افغان مصالحتی عمل میں پیشرفت کتنی؟

تصویر کے کاپی رائٹ w
Image caption پاکستان کی قیادت میں قائم اس گروپ میں افغانستان، چین اور امریکہ بھی شامل ہیں

افغانستان بلکہ اب اس پورے خطے میں پھیلے شدت پسندی کے مسئلے کے حل کے لیے چار ملکی گروپ کے مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں لیکن اسلام آباد میں سفارتی حلقے اب تک کی پیش رفت سے زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

پاکستان کی قیادت میں قائم اس گروپ میں افغانستان، چین اور امریکہ بھی شامل ہیں۔

مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں جبکہ دوسرا کابل میں منعقد ہوا لیکن بعض سفارتی اہلکاروں کے بقول افغان طالبان سے بات چیت کی تیاری کے لیے جاری یہ مذاکرات ’نٹی گرٹی‘ یعنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر زیادہ توجہ اور وقت دے رہے ہیں اور اصل مقصد پر بات نہیں ہو رہی ہے۔

اس گروپ میں شامل ممالک نے اب تک کی پیش رفت میں سست رفتاری پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن افغانستان میں پاکستان کے سفیر جانان موسی زئی نے بھی گزشتہ دنوں ایک تھنک ٹینک میں سیر حاصل خطاب میں واضح طور پر شاید انہی مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس انتظار کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔

’بات چیت کے لیے ہمارے پاس سال نہیں ہیں۔ ہمیں کسی نتیجے پر چند ماہ میں پہنچنا ہوگا۔ شدت پسندوں کی موسم بہار کی تازہ یلغار کوئی زیادہ دور نہیں۔‘

اسی قسم کے تحفظات امریکی سفارت کار بھی رکھتے ہیں۔ انھیں بھی اب تک کی بات چیت اصل مسائل سے دور دکھائی دے رہی ہے۔

امریکی تھنک ٹینک ’رینڈ‘ کے سینیئر فیلو جیمز ڈوبنز نے سابق سفارت کار زلمے خلیل زاد کے ساتھ ’پاکستان کے پاس افغانستان میں امن کی کنجی ہے‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ مضمون میں اسی سوچ کی عکاسی کچھ یوں کی ہے: ’مارچ کے اواخر میں نئے جنگی سال کے آغاز سے قبل مذاکرات میں ٹھوس پیش رفت پاکستان کے ارادوں کو ظاہر کرے گی۔‘

Image caption سرتاج عزیز نے مذاکرات کے لیے آمادہ اور نا آمادہ شدت پسندوں کے لیے الگ الگ پالیسیاں تیار کرنے کی بات بھی کی تھی

دوسری طرف پاکستان کا کہنا ہے کہ چار ممالک پر مشتمل یہ گروپ بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ افغان طالبان اور کابل میں حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات جلد از جلد شروع کیے جاسکیں۔

ترجمان قاضی ایم خلیل اللہ کا گزشتہ اس ہفتے کہنا تھا ’چار ملکی اجلاسوں میں تمام باہمی امور پر بات ہو رہی ہے۔ اس پر بھی کہ طالبان کو طے کیے جانے والے روڈ میپ میں کسے شامل کرنا ہے۔ اس میں پیش رفت سے آپ (میڈیا) کو آگاہ رکھا جائے گا۔‘

پہلے اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے مذاکرات کے لیے آمادہ اور نا آمادہ شدت پسندوں کے لیے الگ الگ پالیسیاں تیار کرنے کی بھی بات کی تھی۔ اس بات نے بھی سفارت کاروں کو مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے۔

جولائی میں مری میں ہونے والے براہ راست مذاکرات میں تو حقانی اوردیگر سب کی نمائندگی تھی۔ لیکن اب طالبان کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد کون بات چیت کے لیے تیار ہے اور کون نہیں، کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ملا اختر منصور کے گروپ کے تازہ بیان سے صورتحال قدرے واضح ہوئی ہے کہ وہ اب بھی مذاکرات چاہتے ہیں۔ ان کے مخالف دھڑے کی اس سلسلے میں خاموشی شاید ان کی نا آمادگی ظاہر کرتی ہے۔

چار ملکی مشاورت کا آئندہ دور ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں ہو رہا ہے۔ اس سے قبل افغان طالبان کی جانب سے مذاکرات کی مناسبت سے چند مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ میدان جنگ میں انھوں نے گاڑی موسم سرما میں بھی اگر پانچویں نہیں تو چوتھے گِئر میں رکھی ہوئی ہے، لیکن دوہا، قطر میں پگواش تنظیم کے زیر اہتمام سیمنار میں باضابطہ شرکت کر کے انھوں نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’شدت پسندوں کی موسم بہار کی تازہ یلغار کوئی زیادہ دور نہیں۔‘

اجتماع میں طالبان کے نمائندے نے جو تقریر کی اس میں انھوں نے افغانستان میں غیرملکیوں سے متعلق امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی خواہش کا نہ صرف اظہار کیا ہے بلکہ مذاکرات کے لیے چند شرائط بھی سامنے رکھی ہیں۔

ان کی پہلی شرط سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی حکومت، جسے وہ آج بھی جائز حکومت مانتے ہیں، کے لیے دفتر یا پھر علاقے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ شرط موجودہ حالات میں شاید افغان حکومت کو قابل قبول ہو۔ دوسرا وہ اقوام متحدہ کی جانب سے سفر اور اثاثہ جات پر پابندیاں اٹھانے اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

ان شرائط کے بروقت سامنے آنے سے چار ملکی گروپ کو غور کا موقع ملے گا۔ طالبان کی مذاکرات کے لیے مشروط آمادگی شاید افغان حکومت کے ساتھ ان کے براہ راست مذاکرات کی جانب مثبت قدم ہے، لیکن کیا پاکستان، افغانستان اور چین ان کے امریکہ سے براہ راست مذاکرات پر خوش ہوں گے؟

اسی بارے میں