’سنگین کے زیادہ تر علاقے پر طالبان کا ایک بار پھر قبضہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان کے جاری حملوں کے باوجود حکومت کے اہلکاروں نے بار بار کہا ہے کہ سنگین محفوظ ہے

جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند کے اہم شہر سنگین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک بار پھر سے طالبان کے قبضے میں جانے کے دہانے پر ہے۔

یہ بات افغان فوج کے ایک کمانڈر نے بتائی ہے۔ انھوں نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ دراصل اس اہم شہر کے زیادہ تر حصے پر طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے۔

اور انھوں نے متنبہ کیا کہ جو چند علاقے بچے ہوئے ہیں ان کو بھی شدید خطرہ درپیش ہے۔

افغانستان میں برطانیہ کی لڑائی کے مشن پر مامور تقریباً ایک چوتھائی فوجی سنگین کو بچانے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

دسمبر میں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ یہ ضلع پوری طرح سے طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے اس کے بعد افغان حکومت نے کمک بھیجی تھی۔

طالبان کے جاری حملوں کے باوجود حکومت کے اہلکاروں نے بار بار کہا ہے کہ سنگین محفوظ ہے۔ لیکن اس کمانڈر نے تصویر کا بالکل دوسرا رخ پیش کیا ہے۔

سیٹلائٹ فون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ دنوں حکومت کے باقی ماندہ ٹھکانوں پر طالبان کا بار بار حملہ ہوا ہے جس میں متعدد فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلمند صوبے کے اہم ضلعے سنگین پر طالبان کا حملہ جاری ہے

انھوں نے بتایا کہ تین دن قبل جب طالبان نے ’سحرا یک‘ نامی فوجی ٹھکانے پر حملہ کیا تو اس میں آٹھ افغان فوجی ہلاک ہوئے جبکہ نو فوجیوں کو وہ زندہ پکڑ کر لے گئے۔

ان کے مطابق تمام اسلحے بارود پر انھوں نے قبضہ کر لیا جن میں بکتر بند گاڑی بھی شامل تھی۔

انھوں نے کہا: ’دو دوسرے کیمپ پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اگر انھیں ضروری امداد نہیں پہنچتی ہے تو خدا نہ خواستہ ان کا بھی وہی انجام ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ کئی دنوں سے کوئی مدد نہیں پہنچی ہے اور راشن بھی ختم ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ چوتھا دن ہے کہ ہمارے ساتھ ایک لاش ہے اور گذشتہ ایک ہفتے کے دوران چار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اور دس دنوں سے ہم صرف سوکھی روٹیاں کھا رہے ہیں اور وہ بھی مقامی پولیس سے مانگ کر۔‘

اسی بارے میں