چین: انسانی حقوق کے وکلا پر ’بغاوت‘ کا الزام

Image caption جو شفانگ اُن کئی سرگرم کارکنان اور وکلا میں شامل ہیں جنھیں گذشتہ سال مبینہ طور پر غائب کیا گیا تھا

چین میں انسانی حقوق کے وکلا کے رشتے داروں اور دوستوں کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے کم از کم سات وکلا اور ان کے ساتھیوں کو ’بغاوت‘ کے جرم میں گرفتار کر کے ان پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

چين میں انسانی حقوق کے علمبردار کی سزا متوقع

بیجنگ میں ’فنگروئی‘ نامی ایک قانونی فرم کے بانی ’جو شفانگ‘ سمیت کمپنی کے ملازمین کو گذشتہ سال کی گرمیوں میں گرفتار کیا گیا تھا اور اب تک انھیں ایک خفیہ مقام پر رکھا جا رہا ہے۔

مقدمے کی صورت میں عدالت انھیں 15 سال سے لے کر عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے۔

چین میں سینکڑوں وکلا اور ان کے عملے کے اراکین سمیت کئی سرگرم کارکنوں پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔

جو شفانگ نے سنہ 2008 میں اس وقت شہرت حاصل کی تھی جب انھوں نے اُن خاندانوں کی نمائندگی کی تھی جو ملک میں بچوں کے زہریلے دودھ کے سکینڈل سے متاثر ہوئے تھے۔

جو شفانگ کو گذشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے ایک ہفتے بعد سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ انھوں نے نامعلوم جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔

جو شفانگ کے ساتھی لیو ژاؤ یوان نے بی بی سی سے تصدیق کی تھی کہ جو شفانگ، وانگ چوان زانگ نامی ایک وکیل اور لی شوان نامی ایک انٹرن کو ’ریاست کے خلاف بغاوت‘ کرنے کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دوستوں اور رشتہ داروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چار دیگر وکلا ’شی یانی، شی یانگ، سوئی موکنگ اور قانونی اسسٹنٹ ژاؤ وی کو ’ریاست کے خلاف بغاوت اکسانے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption وانگ چوان زانگ نامی ایک وکیل کو ’ریاست کے خلاف بغاوت‘ کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار جو فلوٹو کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ کو اب مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر مقدمہ ہوا تو فیصلہ اُن کے خالاف آنا تقریباً یقینی ہے۔

گذشتہ سال حکام نے ایک بیان میں فنگروئی کے وکلا کی قیادت میں ایک گروہ پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نےغیر قانونی طور پر احتجاجی کارکنوں کی خدمات خریدنے کے ساتھ ساتھ ’انصاف کی دفاع اور عوامی مفادات‘ کے نام پر عدالتوں کو اپنے فیصلے تبدیل کرنے پر دباؤ ڈالا تھا۔

بیان میں حکام نے فنگروئی پر یہ بھی الزام لگایا تھا کہ اس نے 40 سے زائد متنازع واقعات کو منظم کیا تھا اور امن عامہ میں بری طرح خلل ڈالا تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس گروہ نے ایک ریلوے سٹیشن پر پولیس کی جانب سے کی جانے والی ایک جائز شوتنگ کو مبینہ طور پر قتل کی سازش کے طور پر پیش کیا تھا۔

گذشتہ سال جولائی میں چینی حکام نے ایک سرکاری مہم شروع کی تھی جس میں دو سو 80 انسانی حقوق کے وکلا اور سرگرم کارکن گرفتار کیے گئے، یا ان سے پوچھ گچھ کی گئی یا پھر وہ محض غائب ہو گئے تھے۔

گذشتہ ماہ بیجنگ میں ایک عدالت نے چین میں انسانی حقوق کے معروف ترین وکیل کو ان کے آن لائن بیان کے لیے قصور وار ٹھہراتے ہوئے معلق قید کی سزا سنائی تھی۔

پو جے چیانگ کو سماجی رابطے کی سائٹ پر بیان پوسٹ کرنے کے لیے نسلی’منافرت بھڑکانے، جھگڑنے اور مسائل پیدا کرنے‘ کا مجرم پایا گيا تھا۔

اسی بارے میں