’اگر مودی کہیں تو دادری کےقاتلوں کے نام بتا سکتا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ملائم سنگھ اس سلسلے میں کھل کر کوئی بات نہیں کہتے ہیں اسی لیے بعض سیاسی مبصرین اسے سماجوادی پارٹی اور بی جے پی میں قربت کے طور پر دیکھ رہے ہیں

بھارتی ریاست اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ دلی سے متصل دادری میں ہونےوالے قتل میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے تین لیڈر شامل تھے اور اگر وزیر اعظم نریندر مودی کہیں تو وہ ان کے نام بتا سکتے ہیں۔

دادری میں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں 50 سالہ محمد اخلاق کو مار مار کر ہلاک کردیا تھا۔ تاہم ملائم سنگھ یادو نے ان کا نام نہیں لیا۔

وہ ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں اپنی پارٹی کے نوجوان کارکنان سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔

گذشتہ برس 28 ستمبر کو دلی سے متصل نوئیڈا کے ایک گاؤں دادری میں ایک مشتعل ہجوم نے محمد اخلاق کو قتل کر دیا تھا۔

ملائم سنگھ کے الزامات کے جواب میں بی جے پی کے ترجمان وجے بہادر پاٹھک نے کہا کہ بھارتی قانون میں مجرم کا نام خفیہ رکھنا بھی جرم کے دائرے میں آتا ہے۔

وجے بہادر نے کہا ’اگر انہیں نام معلوم ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔‘

بی جے پی کے ترجمان نے کہا ’ملائم سنگھ جیسے تین بی جے پی کے لیڈروں کی بات کہہ رہے ہیں، ویسے ہی ان کو پتہ ہے کہ ریاستی حکومت کے کئی وزیر غلط طریقے سے پیسہ کمانے میں مصروف ہیں، لیکن نہ وہ ان کا نام لیتے ہیں اور نہ ان کو برخاست کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سمتمبر کے اواخر میں دارالحکومت دلی کے پاس دادری کے ایک گاؤں بسہاڑا میں رات کے وقت ہندوں کے مشتعل ہجوم نے محمد اخلاق اور ان کے بیٹے پر حملہ کیا تھا

واضح رہے کہ ریاست اترپردیش میں خود ان کی جماعت کی حکومت ہے اور خود ان کے بیٹے اکھیلیش یادو ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ دادری جیسے وقعات کے لیے ریاستی اور مرکزي دونوں حکومتوں پر سخت نکتہ چینی ہوتی رہی ہے۔

کانگریس کے ایک رہنما ستيہ دیو ترپاٹھی نے کہا ہے کہ ملائم سنگھ کا بی جے پی کے تین رہنماؤں کا نام نہ بتانا عوام کے ساتھ فریب کاری ہے۔

اس سے پہلےگزشتہ سال بھی ملائم سنگھ نے ایک بیان میں محمد اخلاق کے قتل کو ایک تنظیم کے تین لوگوں کی طرف سے تیار کی گئی سازش بتایا تھا۔

لیکن انھوں نے اس سلسلے میں کھل کوئی بات نہیں کہی اس لیے بعض سیاسی مبصرین اسے سماجوادی پارٹی اور بی جے پی میں قربت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں