’باتونی‘ دماغ جلد بے ہوش نہیں ہوتا

Image caption جو افراد ابھی تک ہوش میں تھے ان کے دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان ابھی تک ’چٹر پٹر‘ جاری تھی

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن سے پہلے اگر دیکھ لیا جائے کہ مریض کا دماغ کتنا متحرک ہے تو ڈاکٹروں کو اس بات کا اندازہ کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے کہ مریض کو بےہوشی کی دوا کی کتنی مقدار درکار ہو گی۔

فی الحال کسی مریض کے لیے بےہوشی کی دوا کی مقدار کا تعین اس کے وزن کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔

تاہم برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ لوگ جن کے دماغ زیادہ متحرک ہوں یا ایسے مریض جن کے دماغ کے مختلف حصے میں آپس میں زیادہ ’چٹرپٹر‘ کرتے ہیں، انھیں بےہوش کرنے کے لیے زیادہ مقدار میں دوا دینا پڑتی ہے۔

نئی تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مدنظر رکھا جائے کہ مریض کا دماغ کتنا ’باتونی‘ ہے تو ڈاکٹروں کو اس بات کا تعین کرنے میں آسانی ہو گی کہ مریض کو کتنی دوا دینی ہے۔

حیاتیات اور طب کے شعبوں میں اعداد و شمار کے استعمال پر ہونے والی اس نئی تحقیق میں 20 صحت مند افراد پر تجربات کر کے دیکھا گیا ہے کہ جب انھیں بے ہوشی کے لیے عام طور پر استعمال ہونے والی دوا ’پروپوفول‘ دی گئی تو ان کے دماغ سے نکنے والے برقی پیغامات پر اس کے اثرات کیا تھے۔

آہستہ آہستہ بے ہوشی کی دوا کی مقدار میں اضافہ کرنے سے پہلے ان افراد کو بتایا گیا تھا کہ دوا دیے جانے کے بعد انھیں مختلف آوازیں سنائی جائیں گی اور ہر آواز پر انھیں مختلف بٹن دبانے ہوں گے۔

اس تجربے میں دیکھا گیا کہ جب تمام لوگوں کو دوا کی مکمل خوراک دے دی گئی تو ان میں کچھ لوگ اس کے بعد بھی آوازیں سننے پر مختلف بٹن دباتے رہے جبکہ باقی بےہوش چکے تھے۔

ماہرین کے مطابق جو افراد ابھی تک ہوش میں تھے ان کے دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان ابھی تک ’چٹرپٹر‘ جاری تھی۔

اس کے بعد تحقیقی ٹیم نے مشاہدہ کیا کہ جب یہ تمام افراد ہوش میں واپس آ گئے تو اس وقت بھی ان کی ای سی جی ایک دوسرے سے مختلف تھی اور جو لوگ دیر سے بےہوش ہوئے تھے ان کے دماغ دوسروں سے زیادہ متحرک تھے۔

Image caption دوا دینے کے بعد کچھ لوگ تو گہری نیند میں چلے گئے اور کچھ کے دماغ چلتے رہے

تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سری واس چنو کا کہنا تھا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’بے ہوشی کا عمل شروع کرنے سے پہلے مریض کا دماغ جتنا زیادہ متحرک ہوتا ہے اسے بےہوش کرنے کے لیے اتنی ہی زیادہ دوا درکار ہوتی ہے۔‘

تاہم ڈاکٹر سری واس چنو کے مطابق دماغ کے ’باتونی‘ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس شخص کا دماغ زیادہ مضبوط ہے کیونکہ ’ہر شخص کا دماغ دن کے مختلف حصوں میں زیادہ متحرک یا غیر متحرک ہوتا رہتا ہے اور اس کا انحصار اس پر بھی ہوتا ہے کہ آپ نے کتنی کافی یا چائے پی ہوئی ہے اور آیا آپ کی نیند پوری ہو چکی ہے یا نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی تحقیق ابھی ابتدائی مراحل ہے۔

تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر رچرڈ مارکس کہتے ہیں کہ ’یہ بتانا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ مریض مکمل نیند میں جا چکا ہے یا نہیں، اس لیے ماہرین کو چاہیے کہ وہ بےہوشی کی دوا کی مقدار کا تعین کرنے کا کوئی ایسا طریقہ دریافت کریں جو زیادہ قابلِ اعتماد ہو اور آسان بھی ہو۔

’کیونکہ اگر بےہوشی کی دوا بہت زیادہ ہو جائے تو اس سے مریض کو دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں