کروڑوں کی سیلاب زدہ گاڑیاں لاکھوں میں دستیاب

تصویر کے کاپی رائٹ Nathan G
Image caption سنہ 2015 کی یہ جیگوار نیلامی میں صرف 17 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی ہے

ایک وسیع و عریض میدان میں استعمال شدہ گاڑیوں کے درمیان کھڑے جمبو کمار مرسیڈیز بینز کار کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

29 سالہ کمار کے والد ساری عمر سکوٹر چلاتے رہے اور گاڑیوں کے پرزوں کا چھوٹا سا کاروبار کرنے والے کمار نے خود سنہ 2009 میں کار خریدی تھی۔ وہ اپنے خاندان میں گاڑی کے مالک بننے والے پہلے شخص تھے۔

کمار نے جب اپنے دوستوں سے سنا کہ گذشتہ سال بھارت کے جنوبی شہر چنّئی (مدراس) میں آنے والے سیلاب میں ڈوبنے اور خراب ہونے والی گاڑیوں کی نیلامی ہو رہی ہے تو وہ بھی یہاں پہنچ گئے۔

اب کمار اُس مرسیڈیز کے تلاش میں ہیں جس کے انھوں نے ہمیشہ خواب دیکھے ہیں لیکن کبھی اتنے پیسے نہیں جمع کر پائے کہ اسے خرید سکیں۔ اب گاڑی کے خریداری کے لیے ان کا بجٹ 10 لاکھ روپے ہے۔

کمار کہتے ہیں ’میری بیگم کہتی ہیں اگر تم نیلامی میں گئے تو مرسیڈیز لے کر ہی واپس آنا۔ اسی لیے میں اچھی قیمت میں پسند کی گاڑی کی تلاش میں ہوں۔ اگر میرے والد زندہ ہوتے تو آج وہ مجھ پر بہت فخر محسوس کرتے۔‘

کمار کے اردگرد بولی لگانے والے دیگر لوگ، استعمال شدہ گاڑیوں کے ڈیلر، خریدار اور کرائے کی گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے افراد، اور ان سب کے گرد حّد نگاہ تک سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہیں۔

دو ماہ قبل چنّئی میں آنے والے صدی کے بدترین سیلاب میں ان گاڑیوں میں بھی بارش اور گٹر کا پانی بھرگیا تھا۔

زیادہ تر گاڑیوں پر اب بھی سیلابی ریلے کی مٹی کی دبیز تہہ چڑھی ہوئی ہے، ان کے اندرونی حصے میں کائی لگی ہے اور وہ خراب ہو چکے ہیں لیکن گاڑیوں کا یہ ’قبرستان‘ بہت سی خواہشات اور خوابوں کا محور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nathan G
Image caption زیادہ تر گاڑیوں پر اب بھی سیلابی ریلے کی مٹی کی دبیز تہہ چڑھی ہوئی ہے

چنّئی سے ایک ہزار کلومیٹر دور مغربی شہر پونے میں گاڑیوں کی مرمت کا کاروبار کرنے والے جیوتی رام چھوگلے بھی ایسے ہی خوابوں کے بیوپاری ہیں۔

ان کے تین گاہکوں نے جب اس نیلامی کے بارے میں سنا تو انھوں نے چھوگلے کو چنّئی جانے والے جہاز میں سوار کرا دیا۔

چھوگلے کہتے ہیں ’میں اپنے گاہکوں کے لیے لگژری گاڑیاں ڈھونڈ رہا ہوں۔ میرے گاہک جیگوار، رینج روور، پورشے کی خریداری کے خواہشمند ہیں۔‘

گاڑیوں کی خریدوفروخت کی ویب سائٹ cardekho (کار دیکھو) کے ابھیشک گوتم کے مطابق وہاں موجود گاڑیوں میں تقریباً 40 فیصد ایسی ہیں جنھیں بیمہ کمپنی والے مکمل خسارے کا بیمہ کہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ کمپنی کی ورکشاپوں پر ان گاڑیوں کی مرمت کرنا بہت مہنگا پڑتا ہے۔‘

بیمہ کمپنیوں کو گاڑیوں کے کلیموں کے ایک طوفان کا سامنا ہے اور اس لیے وہ مردہ گاڑیوں کو دوبارہ فروخت کےلیے بھیج دیتے ہیں۔

گوتم بتاتے ہیں کہ ان کی کمپنی کو دوبارہ فروخت کے لیے 18 بیمہ کمپنیوں کی جانب سے گاڑیاں موصول ہوئی ہیں اور وہ سیلاب میں تباہ ہونے والی 15 سو سے زائد گاڑیوں کی فروخت کی کوشش کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nathan G

زیادہ تر گاڑیوں کی ظاہری حالت بالکل صحیح نظر آتی ہے اور ان کے بیرونی حصے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔

نیلامی کرنے والے اس بات پہ اصرار کرتے ہیں کہ پانی عموماًغرق ہونے والی گاڑی کے الیکٹریکل اور الیکٹرونک نظام کو نقصان پہنچاتا ہے باقی چیزوں کو نہیں۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک گاڑی پر 70 ہزار سے دو لاکھ تک کا خرچہ کرکے ان کے الیکٹرونک اور الیکٹریکل نظام کو بحال یا تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر مردہ گاڑیوں کو بھارت کی فروغ پذیر سستی ورکشاپوں میں دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے۔

تاہم آٹو موبائل کے ماہر ہرمزد سربجیت ان باتوں سے اتنے متفق نہیں ہیں۔

آٹو موبائلز سے متعلق جریدے آٹوکار انڈیا کے ایڈیٹر سربجیت کہتے ہیں ’پانی گاڑی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ آپ کو بہت ساری چیزیں تبدیل کرنی پڑیں گی۔ محض الیکٹرونک اور الیکٹریکل نظام تبدیل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ میری نظر میں سیلاب سے تباہ شدہ گاڑی خریدنا ایک خطرناک جوا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Nathan G
Image caption گاڑیوں کے اندرونی حصے میں کائی لگی ہے اور وہ خراب ہو چکے ہیں

یہی بات گاڑیوں کے قبرستان سے وافر تعداد میں گاڑیاں خریدنے والے پریم کمار سے کہیں تو وہ مسکرا دیتے ہیں۔ 29 سالہ کمار وہاں 15 مکینکوں اور 50 الیکٹریشنوں کے ہمراہ درجنوں کے حساب سے مردہ گاڑیاں خریدنے پہنچے ہیں۔

کمار نے مجھے سنہ 2015 کی جیگوار دکھائی جو انھوں نے نیلامی میں 17 لاکھ روپوں کی خریدی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل قیمت سے چھ گنا کم قیمت پر یہ کار خریدنا اسے چوری کرنے کے برابر ہے۔

وہ کہتے ہیں ’میں 16 سال کی عمر سے یہ کاروبار کر رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں میں کیا کر رہا ہوں۔‘

جس دن میں وہاں گیا تو نیلامی میں 70 سے زائد گاڑیاں بکنے کے لیے تیار تھیں اور وہاں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے ارُون بھی موجود ہیں جو پیسے کمانے کی غرض سے آئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’سٹاک مارکیٹ میں اس وقت کافی تغیر ہے اور کاروبار سست روی کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہاں چند گاڑیاں خریدنے آیا ہوں تاکہ ان کی ورکشاپ پر مرمت کروا کے انھیں دوبارہ فروخت کرسکوں اور کچھ پیسے بنا لوں، اپنی قسمتت آزما رہا ہوں۔‘

وہ پہلے ہی سنہ 2011 کی ووکس ویگن پولو دو لاکھ 35 ہزار کی خرید چکے ہیں جو کہ بازار سے آدھی سے بھی کم قیمت ہے۔

Image caption دو ماہ قبل چنّئی میں آنے والے صدی کے بدترین سیلاب میں ان گاڑیوں میں بھی بارش اور گٹر کا پانی بھرگیا تھا

کرائے کی گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے نسیم دوسری جانب ٹیوٹا ایس یو وی کم سے کم قیمت میں خریدنے کے آرزومند ہیں تاکہ اپنی گاڑیوں کے چھوٹے سے قافلے میں شامل کرسکیں۔

اگر گاڑی نے مرمت کے بعد بھی کام نہ کیا تو کیا ہوگا؟

’زندگی ایک جوا ہے۔ کبھی آپ جیت جاتے ہیں اور کبھی آپ کو ہارنا پڑتا ہے۔ نیلامی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔‘

اس میدان میں خواب آسانی سے نھیں مرتے۔