’سعودی عرب کی بےپروا شدت پسندی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں لکھا ہے کہ دنیا عنقریب ایران کے جوہری معاہدے جیسے بہت اہم معاہدے پر عملدرآمد کا جشن منائے گی۔ اس معاہدے میں شامل تمام ممالک کو امید تھی اور اب بھی ہے کہ جوہری تنازعے کے حل کے بعد شدت پسندی کے چیلنجز کی جانب توجہ دی جائے گی جس کا سامنا ہمارے خطے اور دنیا کو ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ صدر روحانی نے متعدد بار دہرایا ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی کا سب سے اہم پہلو ہمسایے ممالک سے اچھے تعلقات، خطے میں امن و استحکام اور عالمی تعاون بالخصوص شدت پسندی کے خلاف۔ ستمبر سنہ 2013 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد انھوں نے ورلڈ اگینسٹ وائلنس اینڈ ایکسٹریمزم یعنی تشدد اور شدت پسندی کے خلاف دنیا کا آغاز کیا۔ اس مہم کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی مہم کی امید پیدا ہوئی۔

لیکن کچھ ممالک مثبت تعاون کی راہ میں حائل ہیں۔

نومبر سنہ 2013 میں عبوری جوہری معاہدے کے بعد سعودی عرب کو یہ خوف لاحق ہو گیا کہ اس کا تخلیق کردہ ایرانوفوبیا ختم ہو رہا ہے اور اس نے اپنے تمام تر وسائل اس معاہدے کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کیے۔ آج سعودی عرب میں چند افراد نہ صرف بہتری کی جانب جاتے ہوئے حالات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں بلکہ ان کی پوری کوشش ہے کہ خطے کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا جائے۔

سعودی عرب کو خطرہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعے کے خاتمے کے بعد دنیا کو لاحق اصل خطرہ کھل کر سامنے آ جائے گا یعنی اس کی جانب سے پرتشدد شدت پسندی کی حمایت۔ وحشت پرستی واضح ہے۔ اپنے ملک میں تلواروں سے لوگوں کی گردنیں اڑائی جاتی ہیں جیسے کہ ایک دن میں 47 قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا جس میں شیخ نمر النمر بھی شامل تھے۔ اور دوسرے ممالک میں چہروں پر نقاب پہنے لوگ چھریوں سے لوگوں کے گلے کاٹتے ہیں۔

ہمیں بہت سے دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد کو نہیں بھولنا چاہیے۔ ستمبر 11 کی خوفناک تناہی سے لے کر سین برنرڈینو تک اور اس کے علاوہ دیگر شدت پسند حملے۔ اس کے علاوہ القاعدہ اور نصرہ فرنٹ جیسے تقریباً تمام ہی گروہ میں یا تو سعودی شہری ہیں یا پھر ان کو دہشت گردی کی ترغیب تیل سے کمائے گئے ڈالرز سے دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جوہری معاہدے کو ختم کرنے اور خطے میں کشیدگی پیدا کرنے کی سعودی عرب کی حکمت عملی کے تین اہم پہلو ہیں: مغرب پر دباؤ ڈالنا، یمن میں جنگ اور شدت پسندی کی حمایت سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور براہ راست ایران کو اشتعال دلانا۔ ریاض کی جانب سے یمن میں جنگ اور شدت پسندی کی حمایت کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ ایران کو اشتعال دلانے کی کوششوں کو عالمی سطح پر وہ اہمیت نہیں ملی اور اس کی بڑی وجہ ہماری جانب سے برداشت۔

ایران کی حکومت نے اعلیٰ ترین سطح پر دو جنوری کو سعودی سفارتخانے اور قونصل خانے پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے اور سعودی سفارتکاروں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ہم نے سعودی سفارت خانے کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے اور اس پر حملے کرنے والوں کو سزائیں دلوانے کا اعادہ کیا۔ ہم نے ان افراد کے خلاف بھی انضباطی کارروائی کی جو سفارتخانے کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے اور تفتیش کا آغاز کیا ہے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔

لیکن اس کے برعکس سعودی حکومت اور اس کے مددگاروں نے تین سالوں میں براہ راست ایرانی سفارتی جگہوں کو یمن، لبنان اور پاکستان میں نشانہ بنایا ہے جس میں ایرانی سفارتکار اور مقامی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب جانے والے ایرانی زائرین کو منصوبے کے تحت ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ ایک کیس میں جدہ ایئر پورٹ پر تعینات اہلکاروں نے دو ایرانی لڑکوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ حج کے موقعے پر سعودی حکام کی لاپرواہی کے باعث بھگدڑ میں 464 ایرانی عازمین حج ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے کئی روز تک سعودی حکام نے خاندانوں اور ایرانی حکومت کی جانب سے لاشوں تک رسائی کی درخواستوں کو نظرانداز کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی حکومت کے تقرر شدہ مولوی ایران اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں۔ شیخ النمر کی سزائے موت پر عملدرآمد کے فوری بعد مکہ کی مسجد الحرام کے امام نے شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی۔ اسی امام نے گذشتہ سال کہا تھا ’شیعوں کے ساتھ ہمارے اختلافات کبھی دور نہیں ہوں گے اور نہ ہی ان کے خلاف ہماری جنگ‘ جب تک شیعہ اس کرہ ارض پر موجود ہیں۔

ان تین واقعات کے باوجود ایران نے جوابی کارروائی سے اجتناب کیا اور نہ ہی سعودی عرب سے سفارتی تعلقات کم کیے یا ختم کیے۔ ہم نے ابھی تک برداشت کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے لیکن یک طرفہ دانائی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔

ایران خطے میں کشیدگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ ہم شدت پسندی سے لڑنے کے لیے اتحاد چاہتے ہیں۔ انتخابات کے پہلے دن سے صدر اور میں نے کھلے عام اور باہمی ملاقاتوں میں مذاکرات کرنے، استحکام لانے اور شدت پسندی کے خلاف لڑنے کی بات کی ہے۔ لیکن سعودی عرب نے ہماری باتیں ان سنی کر دیں۔

سعودی رہنماؤں کو اب فیصلہ کرنا ہی ہو گا: وہ شدت پسندوں کی حمایت جاری رکھ سکتے ہیں اور فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دے سکتے ہیں یا پھر خطے میں استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ عقل کی جیت ہوگی۔

اسی بارے میں