کیا تائیوان کی صدر گلوکارہ کی وجہ سے جیتی ہیں؟

Image caption چو زویو ’ٹوائس‘ نامی پاپ بینڈ کے اراکین میں واہد تائیوان سے تعلق رکھنے والی رکن ہیں

سنیچر کو تائیوان میں پہلی بار ایک خاتون سائے انگ وین صدر منتخب ہوئی ہیں۔

لیکن اُن سے ایک بہت ہی مختلف لڑکی نے غیر ارادی طور پر انھیں ووٹ حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

تائی پے کے شہر سے بی بی سی کی نامہ نگار سنڈی سوئی کا کہنا ہے کہ یہ 16 سالہ پاپ سٹار سب کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔

تائیوان سے تعلق رکھنے والی گلوکار اور رقاصہ چو زویو کوریا میں لڑکیوں کے ایک پاپ بینڈ ’ٹوائس‘ کا حصہ ہیں جنھوں نے انٹرنیٹ پر ایک شو میں غیر ارادی طور پر جمہوریہ چین( تائیوان کا سرکاری نام) کے پرچم کے ساتھ ساتھ کوریا کے پرچم کی تصاویر کا تبادلہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس کے بعد چین کے حق میں تائیوان سے تعلق رکھنے والی ایک مشہور شخصیت ہوانگ ان نے چو زویو کے بارے میں کہا کہ وہ چین سے تائیوان کی آزادی کی بڑی حمایتی ہیں۔

بیجنگ تائیوان کے جزیرے کو اپنا صوبہ اس بات کے باوجود سمجھتا ہے کہ سنہ 1949 میں چین میں خانہ جنگی کے اختتام سے لے کر اب تک دونوں اطراف کی الگ الگ حکومتیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube
Image caption ویڈیو میں چو زویو سادے ملبوسات پہنے ہوئے معافی مانگتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں

چو زویو کی جانب سے تصاویر شائع ہونے کے بعد چین کے ٹیلی وژن سٹیشن ’انہوئی‘ نے چینی نئے سال کی تقریبات پر نشر ہونے والے اپنے مشہور پروگرام سے ٹوائس کا ہونے والا ایک شو منسوخ کر دیا۔

چو زویو کی ٹیلنٹ اور میوزک پروڈکشن کمپنی ’جے وائے پی انٹرٹینمنٹ‘ نے مزید معاہدے کھو دینے کے خدشے پر چین میں گلوکارہ کے ہونے والے شوز بھی منسوخ کر دیے۔

اس کے بعد جو ہوا وہ صدر سائے انگ وین کی فتح میں مدد گار ثابت ہوا۔

انتخابات منعقد ہونے سے ایک دن قبل جے وائے پی انٹرٹینمنٹ نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو شائع کی جس میں چو نے نیچے جھک کر معافی مانگی۔

وہ کہتے ہوئے دکھائی دیں کہ ’صرف ایک ہی چین ہے۔ آبنائے تائیوان کے دونوں حصے ایک ہی ہیں۔ میں ہمیشہ اپنے آپ کو ایک چینی شہری سمجھوں گی اور مجھے اس بات پر فخر ہے۔ ایک چینی شہری ہونے کے طور پر مجھے بہت افسوس ہے کہ ملک سے باہر کام کرتے وقت میں نے ایک غلطی کی جس سے میری کمپنی کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ تائیوان کے دونوں اطراف میں لوگوں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سائے انگ وین کا کہنا ہے کہ چو زویو کا واقعہ ان کے لیے تائیوان کی طاقت دکھانے کے لیے ایک یاد دہانی رہے گا

اپنا بیان پڑھتے ہوئے چو نے مزید کہا: ’میں نے چین میں اپنی تمام سرگرمیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں دوبارہ سب سے معافی مانگتی ہوں۔‘

انتخابات کے دن جب تائیوان میں کئی لوگوں نے سو کر اٹھ کر یہ ویڈیو دیکھی تو ان میں غم و غصہ پایا گیا کہ تائیوان کے لیے یہ کتنی ذلت کی بات تھی کہ چو کو تائیوان کے ساتھ اپنے تعلقات کا اظہار کرنے پر معافی مانگنی پڑی تھی۔

چین میں کئی لوگوں کے لیے یہ ایک یاد دہانی ہے کہ تائیوان کو، جسے وہ ایک خود مختار ملک سمجھتے ہیں، سرکاری طور پر ایک الگ ملک تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔

تائیوان کے لوگوں کے لیے مایوسی کی ایک اور بات یہ ہے کہ ان کے ملک کو اقوام متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں میں رکنیت نہیں فراہم کی جاتی ہے۔

انتخابات سے ایک دن قبل فیس بک سمیت سماجی روابط کی ویب سائٹوں پر اس طرح کے تبصرے لکھے گئے: ’اگر آپ کو کسی بھی چیز بھلانے کے لیے زور ڈالا جائے تو آپ اسے بھولیں نہیں بلکہ ان کے خلاف بغاوت کریں جو آپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ آپ میں سے جنھوں نے ووٹ نہیں دیا وہ ووٹ ڈال کر لڑ سکتے ہیں۔ آج ڈی ڈے ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک مقامی کمپنی چو زویو کا کانٹریکٹ خرید کر انھیں واپس تائیوان میں کام کرنے کے لیے لانا چاہتی ہے تاکہ ان کے ساتھ ’بدسلوکی‘ نہ ہو سکے

پیر کو چو زویو کی ویڈیو فیس بک پر57 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھی گئی تھی جسے تین لاکھ سے زیادہ دفعہ ناپسند کیا گیا اور 22 ہزار دفعہ پسند۔

اگر یہ ویڈیو نہ بھی شیئر کی جاتی تو تب بھی سائے انگ وین انتخابات میں فتح حاصل کر پاتیں لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ان کی فتح میں ایک سے دو فیصد کی شراکت کی ہے۔

ان کی ’ڈیمو کریٹک پروگریسو پارٹی‘ (ڈی پی پی) نے روایتی طور پر تائیوان کی آزادی کی حمایت کی ہے اور سائے انگ وین خود کا کہنا ہے کہ تائیوان کا مستقبل اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات کا فیصلہ صرف تائیوان کے لوگ کر سکتے ہیں۔

جیتنے کے بعد انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ’یہ واقعہ ہمارے لیے ایک مسلسل یاد دہانی ہے کہ غیر ملکیوں کو ہماری طاقت اور اتحاد نظر آنا چاہیے اور جمہوریہ چین کی اگلی صدر بننے کے بعد یہ دکھانا میری سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہوگی۔‘

دریں اثنا ایک مقامی کمپنی چو زویو کا کانٹریکٹ خرید کر انھیں واپس تائیوان میں کام کرنے کے لیے لانا چاہتی ہے تاکہ ان کے ساتھ ’بدسلوکی‘ نہ ہو سکے۔

اسی بارے میں