کیا 26 ہفتے نوکری چھوڑنے سے باز رکھیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں زچگی کے متعلق قانون میں ترمیم کے آثار نمایاں ہیں

بھارت میں زچگی کے بعد ماں کے لیے چھٹیوں میں اضافے کے حکومتی منصوبے کا ماؤں اور خواتین کے لیے کام کرنے والے فلاحی اداروں دونوں جانب سے خیر مقدم ہو رہا ہے۔

پہلے یہ چھٹی 12 ہفتے یعنی تین ماہ تھی جبکہ اب حکومت اسے بڑھا کر 26 ہفتے یعنی چھ ماہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

ابھی اس منصوبے کی پارلیمنٹ سے توثیق کی جانی ہے لیکن بھارت کی خواتین اور اطفال کے فروغ کی وزارت کا کہنا ہے کہ حکومت جلد از جلد میٹرنیٹی کے فوائد میں ترمیم کرنے کے لیے پابند ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار یوگیتا لیمائے نے بتایا کہ ایک خاتون رشمی شرما جو چند ماہ قبل ماں بنی ہیں وہ میٹرنیٹی کی چھٹیوں کے بعد پھر سے دفتر جانے کی تیاریوں میں ہیں۔ انھوں نے پہلے تین ماہ تنخواہ کے ساتھ اور تین ماہ بغیر تنخواہ کی چھٹیاں حاصل کی تھیں۔

Image caption رشمی ان خواتین میں ہیں جو بچے کی پیدائش کے بعد کام پر جانے کے لیے تیار ہیں

رشمی شرما نے کہا: ’کاش یہ میرے وقت میں ہوا ہوتا۔ تین مہینے بہت کم ہیں۔ میرے خیال سے چھ ماہ خاطر خواہ ہے جس دوران آپ کام پر واپس جانے سے قبل اپنے بچے کے ساتھ اچھا خاصا وقت گزار لیتی ہیں۔‘

ماہرین کا خیال ہے زچہ کے لیے یہ چیزیں سہولت فراہم کریں گي۔ لیکن کیا یہ ان کے لیے کافی ہے کہ انھیں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کام نہ چھوڑنا پڑے؟

بھارتی صنعت کی تنظیم ایسوچیم کے ایک حالیہ سروے میں یہ پایا گيا ہے کہ ایک چوتھائی بھارتی خواتین کو بچہ پیدا ہونے کی صورت میں اپنے کام سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

Image caption بعض کمپنیاں اپنے کیمپس میں بچوں کی نگہ داشت کا انتظام کر رہی ہیں

اور یہ بھی ایسے ملک میں جہاں دفاتر میں کام کرنے کے معاملے میں ان کی شرح پہلے سے ہی کم ہے اور وہ تمام ملازمتوں میں ایک چوتھائی ہیں جبکہ گذشتہ دہائی میں ان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

غیر منظم شعبے کو حکومت کے اعدادو شمار میں شامل نہیں کیا گیا ہے لیکن ملازمت میں ان کی کم نمائندگی ان کی شرح خواندگی سے منسلک ہے۔ جبکہ سماجی رویہ بھی ان کے خلاف کام کرتا ہے۔ بچے کی پرورش بھارت میں زیادہ تر ماں کی ذمہ داری ہی سمجھی جاتی ہے۔

بھارت کے کارپوریٹ کے شعبے میں بھی ان کی نمائندگی کی شرح بہت کم ہے۔ سنہ 2014 میں بازار کے ضابطہ کاروں نے سٹاک ایکسچینج میں درج کمپنیوں کو ہدایت دی تھی کہ ان کے بورڈ آف ڈائرکٹرز میں کم از کم ایک خاتون کا ہونا ضروری ہے لیکن وہاں بھی 13 کمپنیاں وقت پر اسے پورا نہیں کر سکیں۔

Image caption عام طور پر بچے کی دیکھ بھال کے لیے نانی دادی کا سہارا لیا جاتا ہے

تاہم امید کی کرن نظر آتی ہے کہ بعض کمپنیوں نے اپنے ملازموں کے لیے کیمپس کریشز کی سہولیات دستیاب کرانی شروع کی ہیں۔

یہ بھی بات اہم ہے کہ وزارت محنت ایک ایسی تجویز پر غور کر رہی ہے اس کے تحت جن کمپنیوں میں 30 فی صد سے زیادہ خواتین ملازم ہیں وہ اپنے کیمپس یا کام کی جگہ سے کم فاصلے پر بچوں کی نگہداشت کی سہولیات فراہم کریں۔

اسی بارے میں