’جب تک تکلیف نہیں پہنچائیں گے حملے بند نہیں ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت نے ابھی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ سشما سواراج نے پیر کو اس سلسلے میں صلاح مشورہ کیا

بھارت کے وزیر دفاع منوہر پریکر نے کہا ہے کہ جب تک ان لوگوں کو تکلیف نہیں پہنچائی جائے گی جو بھارت کونشانہ بناتے ہیں پٹھان کوٹ جیسے حملے بند نہیں ہوں گے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’اسے حکومت کا نظریہ نہ سمجھا جائے لیکن میں ہمیشہ یہ مانتا ہوں کہ جب کوئی آپ کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ خود بھی وہی زبان سمجھتا ہے۔ (جواب کے لیے) کب کہاں اور کیا، یہ فیصلہ آپ کا ہونا چاہیے۔‘

انھوں یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی انفرادی شخص یا تنظیم کا ذکر کر رہے ہیں۔

’بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائےگا‘

’پاکستان حملے کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے‘

چھ حملہ آور مارنے میں چار دن کیوں لگے؟

منوہر پریکر نے کہا ’اگر کوئی بھارت کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اس شخص یا تنظیم (میں دانستہ طور پر انفرادی شخص اور تنظیم کا ذکر کر رہا ہوں)، انھیں بھی تکلیف محسوس کرائی جانی چاہیے۔ جب تک ہم انھیں تکلیف کا احساس نہیں کراتے، وہ ہمیں تکلیف پہنچاتے رہیں گے۔‘

بھارتی وزیرِ دفاع کے مطابق ’میں ہمیشہ اپنے فوجیوں سے کہتا ہوں کہ اپنی جان قربان کرنے کی بجائے وہ اپنے یا ملک کے دشمن کی جان لینے کے بارے میں سوچیں اور یہ ہی ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔‘

منوہر پریکر نے کہا وہ کسی خاص تناظر میں بات نہیں کر رہے لہذا ان کی بات سے کوئی خاص مطلب نہ نکالا جائے۔ اپنے بیان میں انھوں نے پاکستان کا نام نہیں لیا۔

ادھر بھارت نے ابھی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ سشما سواراج نے پیر کو اس سلسلے میں صلاح مشورہ کیا۔

پٹھان کوٹ کے حملے کو نریندر مودی کی حکومت کی سخت ترین آزمائش مانا جا رہا ہے کیونکہ انھیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ 15 جنوری کو خارجہ سیکریٹری ایس جے شنکر بات چیت کے لیے اسلام آباد جائیں یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پٹھان کوٹ کے حملے کو نریندر مودی کی حکومت کی سخت ترین آزمائش مانا جا رہا ہے کیونکہ انھیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ 15 جنوری کو خارجہ سیکریٹری ایس جے شنکر بات چیت کے لیے اسلام آباد جائیں یا نہیں

حکومت میں اعلی سطح پر غور و خوض کا سلسلہ جاری ہے اور ایک نظریہ یہ ہے کہ اگر بات چیت منسوخ کر دی گئی تو اس کے دوبارہ آغاز کا موقع آسانی سے نہیں ملے گا۔

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اگر پٹھان کوٹ حملے کے بعد حملہ آوروں کے خلاف حکومتِ پاکستان ٹھوس کارروائی نہیں کرتی اور اس کے باوجود بھارتی حکومت بات چیت کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو اسے نریندر مودی کی حکومت کی کمزوری کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

حکومت نے اب تک تمام راستے کھلے رکھے ہیں اور اہلکاروں کی جانب سے انتہائی محتاط زبان استعمال کی گئی ہے۔

وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کے درمیان بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے پٹھان کوٹ کے حملے کے بعد پیدا شدہ صورت حال اور بات چیت جاری رکھنے کے امکان پر غور کیا۔

اب تمام نگاہیں اس بات پر ٹکی ہیں کہ حملے کی سازش میں ملوث افراد کے خلاف حکومت پاکستان کیا کارروائی کرتی ہے؟

نریندر مودی کے دورۂ پاکستان سے باہمی رشتوں میں بہتری کی ایک نئی امید پیدا ہوئی تھی تاہم ان کے لیے نہ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ آسان تھا، اور نہ ہی ختم کرنے کا ہوگا۔

اسی بارے میں