’عشرت جہاں لشکر طیبہ سے وابستہ تھیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ یہ تصادم فرضی تھا اور اس مقابلے کے سلسلے میں گجرات پولیس کے کئی سینئر پولیس افسران کو گرفتار بھی کیا گیا تھا

پاکستان نژاد امریکی شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے ممبئی کی ایک عدالت کو بتایا ہے کہ گجرات میں سنہ 2004 میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی عشرت جہاں لشکر طیبہ سے وابستہ تھیں اور انھیں ایک خود کش مشن پر گجرات بھیجا گیا تھا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے گذشتہ برس ڈیویڈ ہیڈلی کے پاکستان سے تعلق کو رد کرتے ہوئے اسے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی ملک کے خلاف جاری پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا تھا۔

عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کو گجرات کی پولیس نے ایک مبینہ فرضی مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔

عشرت جہاں کی عمر 19 برس تھی اور وہ ممبئی کے ایک کالج میں پڑھتی تھیں۔

یہ واقعہ 15 جون سنہ 2004 کو احمدآباد کے قریب پیش آیا تھا۔گجرات پولیس کا دعویٰ تھا کہ مارے جانے والے چاروں افراد کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا اور وہ وزیراعلیٰ نریندر مودی کو ہلاک کرنے آئے تھے۔

لیکن تب سے ہی یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ یہ تصادم فرضی تھا اور اس مقابلے کے سلسلے میں گجرات پولیس کے کئی سینیئر پولیس افسران کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کو گجرات کی پولیس نے ایک مبینہ فرضی مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا

ہیڈلی ممبئی پر سنہ 2008 کے حملوں کے سلسلےمیں امریکہ کی ایک جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گواہی دے رہے ہیں۔

استغاثہ نے انھیں وعدہ معاف گواہ بنایا ہے۔ انھیں سنہ 2009 میں امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انھوں نے ایک امریکی عدالت میں یہ اعتراف کیا تھا کہ وہ ممبئی کے حملوں میں ملوث تھے جس کے بعد انھیں 35 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ہیڈلی کا دعویٰ ہے کہ انھیں اس ناکام آپریشن کے بارے میں لشکر طیبہ سے وابستہ ذکی الرحمان لکھوی نے بتایا تھا۔

بھارت کا الزام ہے کہ ممبئی پر حملے کی سازش لکھوی اور حافظ محمد سعید نے تیار کی تھی اور اس حملے کے سلسلے میں لکھوی پر پاکستان کی ایک عدالت میں مقدمہ بھی چلایا جا رہا ہے۔

ہیڈلی کے دعوے کے بعد حکمراں بی جے پی نے کہا ہے کہ اب یہ ثابت ہوگیا ہے عشرت جہاں ایک دہشت گرد تھیں اور کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو اب معافی مانگنی چاہیے کیونکہ اس نے عشرت جہاں کو بے قصور کے طور پر پیش کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہیڈلی کا دعوہ ہے کہ انہیں اس ناکام آپریشن کے بارے میں لشکر طیبہ سے وابستہ ذکی الرحمان لکھوی نے بتایا تھا

لیکن کانگریس کے ترجمان منیش تیواڑی نے کہا کہ ہیڈلی کے دعویٰ کی تفتیش تو ضرور ہونی چاہیے لیکن اس دعوے سے بھی یہ الزام ختم نہیں ہو جاتا کہ عشرت جہاں کو ایک فرضی مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

اس وقت پولیس کا الزام تھا کہ عشرت جہاں اور ان کے ساتھیوں کو نریندر مودی کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا جو اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ تھے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بہت سے کارکنوں کا الزام ہے کہ گجرات میں اس وقت کئی فرضی مقابلے ہوئے تھے اور پولیس یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ دہشت گرد تنظیمیں نریندر مودی کو ہلاک کرنا چاہتی تھیں۔

گجرات میں سنہ 2002 میں بڑے پیمانے پر مذہبی فسادات ہوئے تھے جن میں سینکڑوں مسلمان مارے گئے تھے۔ نریندر مودی اس وقت وزیر اعلی تھے اور ان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ خونریزی کو روکنے کے لیے انھوں نے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تھی۔

اسی بارے میں