آر ایس ایس یونیورسٹیوں پر غلبہ چاہتی ہے؟

بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس اور اس کے حمایتی طلبہ کی تنظیم کھل کر اکھل بھارتی ودیارتھی پریشد یعنی اے بی وی پی ملک کی یونیورسٹیوں میں پوری شدت کے ساتھ متحرک ہوگئی ہیں۔

بی جے پی کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ تعلیمی نصابوں میں اپنے نظریات کے مطابق تبدیلی کر سکے، درس وتدریس کے عمل میں اپنے نظریات سے مطابقت رکھنے والوں کی تقرری کر سکے اور طلبہ کی سطح پر ہر طرح کی مزاحمت کو دبا سکے۔

بھارت میں گذشتہ دو عشرے میں اقتصادی نجکاری کی پالیسی کے نتیجے میں مزدور یونینیں یا تو کمزور ہو چکی ہیں یا وہ اب غیر منظم ہیں ۔ بیشتر شعبوں اور صنعتی اکائیوں میں ہڑتالیں غیر قانونی قرار دیے جانے کے سبب بھی ٹریڈ یونینیں اپنی اہمیت کھو چکی ہیں۔

مزدور یونینیں سماجی اور سیاسی سوالوں اور تحریکوں کے لیے سیاسی موبیلائزیشن کا سب سے طاقتور ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ مزاحمت کا یہ ذریعہ اب تقریباً ختم ہونے کی دہلیز پر ہے۔

گزشتہ دو عشروں میں بھارت میں مختلف خطوں میں ہزاروں این جی اوز یا غیر سرکاری تنظیمیں وجود میں آئیں۔ ان تنظیموں نے ماحولیات، قدرتی وسائل، قبائلیوں، دلتوں اور اقلیتوں کے حقوق، حقوق انسانی اور کسانوں کے امور کے لیے بڑے پمیانے پر بیداری پیدا کی اور لوگوں کو متحد کیا۔

یہ این جی اوز اتنے طاقتور اور با اثر ہوگئے کہ سابقہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی حکومت نے ان پر پابندیاں لگانا شروع کیا اور ان کے سرگرمیوں میں رخنے ڈالنے کے لیے طرح طرح کے نئے ضوابط بنائے گئے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مودی حکومت نے این جی اوز کی فنڈنگ اور رجسٹریشن وغیرہ پر ایسا شکنجہ کس دیا ہے کہ بیشتر این جی اوز اس وقت بند ہونے کے قریب ہیں یا انتہائی کمزور پڑ چکے ہیں۔ حکومت نے گرین پیس جیسی تنظیم پر پابندی لگا دی ہے ۔ فورڈ فانڈیشن جیسی تنظیم کی فنڈنگ کی نگرانی کی جا رہی ہے ۔ این جی اوز بھارت میں ان دنوں سخت مشکلوں سے گزر رہی ہیں ۔

بھارت میں مزاحمت کا اب ایک ہی ادارہ بچا ہے اور وہ ہے یونیورسٹیاں۔ کانگریس اگرچہ کوئی بہت ترقی پسند جماعت نہیں رہی ہے لیکن اس کے دور میں یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں اظہار کی آزادی اور کھلے پن کا ماحول ہوا کرتا تھا۔ بیشتر یونیورسٹی طلبہ کانگریس کی حکومت اوراس کی پالیسیوں کی مخالف ہوا کرتے تھے لیکن حکومت نے کبھی ان مخالف تصورات اور تحریکوں کو دبانے کی کوشش نہیں کی۔

یہ بھارت جیسے غریب ملک کی جمہوریت کا ایک انتہائی مثبت پہلو تھا۔ بڑی تعداد میں اساتذہ بائیں بازو یا روشن خیال ہوا کرتے تھے ۔ ترقی پسندی کی اس روایت کے سبب ملک کی بیشتر یونیورسٹیوں اور کالجز میں اعتدال پسندی کا رحجان پروان چڑھا اور بی جے پی کی سٹوڈنٹ شاخ اے بی وی پی کبھی گھر نہیں کر پائی۔

بے جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اے بی وی پی مزاحمت کے واحد بچے ہوئے ادارے پر قبضہ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے ۔ حیدرآباد میں حال میں ایک دلت ریسرچ سکالر کی خود کشی بھی اسی نطریاتی جد وجہد اورٹکراؤ کا حصہ تھی ۔دلت بھی ہندوتوا کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں ۔

یونیورسٹیوں پر قبضہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیے بہت اہم ہے ۔ اسےہندوتوا کےاپنے اصل ایجنڈے کے حصول کے لیے ملک کی سوچ وفکر پر غالب آنا ہوگا۔ وہ یہ کام تعلیمی نصابوں میں تبدیلی ، یونیورسٹیوں، سائنسی اداروں اور تقافتی مرکزوں پر آر ایس ایس کے نظریات کے حامل لوگوں کی تقرری کے ذریعے کرنا چاہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یہ کام آر ایس اور اس کی متعدد تنظیمیں بہت تیزی سے کر رہی ہیں ۔ یونیورسٹیوں میں انہیں ہر طرف مزاحمت کا سامنا ہے ۔عدم روادادی کے سوال پرحکومت کو جس طرح منھ کی کھانی پڑی ہے اس سے ایسا نظر آتا ہے کہ ملک کےدانشور ، فنکار ، ادیب اور طلبہ ایک طاقتور حکومت کے خلاف نہ صرف متحد ہیں بلکہ اسے جھکانےکی بھی طاقت رکھتے ہیں۔

بی جے پی اور آر ایس دانشوروں اور طلبہ سے کئی دھچکے کھانے کے بعد اب مزاحمت کے کلیدی مرکزوں پر نظرمرکوز کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں پورے ملک میں یونیورسٹیوں اور بڑے تعلیمی ادارے نئی سیاسی بے چینیوں کا مرکز ہوں گے ۔

اسی بارے میں