محبوبہ مفتی کا مخمصہ

Image caption محبوبہ سعید نے وزارتِ اعلی کا عہدہ سنبھالنے میں تاخیر کر کے ریاست کی تاریخ سے ناطہ توڑ دیا ہے

سات جنوری کو وزیرِ اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں خلفشار قائم ہے اور ریاست کو بحرانی کیفیت سے نجات نہیں مل رہی۔

مفتی محمد سیعد کی بیٹی اور ان کی سیاسی وارث محبوبہ مفتی ابھی تک وزارتِ اعلٰی کا حلف اٹھانے سے انکار کر رہی ہیں، جس کا واضح نتیجہ یہی نکلے گا کہ ریاست پر بھارت کی مرکزی حکومت کا اختیار بڑھتا جائے گا۔

ریاست میں آخری انتخابات کے بعد سے مفتی سعید بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ایک ایسے پیچیدہ اتحاد کی قیادت کر رہے تھے جو انھوں نے پس پردہ جوڑ توڑ اور مذاکرات کے طویل دور کے بعد ترتیب دیا تھا۔

سنہ 2014 کے ریاستی انتخابات میں ریاست کے ہندو اکثریتی علاقے جموں میں بی جے پی نے 25 نشتیوں جیتی تھیں جبکہ مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں مفتی سیعد کی پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کے حصے میں 28 نشتیں آئی تھیں۔

کشمیریوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کے خلاف ہے، اسی لیے جب مفتی سیعد انتخابات سے پہلے اس جماعت کے ساتھ جوڑ توڑ کر رہے تھے تو پی ڈی پی کے کئی رہنماؤں کو خدشہ تھا کہ ریاست میں ان کا ووٹ بینک پی ڈی پی سے دور ہو جائے گا۔

لیکن مفتی سیعد نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے فیصلے کا دفاع کیا۔ ان کی توجیح یہ تھی کہ وہ ہندو اکثریتی جموں اور مسلمان اکثریتی کشمیر کو ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے سے جوڑنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ سال انھوں نے کہا تھا کہ ’میں ریاست کو مذہی بنیادوں پر مزید تقسیم نہیں کرنا چاہتا۔‘

اتحاد کی مصیبت

اُس وقت نہ صرف مفتی سیعد نے اس عوامی رائے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے سے کشمیر میں آر ایس ایس کے ہندو بنیاد پرستوں کے لیے دروازے کھل جائیں گے، بلکہ وہ اس سے بھی دو قدم آگے چلے گئے اور کہہ دیا کہ نریندر مودی ’مذہبی تفریق کے بالکل قائل نہیں ہیں۔‘

Image caption مفتی سیعد ہندو اکثریتی جموں اور مسلمان اکثریتی کشمیر کو ایک دوسرے سے جوڑنا چاہتے تھے

انھوں نے کشمیر کے عوام کو یقین دلایا کہ حکمران اتحاد ان تمام وعدوں پر پورا اترے گا جو ’ اتحاد کا ایجنڈا‘ کے عنوان سے عوام کے سامنے پیش کیے جا چکے تھے۔

لیکن بی جے پی اور پی ڈی پی کا اتحاد گزشتہ دس ماہ میں ان وعدوں پر کم ہی پوا اتر پایا ہے۔

مثلاً ستمبر 2014 کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے گھرانوں کے لیے جس امدادی پیکج کا وعدہ کیا گیا تھا اس پر عمل درآمد نومبر سنہ 2015 تک لٹکا رہا اور جب عمل ہوا بھی تو امداد لوگوں کی توقعات اور اتحاد کے وعدوں سے کم ثابت ہوئی۔

اسی طرح ایجنڈے میں دیے گئے تمام وعدے دھرے کے دھرے رہے اور سنہ 1990 کی دہائی میں وادی سے مجبوراّ نقل مکانی کر جانے والے پنڈتوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کی مدد کے علاوہ، حکمران اتحاد نے کچھ بھی نہیں کیا۔

Image caption محبوبہ مفتی کو ملال ہے کہ وزیرِ اعظم مودی نے ان کے والد کے ساتھ ’اچھا سلوک نہیں کیا‘

اگرچہ پی ڈی پی کے رہنما نعیم اختر کا کہنا تھا کہ اتحاد کا ایجنڈا ایک مقدس دستاویز ہے، لیکن لگتا ہے کہ بی جے پی نے اسے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ بی جے پی کے کئی ارکانِ اسمبلی نے ایجنڈے کے ایک اہم وعدے کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے بھارتی آئین کی شِق ’35 اے‘ کو ہی چیلنج کر دیا۔ یہ وہ شق ہے جس کے تحت بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کو مخصوص تشخص حاصل ہے۔اس کے علاوہ بی جے پی کے ارکان نے آئین کی شق 370 کے بارے میں کئی متنازعہ بیانات بھی دیے جس کے تحت کشمیر کی خود مختاری کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

اگر مفتی سعید کے دور کے اس ’بوجھ‘ کو مدِ نظر رکھا جائے تو جب محبوبہ مفتی اپنے والد کی نشست پر بیٹھیں گی تو انھیں شدید مشکل کا سامنا ہوگا۔

جماعت کے اندر کے ذرائع بتاتے ہیں کہ با آوازِ بلند حزبِ اختلاف کی نمائندگی کرنے والی محبوبہ مفتی اس وقت تک بے چین رہیں گی جب تک ان کی جماعت موجودہ حکمران اتحاد کے اندر رہے گی۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ شروع سے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کےحق میں نہیں تھیں لیکن اپنے والد کی وجہ سے وہ اپنے اختلافات کا کھل کر اظہار نہیں کرتی تھیں۔

مگر آج جماعت نے حکمران اتحاد کے مستقبل کا فیصلہ محبوبہ مفتی کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔

تاریخ سے ناطہ توڑنا

محبوبہ مفتی کو اس بات کا ملال بہت ہے کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران وزیرِ اعظم مودی نے ان کے والد کے ساتھ ’اچھا سلوک نہیں کیا۔‘

اگرچہ پی ڈی پی نے نومبر میں وزیرِ اعظم مودی کی سرینگر آمد کے موقع پر ایک بہت بڑے جلسۂ عام کا انعقاد بھی کیا، لیکن اس کے باجود مسٹر مودی نے کھلے عام مفتی سعید کو یہ کہہ کر ڈانٹ دیا کہ پاکستان کے معاملے میں انھیں مفتی سعید کے مشورے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مسٹر مودی نے یہ ترش جواب مفتی سیعد کی تقریر کے جواب میں دیا تھا جس میں انھوں نے مسٹر مودی سے بار بار کہا تھا کہ انھیں پاکستان کے ساتھ جھگڑا ختم کر دینا چاہیے۔

محبوبہ سعید نے وزارتِ اعلٰی کا عہدہ سنبھالنے میں تاخیر کر کے ریاست کی تاریخ سے ناطہ توڑ دیا ہے کیونکہ ماضی میں کسی وزیرِاعلٰی نے اپنا حلف اٹھانے میں اتنی دیر نہیں لگائی۔ مثلاّ جب 8 ستمبر 1962 کو اس وقت کے وزیر اعلٰی، شیخ عبداللہ، کا انتقال ہوا تو وزارتِ اعلٰی کی چھڑی اسی شام ان کے بیٹے کے ہاتھ میں دے دی گئی تھی۔

اسی طرح راجیو گاندھی نے بھی وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اسی دن اٹھا لیا تھا جس دن ان کی والدہ اندراگاندھی کو ہلاک کیا گیا تھا۔

لیکن یہ جاننے کے باوجود کہ اپنے والد کی موت کے بعد یہ ذمہ داری انھوں نے ہی سنبھالنی ہے، محبوبہ مفتی نے اپنے والد کی وفات پر وہ گاڑیاں بھی واپس بھجوا دیں جو ریاست کے وزیرِاعلٰی کو ملی ہوتی ہیں۔

محدود حل

محبوبہ سعید کی جانب سے ہونے والی اس تاخیر نے بی جے پی کو پریشان کر دیا ہے۔

کشمیر میں بی جے پی پہلی مرتبہ اقتدار میں ہے اور اگر آپ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ گزشتہ چند ماہ میں جموں و کشمیر میں جماعت کی ساکھ خراب ہو چکی ہے، تو بی جے پی کے لیے زیادہ دیر تک اقتدار سے باہر رہنا کوئی اچھا شگون نہیں۔

Image caption ائع کا کہنا ہے کہ وہ شروع سے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کےحق میں نہیں تھیں

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا پی ڈی پی، بی جے پی کو چھوڑ سکتی ہے؟

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پی ڈی پی کے پاس زیادہ راستے نہیں ہیں۔ اگر وہ کانگریس پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا لیتی ہے اور کچھ آزاد ارکان بھی پی ڈی پی کی حمایت کر دیتے ہیں، تو تب بھی یہ نیا اتحاد کمزور ہوگا اور یہ اتحاد وفاقی حکومت سے اپنی باتیں منوا نہیں سکے گا۔

پی ڈی پی کے کئی ارکان یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ بی جے پی کے ساتھ ان کا اتحاد جاری رہے گا اور محبوبہ مفتی بھی کہہ چکی ہیں کہ وہ اپنے والد کے فیصلوں کو تبدیل نہیں کریں گی۔

محبوبہ مفتی کے بقول ’ میں کچھ وقت ضرور لوں گی۔ اتحاد کا ایجنڈا اپنی جگہ موجود رہے گا لیکن میں اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہوں گی کہ میں مفتی صاحب کے خوابوں کو بھی شرمندہ تعبیر کر سکوں، خاص طور وہ خواب جو انھوں نے ریاست کی آئندہ سیاست اور ترقی کے حوالے سے دیکھے تھے۔‘

’اگر عوام کی بھلائی اور ایجنڈے کی روح پر عمل کرتے ہوئے میں ختم بھی ہو جاتی ہوں تو بھی مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا۔‘

جب تک یہ واضح نہیں ہوجاتا کہ محبوبہ مفتی ’اتحاد کے ایجنڈے‘ پر قائم رہیں گی اور دہلی سے ’مزید وعدے‘ بھی پوار کرنے کو کہیں گی، اس وقت تک ریاست کا سیاسی مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بی جے پی اور پی ڈی پی، دونوں کے لیے اقتدار میں رہنا بہت ضروری ہو چکا ہے کیونکہ اپنے اپنے اکثریتی علاقوں میں دونوں کے پاؤں تیزی سے اکھڑ رہے ہیں۔

اسی بارے میں