میانمار کی نئی پارلیمان کا تاریخی اجلاس

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

میانمار یعنی برما کی پارلیمان کا تاریخی اجلاس ہوا ہے جس میں نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے میں پہلی بار جمہوری طور پر منتخب حکومت تشکیل دی جائے گی۔

سینکڑوں نئے رکنِ پارلیمان نے، جن میں سے اکثریت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) سے ہیں لیکن کچھ کا تعلق چھوٹی جماعتوں سے بھی ہے، حلف اٹھایا اور اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔

تین مہینے پہلے ہونے والے عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ اور ان کی جماعت ملک کے اقتدار پر قابض فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں کئی دہائیوں تک زیرعتاب رہیں۔ نئی پارلیمان میں بھی فوج نے ایک چوتھائی نشستیں اپنے لیے مخصوص رکھی ہیں اور اسے اب بھی کئی اہم وزارتوں کا کنٹرول حاصل ہے۔

پارلیمان کے فرائض میں ایک یہ چیز بھی شامل ہے کہ جب اس کے رہنما تھیئن سین مارچ کے آخر میں سبکدوش ہو جاتے ہیں تو وہ نیا صدر چنے۔

سوچی جنھیں فوجی جنتا کے دور میں 15 برس گھر میں نظر بند رکھا گیا ملکی آئین کے تحت صدر بنے کی اہل نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آنگ سان سوچی ایوانِ زیریں کے اجلاس کے بعد باہر آ رہی ہیں

ملک کے آئین کے تحت کوئی شہری جس کے بچے غیر ملکی شہریت رکھتے ہوں صدارت کے عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا۔

سوچی کے بچے برطانوی شہری ہیں۔

ایک نومنتخب رکن پارلیمان نے کہا کہ انہیں جمہوری عمل کا حصہ ہونے پر فخر ہے۔

’مجھے فخر ہے کہ میں پارلیمان کے رکن کی حیثیت سے ملک میں ہونے والی اس بڑی تبدیلی میں حصہ لے سکتی ہوں۔‘

سوچی کی پارٹی کے ایک سینیئر رہنما کِن ماؤنگ می این نے کہا کہ یہ ان کی جماعت اور برما کے لیے تاریخی لمحہ ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ جیسے میں اب بھی خواب دیکھ رہا ہوں۔ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری جماعت کبھی حکومت بنا پائے گی۔ ہم نے بھی نہیں۔ اس نے نہ صرف برما بلکہ پوری دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔