مودی طاقت کے شیدائی، شہرت کے جادوگر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارتی وزیر ا‏عظم نریندر مودی کو خطابت اور سیاحت کا شوق ہے

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی 26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقعے پر وزیر اعظم کی حیثیت سے دوسری مرتبہ شرکت کریں گے۔

یو م جمہوریہ کی پریڈ کی تاریخ میں غا لبا یہ پہلا موقع ہوگا جب بھارت کی قومی پریڈ میں ملک کی مسلح افواج کی ٹکڑیوں کے ساتھ ساتھ فرانسیسی فوج کا بھی ایک دستہ پریڈ میں حصہ لے گا۔

فرانسیسی فوجییوں کا دستہ ان دنوں دارالحکومت دہلی میں پریڈ کی مشق کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس بار پریڈ کی قیادت فرانسیسی فوجی کریں گے۔

یوم جمہوریہ کی تقریب میں روایت کے مطابق ہر برس دنیا کے کسی سربراہ حکومت یا مملکت کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے گذشتہ برس امریکہ کے صدر براک اوباما کو دعوت دی تھی۔ اس بار فرانس کے صدر فرانسوا اولاند مہمان خصوصی ہوں گے۔

فرانسیسی صدر کا انتخاب مودی نے غالـبا پیرس پر دہشت گردوں کے حملے کے پس منظر میں کیا ہے۔ اس حملے کی یادیں ابھی تازہ ہیں اور بھارت میں بھی فرانس کے درد کو بہت شدت سے محسوس کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ www.bjp.org
Image caption مودی علامتوں کی اہمیمت کے قائل ہیں

وزیر اعظم مودی علامتوں کی اہمیمت کے قائل ہیں۔ ایک طرف وہ فرانسوا اولاند کے ساتھ تجارتی اور دفاعی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہوں گے تو دوسری جانب وہ بھارت کو فرانس کے ساتھ دہشت گردی کے ایک مظلوم قوم کے طور پر پوری دنیا میں اجاگر کر سکیں گے۔

مودی کو بین اقوامی امور میں گہری دلچسپی ہے اور وہ یوم جمہوریہ پر دنیا کے ایک اہم عالمی رہمنا کے ساتھ پریڈ میں بیٹھ کر بھارت کے عوام کو دنیا کے رہنماؤں کے درمیان اپنے بڑھتے ہوئے ذاتی اثر رسوخ کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے۔

فرانسوا اولاند مودی سے رفائل اور میراج جنگی جہازورں، جوہری آبدوزوں اور کئی جوہری ری ایکٹروں کی فروخت پر بات چیت کریں گے۔ دفا‏عی ماہرین کے تخمینوں کے مطابق ان چیزوں کی مالیت تقریبا 30 ارب ڈالر ہے۔

فرانسیسی صدر کے ساتھ وزیر اعظم مودی بعض پروگراموں اور سکیموں کا بھی افتتاح کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مودی حکومت نے کئی پروگرام کی ابتدا کی ہے لیکن اسے ابھی کامیابی نہیں مل سکی ہے

مودی کا طرز سیاست امریکی ساخت کا ہے۔ وہ کوئی بھی ایسا موقع نہیں کھونا چاہتے جس سے انھیں شہرت اور مقبولیت حاصل ہو اور ایسی کسی جگہ پر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے جہاں وہ خود نمائی نہ کر سکیں۔

انھوں نے حکومت کے اہم اختیارات بھی اپنے ہاتھوں میں رکھے ہیں اور مختلف وزارتوں کے بڑے اور اہم فیصلوں کا اعلان وہ خود ہی کرتے ہیں۔ پچھلے دو برس میں مختلف سکیموں کے لیے کئی طرح کے نعرے بھی وہ دے چکے ہیں۔ ’سووچھ بھارت‘، ’میک ان انڈیا‘ اور ’سٹارٹس اپ انڈیا‘ جیسی کئی سکیموں کا وہ پچھلے چند مہینوں میں اعلان کر چکے ہیں۔

انھیں پروگراموں اور اہم موقعوں پر تقریر کرنے کا بہت شوق ہے لیکن وہ سوال کیا جانا پسند نہیں کرتے۔ وہ اپنی حکومت اور خود اپنی تنقید کو نظر انداز کرتے ہیں اور ان کا جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔

Image caption اس بار فرانس کے صدر اولاند بھارتی یوم جمہوریہ پر مہمان خصوصی ہوں گے

وزیر اعظم مودی انتہائی چاق وچوبند اور توانا رہمنا ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ روزانہ صبح پانچ بجے اٹھنے کے بعد یوگا کرتے ہیں اور پھلوں کا ہلکا سا ناشتہ لے کر کام پر لگ جاتے ہیں اور رات دیر گئے تک کام کرتے رہتے ہیں۔ ان کے وزرا اور اعلی حکومتی اہلکار ان سے ڈرتے ہیں۔

مودی اندرون ملک یا غیر ممالک کے دورے پر ہمیشہ ایسے پروگراموں کا انتخاب کرتے ہیں جو ٹیلی ویژن پر نشر کیے جا سکیں۔ وہ ہر مہینے ’من کی بات‘ کے عنوان کے تحت امریکی صدر کی طرح ریڈیو پر بھارتی عوام سے خطاب کرتے ہیں۔

نئی حکومت کے قیام کے ڈیڑھ برس گزرنے کے بعد بھی حکومت ملک میں اقتصادی یا انتظامی سطح پر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکی ہے۔

مودی کی مقبولیت وقت گزرنے کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔ مغربی بنگال، آسام اور پنجاب جیسی کئی اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں ۔ دہلی اور بہار کے انتخابت میں شکست کے بعد یہ انتخابات مودی اور ان کی جماعت کے لیے بہت اہم ہیں۔

وزیر اعظم فروری میں اپنی حکومت کا نیا بجٹ پیش کیے جانے ساتھ ایک بار پھر انتخابی میدان میں ہوں گے۔ ان کی انتخابی مہم اور تمام اشتہاروں کا محور وہ خود ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Press Information Bureau
Image caption مودی نے کلین انڈیا کمپین بھی شروع کر رکھی ہے

وزیر اعظم کے قومی سیاست میں آنے کے بعد سیاسی جماعتیں پس منظر میں چلی گئی ہیں اور انفرادی رہنما سیاست کی شناخت بن گئے ہیں۔ اس نئی ساخت کی سیاست میں فی الحال مودی کو سبقت حاصل ہے۔

اسی بارے میں