افغان ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چار سدہ یونیورسٹی پر حملے کے بعد طلباء میں احتجاج بھی کیا

پاکستان کے دفتر خارجہ کے حکام نے اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور عبدالناصر یوسفی کو طلب کیا ہے اور کہا ہے کہ افغان حکومت چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق افغان حکومت کو اس حملے سے متعلق تفصیلات فراہم کردی گئی ہیں۔

ترجمان کے مطابق اس حملے میں ملوث منصوبہ سازروں نے اس کارروائی کے بارے میں منصوبہ بندی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے افغان سرزمین اور اس کا ٹیلی کمینویکیشن نیٹ ورک استعمال کیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان ناظم الامور کی وساطت سے افغان حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس حملے میں ملوث ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پاکستانی حکام سے تعاون کرے۔

واضح رہے کہ 20 جنوری کو چارسدہ میں ہونے والےشدت پسندوں کے حملوں میں 20 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ ان حملوں میں ملوث چاروں شدت پسندوں کو سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ہلاک کردیا تھا۔

اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کچھ افغان عناصر پاکستان میں شدت پسندی کی کارروائیاں کررہے ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ کرنے کا معاہدہ موجود ہے اور پاکستان اس معاہدے کے پاسداری کرر ہا ہے۔

پاکستان نے اس حملے میں چار سہولت کاروں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے جنہیں دو روز قبل میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔