عدالت کے در پر سکھوں پر مبنی لطیفے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سکھوں پر مبنی لطیفے بعض لوگوں کے لیے تضحیک کا باعث ہو سکتے ہیں

بھارت کی سپریم کورٹ کو ایک غیرمممولی فیصلہ کرنا ہے، سکھوں کا مذاق اڑانے والے لطیفوں پر پابندی عائد کر دی جائے یا طنز و مزاح کی دنیا سے دور ہی رہا جائے۔

لیکن سوال مزاح سے زیادہ سنجیدہ ہے۔ اور عرضی گزار ہروندر چودھری کا کہنا ہے کہ اپنی درخواست میں انھوں نے پوری قوم کے درد کی ترجمانی کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’لطیفہ اچھا ہو تو ہنسنا کسے اچھا نہیں لگتا؟ لیکن اچھے لطیفے کی پہچان یہ ہے کہ سننے اور سنانے والےدونوں کو مزا آنا چاہیے۔‘

سکھوں پر مبنی بہت سے لطفیے اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ ان لطیفوں میں سکھوں کو احمقوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس سے بہت سے سکھوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔

ان لطیفوں پر سب کو ہنسی نہیں آتی، کچھ دل کھول کر ہنستے ہیں، کچھ کے دل پر چوٹ لگتی ہے، اور اب اس آہ کی گونج سپریم کورٹ میں سنائی دے رہی ہے۔

’یہ رجحان اتنا عام ہوگیا ہے کہ ایک عام آدمی سوچتا ہے کہ سکھوں کا مذاق اڑائے بغیر اس کی ٹنشن ختم نہیں ہوتی۔۔۔لوگوں نے مجھے ایسے تکلیف دہ تجربات بتائے کہ دل رو پڑا، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو کبھی پوری طرح زندگی کا مزہ ہی نہیں لیا، یہ چھاپ پڑ گئی ہے کہ سردار احمق ہوتے ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہے۔۔۔وہ زندگی کے ہر شعبے میں آگے ہیں۔‘

Image caption دہلی کی ہروندر چودھری نے سکھوں پر مبنی لطیفوں پر پابندی کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے

ہروندر کی لڑائی مزاح کے نہیں تضحیک کے خلاف ہے، اور اب آہستہ آہستہ ان کے قافلے میں لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ سکھوندر سنگھ سوڈھی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ہیں اور اب سکھوں کی بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’مذاق تب تک ہی اچھا لگتا ہے جب تک دونوں فریق کو مزا آرہا ہو، کسی کی توہن کو مذاق نہیں کہا جاسکتا۔۔۔کل کو آپ کسی لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کریں اور کہیں کہ میں مذاق کر رہا تھا، لیکن لڑکی کو تو برا لگ رہا ہے نا؟ بات عزت اور وقار کی ہے۔‘

ہروندر چودھری نے عدالت سے ایسے رہنما خطوط جاری کرنے کی درخواست کی ہے جن کہ تحت سکھ مخالف لطیفوں پر پابندی عائد کر دی جائے۔

سکھوندر سنگھ کے مطابق سب سے زیادہ مسئلہ چھوٹے بچوں کے لیے ہوتا ہے ’جو اس مذاق کی وجہ سے اپنے مذہب سے دور ہو رہے ہیں۔۔۔یہ ہمارے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، ہم اسے نسل پرستی گردانتے ہیں، اس لیے ہم اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے آگے آئے ہیں۔‘

Image caption سنتا بنتا ڈاٹ کام ہے، جس کے مالک جیون دیپ سنگھ گھائی خود سردار ہیں، کہتے ہیں کہ سنتا بنتا صرف کردار ہیں وہ کسی قوم کی نمائندگی نہیں کرتے

سکھوں کی محنت کے قصے مشہور ہیں، وہ بڑی تعداد میں فوج میں خدمات انجام دیتے ہیں، بڑے کاروبار چلاتے ہیں، اور بہتر زندگی کی تلاش میں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ماہر سماجیات جواہر لال ہنڈو کہتے ہیں کہ سکھ ایک کامیاب قوم ہیں، یہ ممکن ہے کہ اکثریتی فرقے میں اس کی وجہ سے کچھ بے چینی پیدا ہوئی ہو اور نتیجے میں سکھوں کو مذاق کا نشانہ بنایا جانے لگا ہو۔

لیکن یہ کسی کو نہیں معلوم کہ سکھ مخالف لطیفوں کا سلسلہ کیسے شروع ہوا۔

ماہر سماجیات شو وشوناتھن جیسے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اکثر یہ ہلکا پھلکا مذاق ہی ہوتا ہے، جسے مذاق میں ہی لیا جانا چاہیے، لیکن ہروندر چودھری کا خیال ہے کہ یہ سکھ قوم کو کم تر دکھانے کی سازش ہے۔

سپریم کورٹ نے گذشتہ سماعت کے دوران یہ عندیہ دیا تھا کہ اگر سکھ قوم واقعی ’برا مانتی ہے‘ تو ایسے لطیفوں پر پابندی لگانے پرغور کیا جاسکتا ہے۔ دہلی کی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی بھی اب اس پٹیشن میں فریق بن گئی ہے۔

Image caption سکھوندر سنگھ سوڈھی کہتنے ہیں کہ مذاق تب تک ہی اچھا لگتا ہے جب تک دونوں فریق کو مزا آرہا ہو، کسی کی توہن کو مذاق نہیں کہا جاسکتا

ہروندر کے نشانے پر بہت سی ایسی ویب سائٹس ہیں جن پر آپ سکھوں کے خلاف لطیفے پڑھ سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ایسی سینکڑوں ویب سائٹس ہیں۔ ان میں سے ایک سنتا بنتا ڈاٹ کام ہے، جس کے مالک جیون دیپ سنگھ گھائی خود سردار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سنتا بنتا صرف کردار ہیں وہ کسی قوم کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق مسئلے کا حل عدالتوں سے زیادہ لطیفے سننے اور سنانے والوں کے پاس ہے۔

اگر سپریم کورٹ کسی قسم کی پابندی عائد کرتی ہے تو اس کا اطلاق انتہائی مشکل ہوگا: ’خود لطیفے سنانے والوں کو حد کا تعین کرنا ہوگا” لیکن یہ فیصلہ کون کرے گا کہ لطیفہ کب مزاح اور تضحیک کی باریک حد پار کر گیا؟‘

تنازع ضرور لطیفوں پر ہے، لیکن یہ مذاق کی بات نہیں۔

اسی بارے میں