نیتا جی سے متعلق خفیہ فائلیں عام کر دی گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Narendra Modi
Image caption وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بوس خاندان سے ملاقات کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ 70 برس قبل بوس کی گمشدگی سے متعلق فائلوں کو حکومت عام کرے گی

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آزاد فوج کے بانی نیتا جی سبھاش چندر بوس کی 119 ویں سالگرہ کے موقعے پر ان کی زندگی اور متنازع موت سے متعلق خفیہ فائلز کو عام کر دیا ہے۔

یہ ڈیجیٹل فائلز بھارت کی قومی آرکائیو پر دستیاب ہے۔ نریندر مودی نے بوس خاندان اور یونین وزراء کی موجودگی میں ایک بٹن دبا کر ان فائلوں کو عام کیا۔

بوس خاندان کے ترجمان اور سبھاش چندر بوس کے پوتے چندرا کمار بوس کا کہنا تھا ’غیر خفیہ ہونے بعد ہم نے اب تک تمام فائلیں نہیں دیکھی ہیں۔اب تک ان کی موت کے حوالے سے صرف واقعاتی شواہد ہیں کہ فضائی حادثہ تھا تاہم اس کے کوئی حتمی شواہد نہیں ہیں۔‘

گذشتہ برس اکتوبر میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بوس خاندان سے ملاقات کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ 70 برس قبل بوس کی گمشدگی سے متعلق فائلوں کو حکومت عام کرے گی۔

نیتا جی سبھاش چندر بوس کے موت کی تحقیقات کرنے والے دو کمیشنز کے مطابق وہ 18 اگست سنہ 1945 میں ہوائی جہاز کے حادثے میں ہلاک ہوئے۔ جبکہ ایک جج کی سربراہی میں قائم تیسرے پینل کے مطابق وہ اس تاریخ کے بعد بھی زندہ تھے۔ اس تنازع نے بوس کے خاندان کے افراد کو بھی تقسیم کر دیا۔

چندرا کمار بوس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کہ روس، جرمنی ، برطانیہ اور امریکہ میں موجود فائلوں سے شاید معلوم ہو کہ ان میں کیا ہے۔ ’جیسا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اصلی فائلیں شاید تباہ کی جا چکی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مغربی بنگال کی وزیرِ اعلی ممتا بینرجی کا کہنا تھا کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کو ’قائدِ ملت‘ کا خطاب دیا جانا چاہیے

وہ لوگ جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بوس سنہ 1945 کے بعد بھی زندہ رہے ان کے بھی دو نظریات ہیں۔ ایک کے مطابق وہ سویت یونین چلے گئے اور بھارت کی آزادی کے لیے کام کیا۔ تاہم بعد میں وہیں قتل کر دیے گئے۔ دوسرے نظریے کے مطابق نیتا جی واپس انڈیا آئے اور شناخت تبدیل کر کے اتر پردیش کے شہر فیض آباد میں سنہ 1985 تک رہے۔

نیتا جی کی بیٹی سنیتا بوس جو جرمنی میں مقیم ہیں سمجھتی ہیں کہ ان کے والد جہاز کے حادثے میں ہلاک ہوئے۔

ادھر مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی کا کہنا تھا کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کو ’قائدِ ملت‘ کا خطاب دیا جانا چاہیے۔

ممتا بینرجی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ اس کے مستحق ہیں۔

’ہمیں یقین ہیں کہ نیتا جی کی زندگی کے آخری دنوں کا سچ دستاویزات اور ثبوتوں کے ذریعے سامنے آئے گا۔‘

ان کا کہنا تھا ’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نوجوانوں اور آئندہ نسلوں کے ساتھ سچ بانٹیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ ڈیجیٹل فائلز بھارت کی قومی آرکائیو پر دستیاب ہے

اسی بارے میں