ان کا جسم دبا رہی ہیں۔

پنجیار کا کہنا ہے: ’یہ تصویر شاید پُرانی ہو لیکن اس میں نظر آنے والے لوگ پُرانے زمانے کے نہیں ہیں۔ وہ سادہ نہیں ہیں، تصویر خوبصورتی اور احتیاط سے بنائی گئی ہے، اس طرح کی صاف سُتھری تصویر ہے جیسی اُس دور میں بنائی جاتی تھیں۔‘

اُن کے مطابق ’ممکنہ طور پر کانو تربیت یافتہ فوٹو گرافر نہیں تھے کیوں کہ اُن کی بہت سی تصاویر دُھندلی، ہلکی سی، اپنے مقام سے ہٹی ہوئی یا دو شبیہوں کی وجہ سے اُن کے ہم عصروں کی جانب سے مسترد کر دی گئی تھیں۔ لیکن ان میں اُس جگہ کا فخر موجود ہے جنھیں بہت پیار سے اپنے ہاتھوں سے البموں میں لگایا گیا ہے۔‘

گاندھی اور اُن کی بیوی کستوربا کو یہاں سنہ 1940 میں سیوگرم آشرم میں ایک عیسائی مرد اور ایک اچھوت عورت کی شادی میں دیکھا جا سکتا ہے۔

سنجیو سیٹھ کا کہنا ہے کہ سنہ 1944 میں بھارتی ریاست پُونے کے آغا خان محل میں اپنی موت سے چند ماہ قبل حالتِ مرگ میں مبتلا کستوربا گاندھی کے بیڈ پر لیٹے ہوئے یہ تصویر اُن کی پسندیدہ ترین تصویروں میں شمار ہوتی ہے۔ اُن کے عقب میں ایک کھڑکی سے روشنی کی ایک ٹوٹی ہوئی دھار نکل رہی ہے۔

سنجیو کے مطابق ’یہ ایک کفایت شعار خاتون ہیں جو شاہانہ انداز میں اپنے عظیم الشان بستر پر لیٹی ہوئی ہیں۔ یہ قریب الموت ہیں۔ اس تصویر نے مجھے بالکل ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

اور پھر یہ سنہ 1938 میں گاندھی کی آزادی کے ہیرو اور انتہا پسند قوم پرست سبھاش چندرا بوس کے ساتھ خوشگوار موڈ میں ایک تاریخی تصویر ہے۔ پس منظر میں کستوربا گاندھی اپنی ساڑی کے پلو کو تھامے قدرے فاصلے سے کھڑی دیکھ رہی ہیں۔

یہ بوس کی سیاسی زندگی کی ایک اعلیٰ دوپہر تھی۔ انھیں کانگریس پارٹی کے صدر کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ گاندھی نے بوس کی تقرری پر آزادی کے ہیرو سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کو مسترد کر دیا تھا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان پیچیدہ تعلقات رہے اور اختلافات کی وجہ سے بعد میں ختم ہو گئے۔

سیٹھ کا کہنا ہے: ’یہ ایک حیرت انگیز تصویر ہے۔ اس تصویر نے بھارت کے دو عظیم ترین ہیروؤں کو ایک تصویر میں یکجا کر دیا ہے۔ جوان اور ملکوتی شخصیت کے مالک بوس گاندھی کی جانب قابلِ تعریف انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک اچھا اور ولولہ انگیز لمحہ ہے۔‘

یہ فروری سنہ 1940 میں گاندھی اور نوبل انعام یافتہ شاعر رابندر ناتھ ٹیگور مغربی بنگال کے شانتی نکیتن میں دو عظیم انسانوں کی غوروفکر کے دوران لی گئی تصویر ہے۔

سیٹھ کہتے ہیں: ’تصویر کے نچلے حصے کی جانب دیکھیں۔ یہ ایک حادثاتی دو سمتی تصویر (ایک ایسی تکنیک جس میں دو مختلف تصویروں کو ایک تصویر میں یکجا کیا جاتا ہے) ہے۔ یہ قدرے اختراعی ہے۔ کانو گاندھی جانتے تھے کہ یہ ایک اچھی تصویر ہے اور انھوں نے تصویر کو اسی لیے پھینکا نہیں۔‘

سنہ 1945 سے 1946 کے دوران گاندھی کی اچھوتوں کے لیے عطیات جمع کرنے کی تصاویر کی ایک سیریز موجود ہے جس میں انھوں نے ٹرین کے ذریعے سے تین ماہ کا طویل سفر کیا جو انھیں بنگال، آسام اور جنوبی بھارت لے گیا۔

کچھ تصاویر میں وہ پیسوں کے لیے اپنا ہاتھ پھیلا رہے ہیں جبکہ دیگر میں انھیں لوگوں نے گھیر رکھا ہے اور وہ ایک پتلی سی ٹوکری میں چندہ جمع کر رہے ہیں۔

سیٹھ کہتے ہیں: ’وہ بوڑھے ہیں لیکن پُھرتیلے نظر آ رہے ہیں۔ وہ چندہ اکٹھا کرنے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں اور رقم کا ہر حصہ ایک اچھے مقصد کے لیے خرچ کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ وہ پیسے کی اہمیت سمجھتے ہیں۔‘

گاندھی نے ایک بار اپنی ذات کے لوگوں، جن کی اکثریت سود خوروں پر مشتمل تھی، کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بنیا ہوں اور میری لالچ کی کوئی حد نہیں ہے۔‘

کانو گاندھی ہی وہ شخص تھے جنھیں کسی بھی وقت گاندھی کی تصاویر لینے کی اجازت تھی وہ اُن کے ہر دن کی تصاویر لیتے تھے۔

بعض اوقات گاندھی خود بھی اس میں شامل ہوتے تھے۔ ایسا ہی ایک موقع وہ تھا جب اُن کی بیوی کستوربا پونے میں آغا خان محل میں اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اُن کی گود میں لیٹی ہوئی تھیں۔

تاہم فروری سنہ 1944 میں بھتیجے کو رہنما کی شال میں ملبوس، کستوربا کے انتقال کے بعد اُن کی جانب دیکھتے ہوئے تصویر کھینچنے کی اجازت دی گئی تھی۔

کانو کو گاندھی کی ایک ایسی تصویر کھینچنے کی اجازت ملی جس میں وہ شال میں لپٹی کستوربا کی جانب دیکھ رہے ہیں جو فروری 1944 میں انتقال کر گئی تھیں۔

بہت سے لوگوں کے مطابق گاندھی اُن کے پہلو میں دعائیں کرتے ہوئے گھنٹوں شب بیداری میں گزار دیتے تھے۔

’مسلسل چھ سال کی رفاقت کے بعد انھوں نے اس رات کے بعد کہا کہ ’میں ان کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔‘

ستم ظریفی یہ ہے کہ کانو گاندھی جیسے شخص جو گاندھی کے ساتھ سایے کی طرح رہتے تھے، 1948 میں گاندھی کے قتل کے وقت ان سے دور مشرقی بنگال کے شہر نواکھلی میں تھے۔

پنجیار کے مطابق ’گاندھی کی موت نے کانو اور اُ ن کی بیوی ابھا کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ کانو کے نزدیک فوٹوگرافی سے زیادہ اُن کے رہنما کے پیغام کی تشہیر زیادہ اہم تھی۔‘

کانو گاندھی فروری سنہ 1986 میں شمالی بھارت میں ایک یاترا کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

اسی بارے میں