ہلمند کے رہائشی طالبان کے خوف میں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لشکر گاہ میں ایک فوجی قافلے پر حملے کے بعد آگ کو بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے

افغانستان کے شہر لشکرگاہ میں کئی لوگوں کے لیے سوال یہ ہے کہ یہاں قیام کیا جائے یا رختِ سفر تیار کیا جائے۔

افغانستان کے صوبے ہلمند اور طالبان کے روایتی گڑھ کہلانے والے اِس علاقے پر قبضے کے لیے کئی مہینوں سے جنگ جاری ہے۔ لشکرگاہ اِس صوبے کا دارالحکومت ہے اور اِس کا انتظام حکومت کے پاس ہے۔

لیکن صوبے کے دیہی علاقوں پر باغیوں کا قبضہ ہے، یہ علاقے منشیات کی تجارت کا مرکز ہیں جس کے باعث تنازع کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔ لشکر گاہ میں رہائش پذیر میرے کئی دوست اب وہاں سے باہر نکلنے کا سوچ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لشکرگاہ اب بھی پہلے کی طرف مصروف نظر آتا ہے لیکن لوگ خوف کا شکار ہیں

وہ دن چلےگئے جب ہم ہلمند میں دریا کے کنارے بیٹھک لگاتے تھے، سورج کو غروب ہوتے دیکھتے، تازہ پھل کھاتے اور دوستوں کے ساتھ باتیں کرتے تھے۔ یہاں پہلے نئی گاڑیوں یا بیرون ملک چھٹیاں گزارنے کی باتیں ہوا کرتی تھی اور اب صرف یہاں سے نکلنے کی۔

اب گلیوں میں جو الفاظ سنائی دیتے ہیں وہ یہ کہ طالبان آ رہے ہیں۔ لیکن شہر چھوڑنا کوئی آسان انتخاب نہیں ہے۔ میرے دوستوں کا خاندان وہاں ہے، اُنھوں نے وہاں گھر اور کاروبار بنا لیے ہیں۔

نازک صورتحال

اِس علاقے سے 100 کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع سنگین کے حالات کے باعث عوام کے اعصاب بالکل ٹوٹ رہے ہیں۔

اگر مکمل صوبے کے بات کی جائے تو ہلمند ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

اِس وجہ سے نہیں کہ یہاں طالبان مضبوط ہو رہے ہیں بلکہ اِس لیے کہ یہاں افغان حکومت کمزور ہوتی نظر آرہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنگین کے رہائشی عصمت لشکرگاہ سےسے علاج کے بعد واپس گھر پہنچ رہے ہیں

نقادوں کا کہنا ہے کہ حکام ناقص قیادت، کرپشن، رابطوں میں کمی کا شکار ہیں، اور اِن سب وجوہات نے طالبان کو مضبوط بنادیا ہے۔

ایک طالبان رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اُنھیں زیادہ تر ہتھیار افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے فروخت کیے ہیں۔ اِس دعوے کی تصدیق تو ممکن نہیں ہے، لیکن طالبان سرکاری فوج کے ہتھیاروں استعمال کر رہے ہیں۔

ہلمند کے گورنر مرزا خان رحیمی جنھیں افغان خفیہ سروس کا کافی تجربہ بھی ہے۔ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنھوں نے اِن تمام الزامات کو مسترد کردیا کہ وہ بغاوت پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔

’پیچھے ہٹنا ایک جنگی حکمت عملی ہے اور ہم جلد ہی دشمن سے سارے علاقے کو صاف کرلیں گے۔‘

لیکن ہملند کے حکام میں مربوط رابطوں کے حوالے سے سوال اُس وقت اُٹھنا شروع ہوئے جب گورنر کے اپنے ہی نائب نے ملک کے صدر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر خط تحریر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ہملند پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو یہ طالبان کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔

افراتفری اور انتشار

ہلمند پولیس کے سربراہ عبدالرحمان سنجرنگ بھی خوب تنقید کی جا رہی ہے۔

سنجرنگ کے لفظی معنی ’جنگ میں قیادت کرنے والا‘ کے ہیں اور اُنھوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں یہاں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے لیے نہیں آیا ہوں، میں یہاں اُن سے جنگ کرنے آیا ہوں۔‘

مقامی افراد اب اُن کی تقریر کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اُن کا پہلا مشن مرجح کے علاقے میں تھا جہاں سے طالبان نے اُنھیں پیچھے دھکیل دیا۔اب یہ علاقہ ایک بار پھر تازہ جھڑپوں کی زد میں ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلمند دوسرا قندوز بن سکتا ہے جہاں گزشتہ سال طالبان نے قبضہ کرلیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہلمند کے گورنر مرزا خان رحیمی کا کہنا ہے کہ طالبان کے حملے کو پسپا کر دیا جائے گا

لیکن گورنر رحیمی کا کہنا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ اُنھوں نے مجھے بتایا کہ ’ہلمند قندوز نہیں ہے۔ ہمارے پاس فورس کے کافی جوان ہیں، یہاں رابطوں کا فقدان ہے لیکن یہ اُس طرح کا بالکل نہیں ہے۔‘

کوئی ریلیف نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہلمند کے گورنر مرزا خان رحیمی کا کہنا ہے کہ طالبان کے حملے کو پسپا کر دیا جائے گا

لیکن صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، خاص طور پر سنگین میں جہاں افغان سکیورٹی فورسز کا اب بھی فوج کی بریگیڈ سے رابطہ منقطع ہے جو کہ چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہی موجود ہے۔

ایک زخمی پولیس اہلکار نے مجھے صورتحال کا بتایا جو اُنھوں نے وہاں دیکھی تھی۔

’ہمارے لوگ زخمی تھے، لیکن ہمارے پاس کافی طبی سہولیات نہیں تھی اُن میں سے کچھ خون زیادہ بہہ جانے کے باعث ہماری آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئے۔ کیا ہمارے رہنما اُن کو ایسے ہی چھوڑ دیتے اگر وہ اُن کے بیٹے ہوتے؟‘

سنگین پر مکمل کنٹرول کے لیے آپریشن اب بھی جاری ہے۔ لیکن مبصرین کو اِس کی کامیابی کی اُمید بہت کم ہے، وہ گزشتہ گرمیوں میں ہلمند میں ہونے والے ’آپریشن ذوالفقار‘ کی مثال دیتے ہیں۔

جب میں لشکر گاہ گیا تو سنگین کے لیے گاڑیاں جانے والے بس اڈے پر ایک ڈرائیور نے بی بی سی کو بتایا کہ آپریشن ذوالفقار کی وجہ سے مقامی لوگ بہت نالاں ہیں۔’افغان فورسز نے 3,000 گھر تباہ کردیے اور کچھ نہیں کیا، یہ صرف زیادہ سے زیادہ دشمن بنارہے ہیں۔‘

میراث جو بھول گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قندھار کی سبزی مارکیٹ اب بھی مصروف ہے لیکن لوگ شہر کو چھوڑ کر جانے کا سوچ رہے ہیں

لشکر گاہ کے ہنگامی طبی مرکز میں حکام میں اعتماد کی کمی بھی نظر آئی۔

میں یہاں افواہوں کا ذکر کروں کہ کلینک میں زخمی سپاہیوں کے اعضا کاٹے جا رہے ہیں جن کو بچایا جاسکتا تھا یا پھر کسی دوسری جگہ علاج ممکن تھا۔

جس دن ہم نے سنگین کے دو پولیس افسران کا انٹرویو کیا اُس دن بھی آٹھ افراد زخمی ہوئے جن کو ہاتھ اور پیروں میں گولیاں ماری گئی تھی۔

ایک اہلکار نے بتایا: ’وہاں طالبان ہمارے سر قلم کررہے ہیں۔ یہاں ہنگامی مرکز صحت میں ہمارے اعضا کاٹے جا رہے ہیں۔‘

طالبان اِن تمام افواہوں، بداعتمادیوں اور پریشانیوں کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طالبان کی چیک پوسٹ اس پولیس چیک پوسٹ سے صرف آٹھ میل دور ہے

طالبان نے لشکر گاہ میں 600 ’چھپے ہوئے دہشت گرد‘ کی موجودگی کا دعویٰ کیا ہے، اُن کے مطابق جب طالبان شہر پر حملہ کریں گے تو یہ اندر سے اُن کا ساتھ دیں گے۔

یہ بیان بازی بھی ہوسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دریا کی دوسری جانب طالبان کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا سب صحیح ہے کے موقف پر اصرار کے باعث لشکر گاہ میں عوام کا سکیورٹی اور گورننس پر سے اعتماد ختم ہو رہا ہے۔

لیکن صوبے کے پولس چیف عبدالرحمان سنگرنگ کا اب بھی یہی کہنا ہے کہ ’ میں عوام سے یہ کہتا ہوں کہ اگر طالبان ہزار سال میں بھی یہاں داخل ہوگئے، تو سزا کے طور پر میں مقامی افراد سے اپنا سر تن سے جدا کروا لوں گا۔‘

اسی بارے میں