ایران بوئنگ سے بھی مسافر طیارے خریدنے کا خواہشمند

Image caption بوئنگ کے مطابق ایران کو طیارے فروخت کرنے سے قبل کمپنی کو’کئی مراحل‘ سے گزرنا ہو گا۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے عائد پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ایران اپنے مسافر بردار طیاروں کی کھیپ میں اضافے کے لیے امریکی کمپنی ’بوئنگ‘ سے بھی طیارے خریدنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

ایران کے ٹرانسپورٹ کے نائب وزیر اصغر فخریہ کاشان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ان کا ملک ایک سو طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کو ایک ہفتہ گزرا ہے اور اس دوران ایران نے 114 مسافر بردار طیاروں کی خریداری کے لیے طیارہ ساز کمپنی ’ایئر بس‘ سے بھی بات چیت کی ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایئر بس طیارے خریدنے کے اس سودے پر سرکاری سطح پر پیش رفت اگلے ہفتے کو ہو گی جب صدر حسن روحانی فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اس پر دستخط کریں گے۔

امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائی جانے والی پابندیاں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں، تاہم بوئنگ امریکی حکومت سے درخواست کر سکتی ہے کہ اس ایران سے سودا کرنے کی خصوصی اجازت دی جائے۔

Image caption یران کے پاس کل 250 طیارے ہیں لیکن ان میں سے صرف 150 ایسے ہیں جو کام کر رہے ہیں

جب اس معاملے پر گزشتہ ہفتے بوئنگ سے پوچھا گیا تو طیارہ ساز کمپنی کا کہنا تھا کہ ایران کو طیارے فروخت کرنے سے قبل کمپنی کو’کئی مراحل‘ سے گزرنا ہو گا۔

طیاروں کی پرانی کھیپ

دنیا کی مسافر بردار کمپنیوں کے طیاروں کی کھیپ کے بارے میں اعداد و شمار مہیا کرنے والی ویب سائٹ ’ایئر فلیلا ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق اس وقت جو مسافر بردار طیارے ایران کے پاس موجود ہیں ان کی اوسط عمر تقریباً 27 سال ہو چکی ہے۔

یورپ میں شہری ہوا بازی کا نگران ادارہ پہلے ہی ایران کے 12 مسافر بردار طیاروں کے علاوہ دیگر تمام طیاروں پر یورپ کی فضا میں داخلے پر پابندی لگا چکا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ایران کے باقی ماندہ مسافر طیارے حفاظت کے بین الاقوامی معیار پر پورے نہیں اترتے۔

ایران کی سرکاری فضائی کمپنی ’ایران ایئر‘ کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی کے پاس کل 43 طیارے ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی کے پاس سامان لے جانے والے (کارگو) اور کچھ کم کرائے والے طیارے بھی موجود ہیں۔

تاہم ایران کے وزیر ٹرانسپورٹ عباس اخوندی کے حوالے سے ایرنی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کل 250 طیارے ہیں لیکن ان میں سے صرف 150 ایسے ہیں جو کام کر رہے ہیں۔

وزیر ٹرانسپورٹ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو 400 ایسے مسافر بردار طیارے درکار ہیں جو درمیانے اور طویل فاصلوں کے لیے استعمال کیے جا سکیں جبکہ 100 طیارے ایسے ہونے چاہییں جو کم فاصلوں کے لیے کام دیں سکیں۔

وزیر نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ ایئر بس طیاروں کی پہلی کھیپ مارچ کے آخر تک ایران کو مل جائے گی۔

اسی بارے میں