’ایک دن جفت اور ایک طاق کا‘ آزمائشی مہم مکمل

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس مہم کے دوران آلودگی کم کرنے میں مدد ملی ہے یا نہیں

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں حکام کی جانب سے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شہر میں نجی گاڑیوں پر پابندی کی دو ہفتوں کے لیے شروع کی جانے والی آزمائشی مہم ختم ہوگئی ہے۔

یکم جنوری سے شروع ہونے والی اس مہم کے تحت طاق اور جفت نمبروں والی لائسنس پلیٹ کے حساب سے ایک دن چھوڑ کر سڑک پر آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایک دن جفت کا، ایک دن طاق کا

دہلی کی آلودگی کا حل ’کار فری ڈے‘؟

دلی میں سانس لینا دوبھر، لوگ شہر چھوڑنے کی فکر میں

اس آزمائشی مہم کے دوران شہر میں تقریبا ایک چوتھائی گاڑیوں کو سڑک پر آنے سے روکا دیا گیا جس سے ٹریفک کی روانی سہل انداز میں ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق شہر میں 30 لاکھ گاڑیاں ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس مہم کے دوران آلودگی کم کرنے میں مدد ملی ہے یا نہیں۔

یہ مہم یکم جنوری سے آزمائشی بنیادوں پر شروع کی گئی تھی تاہم ہنگامی استعمال کی گاڑیاں مثلاً ایمبولینس، پولیس کی گاڑیاں، آگ بجھانے والی گاڑیاں اور ٹیکسیاں اس پابندی سے مستثنٰی تھیں۔

رواں سال موسم سرما میں دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔

شہر میں آلودگی کی سطح بین الاقوامی ادارہ صحت کی طے شدہ حد سے دس گنا زیادہ ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے آلودگی سے نمٹنے کے لیے دیے جانے والے حکم کے بعد مقامی حکام کی جانب سے حالیہ اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دہلی ہائی کورٹ نے فضائی آلودگی کے سبب دہلی کو ’گیس چیمبر‘ کہا تھا

نامہ نگاروں کے مطابق بیشتر ڈرائیوروں نے پابندی پر عمل درآمد کیا اور اس آزمائشی مہم کو سراہا۔

ایک مارکیٹنگ اگزیکٹیو اکشتھ متھارو نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’سفر اتنا مشکل نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہے تھے۔‘ وہ میٹرو ٹرین پر سفر کرتے ہیں۔

’سڑکیں دیکھیں ان پر بہت کم رش ہے۔ کس نے خیال کیا تھا کہ دہلی کی ٹریفک یوں روانی سے چلے گی؟‘

اس آزمائشی مہم کے دوران موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ ان گاڑیوں کو بھی تمام ایّام میں سڑکوں پر آنے کی اجازت تھی جو بطور ایندھن قدرتی گیس (سی این جی) کا استعمال کر تی ہیں جبکہ ہنگامی طبی امداد کے لیے مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی بھی اجازت تھی۔

اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ پر پڑنے والے ممکنہ اضافی دباؤ کے پیش نظر حکومت کی جانب سے رہائشی علاقوں سے شٹل سروس شروع کرنے کے لیے تین ہزار نجی بسوں کا انتظام کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں