’دشمن‘ کی جائیداد کی مالک اب بھارتی حکومت

تصویر کے کاپی رائٹ Atul Chandra
Image caption راجہ محمود آباد کی اس طرح کی کل جائیداد کی تعداد 936 ہے

بھارت میں ’دشمن کی جائیداد‘ سے متعلق ترمیم شدہ آرڈیننس 2016 کو صدر جمہوریہ کی منظوری ملنے کے بعد تقریبا 2050 املاک کا مالکانہ حق اب حکومت ہند کو حاصل ہو گیا ہے۔

1968 کے ’دشمن کی جائیداد ایکٹ‘ کے مطابق ایسی کسی جائیداد کی سرپرست حکومت ہوتی ہے۔

اتر پردیش کے راجہ محمود آباد کے نام سے معروف محمد امير محمد خان کے علاوہ وہ ہندوستانی شہری جن کے رشتے دار تقسیم ہند کے بعد یا پھر 1965 یا 1971 کی جنگ کے بعد بھارت چھوڑ کر پاکستان کے شہری بن گئے تھے، ان کی جائیداد ’دشمن کی جائیداد‘ کے زمرے میں آ گئی ہے۔

اب وہ ایسی جائیداد کو نہ تو فروخت سکیں گے اور نہ کسی کو دے سکیں گے۔

ترمیم شدہ آرڈیننس کے تحت یہ مالکانہ حق سنہ 1968 سے تصور کیا جائے گا۔

پاکستان سے سنہ 1965 میں ہونے والی جنگ کے بعد سنہ 1968 میں ’دشمن کی جائیداد (تحفظ اور رجسٹریشن) ایکٹ‘ منظور ہوا تھا، جس کے مطابق جو لوگ تقسیم ہند یا 1965 اور 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان چلے گئے اور وہاں کی شہریت لے لی تھی ان کی ساری جائیداد دشمن کی جائیداد قرار دے دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان سے سنہ 1965 میں ہونے والی جنگ کے بعد سنہ 1968 میں ’دشمن کی جائیداد (تحفظ اور رجسٹریشن) ایکٹ‘ منظور ہوا تھا

اس ایکٹ کی دفعات کو راجہ محمود آباد نے عدالت میں چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

لیکن ’دشمن کی جائیداد کے ترمیم شدہ آرڈیننس 2016‘ کے نفاذ اور ’دشمن شہری‘ کی نئی تعریف کے بعد ایسی املاک پر ان کے وارث بھارتی شہریوں کا مالکانہ حق ختم ہو گیا ہے۔

لکھنؤ، ممبئی اور حیدرآباد سمیت کئی مقامات پر دشمن جائیداد کا مالکانہ حق اب حکومت ہند کو حاصل ہے۔

راجہ محمودآباد کے والد سنہ 1957 میں پاکستان چلے گئے تھے۔ نئے آرڈیننس کے بعد ان کی لکھنؤ، سیتاپور اور نینی تال میں واقع کروڑوں کی جائیداد پر ایک بار پھر کسٹوڈین (سرپرست) کا مالکانہ حق ہو گیا ہے۔

محمود آباد لکھنؤ کے نزدیک سیتاپور ضلع کی بڑی تحصیل ہے۔

لکھنؤ میں راجہ محمود آباد کی املاک میں بٹلر پیلس، محمود آباد ہاؤس اور حضرت گنج کی بہت سی دکانیں شامل ہیں۔

وہیں سیتاپور کے ضلع مجسٹریٹ، سینیئر پولیس سپرنٹنڈنٹ اور چیف میڈیکل افسر کی رہائش بھی بادشاہ محمود آباد کی جائیداد کا حصہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption تقسیم ہند میں لاکھوں افراد کو ایک ملک سے دوسرے میں ہجرت کرنا پڑی تھی

راجہ محمود آباد کی اس طرح کی کل جائیداد کی تعداد 936 ہے۔

سنہ 1973 میں اپنے والد کی موت کے بعد راجہ صاحب محمود آباد، اودھ زمین ایکٹ 1869 کے تحت اس کے وارث ہوئے اور انھوں نے ان پر اپنا حق طلب کیا تھا۔

طویل مقدمے کے بعد سنہ 2005 میں راجہ آف محمود آباد سپریم کورٹ میں اپنی اور دیگر ایسی املاک سے ’دشمن‘ لفظ ہٹوانے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد ان کو اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں موجود ان کی جائیداد پر مالکانہ حق ملا تھا۔

راجہ محمود آباد کہتے ہیں: ’اس جنگ میں ہم اکیلے نہیں ہیں اور کئی دوسرے لوگ ایسے ہیں جو اس نئے آرڈیننس کے بعد اپنی جائیداد پر مالکانہ حق کھونے سے اپنے ملک میں دوسرے درجے کے شہری ہو جائیں گے۔‘

امير محمد خان کے بیٹے علی خان کہتے ہیں کہ یہ بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ علی خان کہتے ہیں: ’آرڈیننس تو ہنگامی صورت حال میں لایا جاتا ہے۔ ایسی کون سی ہنگامی صورتِ حال تھی کہ آرڈیننس کا سہارا لینا پڑا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2005 میں راجہ محمود آباد سپریم کورٹ میں اپنی اور دیگر ایسی املاک سے ’دشمن‘ لفظ ہٹوانے میں کامیاب ہو گئے تھے

اتر پردیش حکومت میں محصول کے سیکریٹری سریش چندرا نے اس پر کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا: ’ابھی تک ہم نے اس کے بارے میں صرف اخباروں میں پڑھا ہے، جب تک ہمارے پاس آرڈیننس کی نقل نہیں آ جاتی ہم اس پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

لکھنؤ کے علاقے حضرت گنج میں واقع ایک شوروم کے مالک سندیپ کوہلی، جو سپریم کورٹ میں راحہ محمود آباد کے مقدمے میں مدعا علیہ نمبر پانچ ہیں، اس آرڈیننس سے خوش ہیں کیونکہ ان کا شوروم بھی راجہ محمود آباد کی جائیداد کا حصہ ہے۔

سندیپ کوہلی کہتے ہیں کہ سنہ 2010 میں بھی آرڈیننس آیا تھا اور اس پر پارلیمنٹ میں بل منظور ہونا تھا جو نہیں ہو سکا تھا۔ انھیں امید ہے کہ اس بار بل منظور کیا جائے گا۔

راجہ محمود آباد کا الزام ہے کہ اس قانون کے پس پشت غلط نیت کار فرما ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’ممبئی میں کروڑوں کی دشمن جائیداد کو چند لاکھ میں فروخت کر دیا گیا تھا۔‘

اسی بارے میں