اروند کیجریوال پر سیاہی پھینکنے والی خاتون عدالتی تحویل میں

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اروند کیجریوال دہلی میں گاڑیوں کے لیے جفت اور طاق کے فارمولے کی کامیابی کے حوالے سے لوگوں کا شکریہ ادا کر رہے تھے

دلی کی ایک عدالت نے اتوار کو وزیر اعلی اروند کیجریوال پر سیاہی پھینکنے والی خاتون بھاونا اروڑا کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں 14 روز کے لیے عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔

منگل کو بھوانا کے وکیل سی ایل گپتا کا کہنا تھا کہ ’بھوانا کو اس عدالت میں انصاف نہیں ملا لیکن ہم سیشن کورٹ میں جائیں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ انھیں وہاں انصاف ملے گا۔‘

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سی ایل گپتا نے کہا کہ ’بھوانا سیاست کا شکار ہوئی ہیں۔ دہلی کے لوگ ان کے ساتھ ہیں اور ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔‘

بھوانا عام آدمی سینا کی پنجاب میں انچارج ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس عام آدمی پارٹی کی حکومت کے سی این جی سکینڈل میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے پاس مبینہ سی این جی سکینڈل سے متعلق سی ڈی موجود ہے۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اروند کیجریوال دلی میں گاڑیوں کے لیے جفت اور طاق کے فارمولے کی کامیابی کے حوالے سے لوگوں کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔

دریں اثنا دو خواتین اروند کیجریوال کے قریب آئیں اور ان پر سیاہی پھینک دی جس کے بعد بھوانا کو فوراً پولیس نے پکڑ لیا۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے پولیس اہلکاروں کو بھوانا کو چھوڑ دینے کے لیے کہا تھا۔

اسی بارے میں