ہر مرتبہ کیجریوال ہی کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہلی میں ایک جلسے کے دوران ان پر ایک خاتون نے سیاہی پھینک دی

یہ بھارتی ریاست دہلی کے وزیرِ اعلٰی اروند کیجریوال کے بارے میں ایک ایسی بات ہے جس کی تردید نہیں کی جا سکتی اور بات یہ ہے کہ جتنے حملے ان پر ہو چکے ہیں شاید ہی کسی اور سیاستدان پر ہوئے ہوں۔

وزیرِاعلٰی اروند کیجریوال پر اتوار کو اس وقت سیاہی پھینکی گئی جب وہ دہلی میں سڑکوں پر ٹریفک کم رکھنے کی آزمائشی مہم کی کامیابی کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلوس میں شریک تھے۔

15 جنوری کو ختم ہونے والی اس مہم کے تحت نجی گاڑیوں کو طاق اور جفت نمبروں والی لائسنس پلیٹوں کے حساب سے ایک دن چھوڑ کر سڑک پر آنے کی اجازت تھی۔

بھارتی سیاست دانوں پر پہلے بھی سیاہی، انڈے اور جوتے پھینکنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن بہت کم ہے کہ کسی ایک سیاست دان پر اس طرح کے تمام حملے ہو چکے ہوں۔

وزیرِاعلٰی اروند کیجریوال پر’روشنائی کے حملے‘ سے پہلے انڈے پھینکے جا چکے ہیں اور یہاں تک کہ ایک عوامی جلسے پر انھیں تھپڑ بھی مارا گیا۔

انھوں نے اس کے بارے میں ایک بار ٹوئٹ بھی کی کہ’میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیوں میرے پر بار بار حملے ہو رہے ہیں، اس کے سرغنہ کون ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں اور انھوں نے اس سے کیا حاصل کیا؟‘

اروند کیجریوال پر حملوں کے چند واقعات

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption وزیرِاعلٰی اروند کیجریوال پر’روشنائی کے حملے‘ سے پہلے انڈے پھینکے جا چکے ہیں

دہلی میں ٹریفک مہم کی کامیابی کے جلوس میں حملہ

اختتام ہفتہ پر دہلی میں اروند کیجریوال کی جماعت عام آدمی پارٹی نے دہلی میں ٹریفک پر پابندیوں کا احترام کرنے پر لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ایک جلسہ منعقد کیا۔ اس میں غیر متوقع طور پر ایک ڈرامہ اس وقت ہوا جب ایک خاتون نے کیجریوال پر سیاہی پھینک دی۔ اس خاتون نے مبینہ طور پر ’سی این جی سکینڈل‘ پر احتجاجاً یہ قدم اٹھایا۔

اس خاتون کی شناخت بھوانا ارورا کے نام سے ہوئی ہے اور انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ایک لاکھ سے زیادہ ’سی این جی‘ سٹکرز ایسی گاڑیوں کو فروخت کر دیے گئے ہیں جو کہ سی این جی ایندھن پر نہیں چلتی ہیں اور اس کا مقصد انھیں طاق اور جفت نمبروں والی لائسنس پلیٹوں کی مہم سے استثنیٰ دینا تھا۔

اس خاتون کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا جبکہ کیجریوال کے حامیوں نے اس واقعے کو یہ کہہ کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازش قرار دیا کہ وہ دہلی میں ٹریفک کی مہم کی کامیابی پر خوش نہیں ہے۔ تاہم کیجریوال نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ بھوانا ارورا کو جانے دیں۔

’اس کو چھوڑ دیں، وہ کسی سکینڈل۔۔۔ سی این جی سکینڈل۔۔ کا حوالہ دے رہی ہیں، ان سے دستاویزات لے لی جائیں۔ جب بھی ملک یا دہلی میں کچھ اچھا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کچھ طاقتیں اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption وارانسی میں ان پر انڈے اور پتھر پھینکے گئے

انڈوں سے حملہ

اصل میں ایک بھارتی پکوان کو انڈوں، پنیر اور مرچوں سے تیار کیا جاتا ہے لیکن An eggs-Kejriwa اب محاورہ بن گیا ہے جو زیادہ تر وزیراعلیٰ کیجریوال سے منسوب کیا جاتا ہے جن پر اپنے سیاسی کیرئیر میں متعدد بار انڈوں سے حملے ہو چکے ہیں۔

جنوری 2015 میں ایک شخص نے اس وقت دہلی میں کیجریوال پر انڈے اور پتھر پھینکے جب وہ ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ دہلی میں ایک ماہ پہلے وہ اسی طرح کے ایک حملے میں بچ گئے تھے۔

واراناسی (بنارس) میں خوش آمدید

کیجریوال کی جانب سے ہندوؤں کے مقدس شہر واراناسی میں وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف انتخاب لڑنے کے اعلان کو بہت سارے لوگوں نے حد سے زیادہ خود اعتمادی قرار دیا تھا۔ انتخاب میں حصہ لینے کے حوالے سے منعقد ایک بہت بڑے جلسے کے دوران ان پر سیاہی اور انڈوں سے حملہ کیا گیا۔

پہلے ایک مندر کے باہر ان کی گاڑی پر انڈے پھینکے گئے اور جب وہ جلسہ گاہ کی جانب روانہ ہوئے تو ان پر سیاہی پھینکی گئی۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سیاہی کے دھبے ان کے چہرے اور کپڑوں پر پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سیاہی کے دھبے ان کے چہرے اور کپڑوں پر پڑے

دہلی میں تھپڑ

دہلی میں انتخابی مہم کے دوران ان کی ایک آنھ اس وقت سوجھ گئی جب ایک رکشہ ڈرائیور نے ان کے گلے میں ہار ڈالتے ہوئے فوراً تھپڑ رسید کر دیا۔

38 سالہ حملہ آور کا کہنا تھا کہ اروند کیجریوال نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے تاہم اس شخص نے بعد میں معافی مانگ لی تھی۔

اس وقت اروند کیجریوال نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ’ کیا ملک کے مسائل کا جواب تشدد ہے؟ وہ جگہ اور وقت بتا دیں، میں وہاں پہنچ جاؤں گا، انھیں مجھے جتنا چاہے مارنے دیں، لیکن کیا اس سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟

یہ پہلی بار نہیں تھا کہ ان پر اس طرح کا حملہ کیا گیا ہو، بھارتی کے ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق ایک ماہ پہلے دہلی میں ایک جلوس کے دوران انھیں مکا مارا گیا تھا۔

اسی بارے میں