’سنندا پشکر کی موت قدرتی نہیں تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption پولیس ابھی کسی بھی واضح نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہی ہے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس کا کہنا ہے کہ بھارت کے سابق نائب وزیر خارجہ اور کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمان ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کی موت قدرتی وجوہات سے نہیں ہوئی تھی۔

’دہلی پولیس چاہے تو پوچھ گچھ کے لیے لاہور آ سکتی ہے‘

سنندا کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم

دہلی پولیس کے کمشنر بی ایس بسی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ موت کی اصل وجہ کے بارے میں تفتیش مکمل ہونے سے قبل کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

سنندار پشکر دو سال قبل پر اسرار حالات میں نئی دہلی کے ایک ہوٹل میں مردہ پائی گئی تھیں اور ان کی موت مہینوں تک سرخیوں میں رہی تھی۔

نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈکل سائنسز نے بھی اپنی پہلی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کی موت قدرتی نہیں تھی، اس کے بعد سنندا پشکر کے بعض اندرونی اعضا کو جانچ کے لیے واشنگٹن میں ایف بی آئی کی لیب بھیجا گیا تھا۔

آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کے مطابق ایف بی آئی بھی اسی نتیجے پر پہنچی ہے۔

بی ایس بسی نے کہا میں ’موجودہ شواہد کی بنیاد پر وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی قدرتی نہیں تھی۔۔۔ لیکن تفتیش آگے کیا موڑ لیتی ہےاس بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنندا اپنے شوہرششی تھرور اور مہر تارڑ کے مراسم پر بہت ناراض تھیں

ایف بی آئی کی مدد یہ معلوم کرنے کے لیے لی گئی تھی کہ سنندا کی موت اگر قدرتی نہیں تھی تو انھیں کس قسم کا زہر یا کیمیاوی مواد دیا گیا تھا۔ تفتیش جاری ہے اور اس کیس میں ششی تھرور اور ان کے عملے سے کئی مرتبہ پوچھ گچھ کی جاچکی ہے۔

جنوری 2014 میں اپنی موت سے ایک دن پہلے سنندا پشکر اور پاکستانی صحافی مہر تارڑ کے درمیان سوشل میڈیا پر تلخ کلامی ہوئی تھی، سنندا اپنے شوہر اور مہر تارڑ کے مراسم پر بہت ناراض تھیں، اور ہفتوں تک اس خبر کے مختلف پہلوؤں پر قیاس آرائیاں جاری رہی تھیں۔

پہلے یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ سنندا کو پولونئم دے کر ہلاک کیا گیا تھا جو ایک تباکار مادہ ہوتا ہے۔ لیکن بی ایس بسی نے کہا کہ کسی تابکار مادے کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

لیکن پولیس ابھی کسی بھی واضح نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔ دو سال گزر جانے کےبعد بھی تفتیش ابھی جاری ہے اور کسی کو ملزم نہیں بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں