’بےوفا خاوند کو سبق سکھانے کے لیے بچے مار ڈالے‘

تصویر کے کاپی رائٹ majid jahangir
Image caption سینیئر پولیس افسر کے مطابق گذشتہ 15 سال میں جموں کشمیر میں جنسی زیادتیوں کے ڈیڑھ ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی قصبے کوکر ناگ میں پولیس نے کہا ہے کہ چار سالہ عمران اور اس کی دوسالہ بہن چاندنی کے قتل کیس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ دراصل ان کی ماں رقیہ نے اپنے خاوند کی مبینہ بےوفائی کا انتقام لینے کے لیے اپنے دونوں کم سن بچوں کو قتل کر دیا تھا۔

پولیس کے ترجمان نے ایک طویل بیان میں کہا کہ جائے واردات سے رقیہ کو زخمی حالت میں پایا گیا، جس سے پولیس نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ماں نے بچوں کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد اُسی ہتھیار سے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ رقیہ کے خاوند طارق کا پڑوس کی ایک خاتون کے ساتھ معاشقہ چل رہا تھا اس لیے اس نے اپنے ’بےوفا خاوند کو سبق سکھانے کے لیے اس کے دونوں بچوں کو قتل کر دیا۔‘

پولیس کے ترجمان منوج کمار نے بی بی سی کو بتایا: ’ابھی اس کیس کی تحقیقات چل رہی ہیں، اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آخر رقیہ اس قدر سنگین اقدامات کن حالات میں کیے۔‘

Image caption لوگ عدم تحفظ کا شکار تو ہیں ہی، اس کے ساتھ انھیں معاشی غیریقینی کا بھی سامنا ہے، اس سے لوگوں میں برداشت اور رشتوں کی تعظیم کا جذبہ کمزور ہوگیا ہے

اس سے قبل پولیس نے سرینگر کے ایک نوجوان اویس ملک کے قتل کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بچپن کا دوست احسان دراصل غیرفطری جنسی رحجان کا شکار تھا، اور اسی دوست نے اویس کے ساتھ فون پر لڑکی کی آواز میں کئی ماہ تک بات کی۔

پولیس افسر غلام حسن بٹ کا کہنا ہے: ’جب اویس نے ملنے کی ضد کی تو احسان اس سے ملا اور کہا کہ جسے وہ لڑکی سمجھ رہا تھا وہ دراصل وہی ہے۔ اس پر دونوں میں جھگڑا ہوا اور احسان نے اویس کو مار ڈالا۔‘

کشمیر میں اس طرح کے جرائم غیرمعمولی ہیں اور ان کے انکشاف سے سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر پھیل گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سماجی جرائم کی شرح مسلح شورش کے واقعات سے 13 گنا زیادہ ہے۔ ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ گذشتہ 15 سال میں جموں کشمیر میں جنسی زیادتیوں کے ڈیڑھ ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر ارشد حسین کہتے ہیں کہ کشمیر میں مسلسل سیاسی غیریقینی اور عدم تحفظ کے احساس نے عام لوگوں کے سماجی رویوں میں تغیر پیدا کر دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’لوگ عدم تحفظ کا شکار تو ہیں ہی، اس کے ساتھ انھیں معاشی غیریقینی کا بھی سامنا ہے۔ اس سب سے لوگوں میں برداشت اور رشتوں کی تعظیم کا جذبہ کمزور ہوگیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption خواتین کو تحفظ دینے کے لیے ایک علیحدہ پولیس تھانہ بھی ہے، لیکن خواتین پر ظلم اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے

مبصرین کا کہنا ہے کہ سماجی جرائم میں اضافے کی وجہ جوابدہی کا فقدان بھی ہے۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ کی پولیس فورسز کی ساری توجہ ہند مخالف شورش کو دبانے میں لگی ہوئی ہے، لہٰذا معمول کی پولیسنگ ناقص ہے۔

کالم نویس شفاعت فاروق کہتے ہیں: ’جب لوگوں کو یہ احساس ہو جائے کہ قتل کرنے پر کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑتا، تو جرائم میں اضافہ لازمی ہے۔‘

اس دوران خواتین کو تحفظ دینے کے لیے ایک علیحدہ پولیس تھانہ بھی ہے، لیکن خواتین پر ظلم اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نفسیات کے ماہرین کاکہنا ہے کہ کشمیر میں ٹیکنالوجی اور جدید طرز زندگی ایسے وقت متعارف ہوئی ہے جب سیاسی اور معاشی حالات جوں کے توں ہیں۔ ایسے میں انسانی رشتوں کا بحران پوری قوم کے لیے ایک بہت بڑے چیلنج کی صورت میں اُبھرا ہے۔

بعض حلقے کہتے ہیں کہ مذہبی تنظیمیں اس صورت حال میں اہم کردار ادا کر سکتی تھیں لیکن وہ سبھی فقط اپنے اپنے موقف کی اشاعت اور مخالف موقف کی تردید میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں