بھارتی پولیس کا نیا ہتھیار ’غلیل‘

Image caption بھارتی پولیس کے مطابق یہ خیال اس لیے آیا تاکہ مظاہرین کے خلاف نقصان دہ ہتھیاروں کے استمعال سے بچا جا سکے

بھارت کی ریاست ہریانہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ پر تشدد مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے بہت جلد غلیل کا استعمال شروع کیا جائے گا۔

ہجوم کو قابو کرنے کے دوران ان کی حفاظت کے پیشِ نظر اس مقصد کے لیے پولیس اہلکاروں کی تربیت کی جا رہی ہے۔

پولیس چیف ابھیشیک جورول کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کافی تحقیق کے بارے یہ غلیل بنوائے گئےہیں۔

پولیس کے پاس پہلے سے موجود ہتھیاروں، آنسو گیس اور لاٹھوں کے بعد حاص طور پر ڈیزائن کیے گئے یہ غلیل نیا اضافہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خیال اس لیے آیا تاکہ مظاہرین کے خلاف نقصان دہ ہتھیاروں کے استمعال سے بچا جا سکے۔

پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پرتشدد مظاہرے کی صورت میں آنسو گیس اور غلیلوں کا استمعال کیا جائے اور گولی اور بندوق کو آخری حربے کے طور پر رکھا جائے۔

ان غلیلوں کے ذریعے کنچے اور مرچوں کی گولیاں مظاہرین کو ماری جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گولی اور بندوق کو آخری حربے کے طور پر رکھا جائے

پولیس چیف ابھیشیک جورول کے بقول ان دونوں سے کوئی مستقل نقصان نہیں ہوتا لیکن اس کے مدد سے مظاہرین کو بخوبی منتشتر کیا جا سکے گا۔

بھارت میں غلیل جیسا گھریلو ساختہ ہتھیار سکیورٹی فورسز کے استعمال میں کم ہی آتا ہے۔

لیکن غیر مہلک ہتھیاوں جیسے کے ربڑ کی گولیوں سے ماضی میں متنازع علاقوں جیسے کہ کشمیر میں مظاہریں اور ارد گرد کے لوگوں کو کافی سخت چوٹیں آئی ہیں۔

تاہم اب بھی لوگوں کا خیال ہے کہ کنچوں سے لوگوں کو شدید چوٹیں آ سکتی ہیں۔

اسی بارے میں