’ریاستی غداری‘ کے الزام میں انسانی حقوق کی وکیل گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وانگ یو پر ’ریاستی غداری‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے جس پر ممکنہ طور پر عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے

چین میں انسانی حقوق کی ایک ممتاز وکیل وانگ یو اور اُن کے شوہر کو غداری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وانگ پر ’ریاستی غداری‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے جس پر ممکنہ طور پر عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے اور اُن کے شوہر باؤ لونگجن پر ’ریاستی غداری پر اُکسانے‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پہلے ہی دونوں تقریباً چھ ماہ تک زیرِ حراست رہ چکے ہیں۔

چین میں وکلا اور اُن کے معاونین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے جس میں بڑی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں انسانی حقوق کے کم ازکم سات دیگر وکلا اور اُن کے ساتھیوں اسی طرح کے الزامات میں زیرِحراست لیا گیا ہے۔

وانگ اور باؤ بیجنگ کی قانونی فرم فینگروئی میں کام کرتے ہیں اور گذشتہ موسمِ سرما سے اُنھیں خفیہ طور پر زیر حراست رکھا گیا تھا۔

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کریک ڈاؤن کے دوران حراست میں لیے گئے وکلا میں سے بیشتر کو رہا کیا جا چکا ہے۔ حکام فینگروئی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو ہائی پروفائل کیسوں کے لیے مختص ہے۔

گذشتہ ماہ ایک اور انسانی حقوق کے ممتاز وکیل پی زیچائنگ کو ’نسلی منافرت پر اُکسانے‘ اور سماجی میڈیا پوسٹوں کے ذریعے ’تشدد پر اکسانے‘ پر ایک مختصر سماعت کے بعد معطل کر کے جیل کی سزا سُنائی گئی۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اس سزا کو ’چینی حکام کی جانب سے اظہارِ رائے کے ماہرین پر پابندی لگانے کی ایک دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔‘

اسی بارے میں