’نومبر 2008 سے پہلے بھی دو بار ممبئی پر حملے کی کوشش ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہیڈلی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت کے سامنے اپنا بیان دیا

بھارت کے شہر ممبئی پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں امریکہ میں گرفتار امریکی شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے پہلی بار ایک بھارتی عدالت کو بتایا ہے کہ 26 نومبر سنہ 2008 سے قبل بھی ممبئی پر حملے کی دو کوششیں ہوئی تھیں۔

انھوں نے ممبئی پر ہونے والے حملے کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران امریکی جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے یہ باتیں کہیں۔

ان کا بیان صبح سات بجے شروع ہوا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ وہ لشکر طیبہ کے ’سچے ماننے والے‘ تھے اور انھوں نے حملے سے قبل آٹھ بار بھارت کا دورہ کیا تھا اور پھر حملے کے بعد ایک بار بھارت گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ میں دہشت گردی کے الزامات میں 35 سال کی قید کاٹنے والے ہیڈلی نے داؤد گیلانی سے ڈیوڈ ہیڈلی بننے کے بارے میں بھی بتایا

انھوں نے بتایا کہ وہ حافظ سعید سے ’متاثر‘ تھے اور انھوں نے سنہ 2002 میں لشکر میں شمولیت اختیار کی۔

ہیڈلی کے والد کا نام داود گیلانی ہے اور ان کی والدہ ایک امریکی خاتون ہیں۔ امریکہ کا استغاثہ کا کہنا ہے انھوں نے اپنا نام ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اس لیے رکھا تھا کہ بھارت میں اپنے آپ کو امریکی بنا کر پیش کر سکیں جس کا نہ تو پاکستان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ مسلمان ہے۔

ہیڈلی نے مبینہ طور پر امریکی استغاثہ کے وکلا کو بتایا کہ وہ سنہ 2002 سے لشکر طیبہ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

انھوں امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے سنہ 2009 میں شکاگو سے فلاڈیلفیا جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

ممبئی میں نومبر 2008 میں ہونے والے حملے ساٹھ گھنٹے تک چلتے رہے تھے۔ ریلوے سٹیشن، ایک فائیو سٹار ہوٹل اور یہودیوں کے کلچرل سینٹر پر کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائی میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان حملوں میں ملوث نو مسلح افراد بھی مار گئے تھے۔

ان حملوں میں واحد پکڑا جانے والے پاکستانی اجمل قصاب کو گذشتہ سال نومبر میں پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔

ہیڈلی کے وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے بتایا کہ ہیڈلی لشکر کا کام حافظ سعید کی ہدایات پر کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ممبئی میں 26 نومبر سنہ 2008 میں حملے ہوئے تھے جن میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے

ہیڈلی نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی ویزا حاصل کرنے کے لیے انھوں نے غلط معلومات فراہم کی تھیں۔

اسی بارے میں