ایرانی صدر کی اصلاح پسند امیدواروں پر ’پابندی‘ پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ TASNIM
Image caption ’انتخابات میں صحت مندانہ مقابلہ ہونا چاہیے‘

ایران کے صدر حسن روحانی نے آئندہ ماہ منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں امیدواروں کی جانچ پڑتال کرنے والی کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ اصلاح پسند امیدواروں کی زیادہ تعداد کو حصہ لینے کی اجازت دے۔

ٹی وی پر تقریر میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پارلیمان ’لوگوں کا ایوان‘ ہے اور کسی مخصوص گروہ کے لیے نہیں ہے۔

انھوں نے اس کے ساتھ ساتھ خبردار بھی کیا ہے کہ اگر حریف یا مدِمقابل ہی نہ ہوئے تو انتخابات بےمقصد ہوں گے۔

صدر حسن روحانی نے اپنی تقریر میں زور دیا کہ انتخابات کے دوران صحت مندانہ مقابلہ ہونا چاہیے۔

’ہمیں لازمی امید، جوش و جذبہ اور مقابلے کی فضا قائم کرنی چاہیے، اگر صرف ایک ہی سیاسی فریق ہو گا اور دیگر نہیں ہوں گے تو انھیں 26 فروری کے انتخاب کی ضرورت نہیں، وہ پارلیمان میں چلے جائیں لیکن کوئی بھی اہلکار عوام کے ووٹ کے بغیر قانونی نہیں ہو گا۔‘

صدر روحانی کے مطابق انھوں نے گارڈین کونسل یعنی شورائے نگہبان کی جانب سے امیداروں کی نااہلیوں کے معاملے پر بات چیت کے لیے نائب صدر احسن جہانگیری کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption پارلیمان کی 290 نشستوں کے لیے 26 فروری کو انتخابات منعقد ہوں گے

جمعرات کو ایرانی صدر کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی نو گروپوں نے کہا ہے کہ امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے والی شورائے نگہبان نے درخواست دہندگان میں سے صرف ایک فیصد اصلاح پسند امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی ہے۔

اس کمیٹی کی جانب سے زیادہ تر کو اس وجہ سے نااہل قرار دیا گیا کہ وہ قابل ذکر حد تک موجودہ حکومتی نظام سے وفادار نہیں ہیں۔

اس کمیٹی میں قدامت پسند اکثریتی پارلیمان کی جانب سے منتخب کردہ چھ جج اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے نامزد کردہ چھ مذہبی رہنما شامل ہیں۔

تقریباً 12 ہزار افراد نے 26 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے درخواست دی تھی۔ ان انتخابات میں پارلیمان کے 290 ارکان اور ماہرین کی اسمبلی کے 88 ارکان کا انتخاب کیا جائے گا۔

شورائے نگہبان کی جانب سے مسترد کیے جانے والے 7300 امیدواروں میں کچھ قدامت پسند بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران میں 2009 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف اصلاح پسندوں کے احتجاج کے بعد سے اصلاح پسندوں کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں

تاہم اصلاح پسند گروپوں کا کہنا ہے کہ انھیں ہدف بنایا گیا ہے اور ان کے تین ہزار امیداروں میں سے صرف 30 کو انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب شورائے نگہبان کے سربراہ آیت اللہ احمد جنتی ہے کہنا ہے کہ ان کے ارکان کسی دباؤ سے متاثر نہیں ہوں گے تاہم ان کے نائب نے کہا ہے کہ نااہلی کے فیصلوں پر دوبارہ جائزے میں نااہل قرار دیے گئے 15 فیصد امیدوار اہل ہو جائیں گے۔

کمیٹی امیدواروں کی حتمی فہرست چار فروری کو جاری کرے گی۔

نمایاں اصلاح پسند سیاست دان حسین مرعشی کا کہنا ہے کہ ’ایرانی تاریخ میں سب سے زیادہ امیداروں کو نااہل قرار دیا گیا ہے لیکن اصلاح پسندوں کا انتخابات کے بائیکاٹ کا کوئی منصوبہ نہیں، ہم لڑیں گے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ شدت پسند ابھریں۔‘

اسی بارے میں