کیا سیاچن پر سمجھوتے کے لیے دیر ہو چکی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Ministry of Defence
Image caption سیاچن 18 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کا سب سے اونچا جنگی محاذ ہے

سیاچن کے برفیلے تودوں میں دب کر دس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت سے ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ سیاچن کو ایک غیر فوجی خطہ قرار دیا جانا چاہيے۔

سیاچن پر بھارت اور پاکستان کے درمیان ماضی میں کئی بار بات چیت ہو چکی ہے۔ یہ کمپوزٹ ڈائیلاگ کے موضوعات میں بھی شامل ہے۔ پاکستان کے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے دور میں سیاچن کے محاذ پر کچھ ٹکراؤ کی صورت حال پیدا ہو ئی تھی تاہم اسی دور میں اس برفیلے محاذ پر دونوں مملک کی فوج کو پیچھے ہٹانے پر سمجھوتہ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔

بھارت، پاکستان سرحد اور ایل او سی دنیا کی چند خطرناک ترین سرحدوں میں شامل ہیں۔ کشمیرمیں واقع ایل او سی ہر موسم میں متحرک رہتی ہے۔ ان سرحدوں پر ہرروز کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ دونوں جانب فوج ہر لمحہ چوکس رہتی ہے۔

اس کے برعکس 18 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کا سب سے اونچا جنگی محاذ سیاچن اس لحاظ سےایک پرسکون جگہ ہےکہ یہاں ایل او سی کی طرح ہر وقت کوئی جنگی صورت حال نہیں ہے۔

برف پوش پہاڑیوں پر واقع سیاچن کا درجۂ حرارت گرمیوں میں منفی 15 تک ٹھندا ہوتا ہے اور سردیوں میں یہ نقطۂ انجماد سے 50 ڈگری نیچے تک آ جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہاں سردیوں میں موسم منفی 50 ڈگری تک چلا جاتا ہے

یہاں کے خطرناک موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجیوں کو روس اور اسکینڈینیویائی ممالک سے درآمد کی گئی مخصوض جیکیٹس اور جوتے وغیرہ پہننے ہوتے ہیں۔ برفیلے موسم کی شدت سے وہاں فوجیوں کی تعیناتی صرف تین مہینے کے لیے ہی ہوتی ہے اور اس کےبعد انھیں وہاں سےکہیں اور منتقل کر دیا جاتا ہے۔

اس ناقابل برداشت موسم میں دونوں ملکوں کےسیکڑوں فوجی سیاچن کے محاذ پر تعینات ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1984 سے لےکر سنہ 2015 تک سیاچن میں بھارت کے 869 فوجی مارے گئے ہیں۔ یہ گولیوں کا نہیں بلکہ بیشتر موسمی حالات کا شکار ہوئے۔ یہی حالت پاکستان کی جانب بھی ہے۔

بھارت اپنے دفاع پر ڈھائی لاکھ کروڑ روپے یعنی 42 ارب ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔ اس میں سے تقریبا دو ہزار کروڑ روپے سیاچن کے محاذ کے آپریشن کے لیے محضوص ہیں۔ دفا‏عی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رقم صورت حال کےلحاظ سے زیادہ نہیں ہیں۔

کچھ عرصے تک بھارت اور پاکستان کےدفاعی ماہرین اور حکومتی حلقوں میں اس امر پر اتفاق نظر آتا تھا کہ سیاچن کی محاذ آرائی بے معنی ہے اوریہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ اسے ایک غیر فوجی خطہ بنا نے پر سمجھوتہ کر لیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ دنوں بھارت کے دس فوجی یہاں برف میں دب کر ہلاک ہو گئے تھے

لیکن کرگل کی لڑائی کے بعد بھارت میں یہ سوچ تبدیل ہو چکی ہے۔

بھارت کےدفاعی ماہرین اور عسکری پالیسی سازوں کا خیال ہےکہ کرگل کی لڑائی اور کنٹرول لائن کی متحرک صورت حال کے پیش نظر پاکستان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی اب سیاچن گلیشیر کےاس طرف اور لداخ خطےمیں چین کی فوجیں بھی کافی متحرک ہیں اور اپنے اڈے بنا رہی ہیں۔ ان حالات میں بھارت سیاچن کو غیر فوجی خطہ بنانے کے بارے میں بالکل بھی سوچ نہیں رہا ہے۔

سیاچن میں گذشتہ ہفتےکئی بھارتی فوجیوں کا برف میں دفن ہونے کا جو المیہ پیش آیا ہے اس سے اس بےمعنی جنگی محاذ کے بارے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئےگی۔ آنےوالے بجٹ میں سیاچن میں تعینات فوجیوں کے لیے بہتر سازوسامان اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیےسیاچن پر صرف ہونے والی رقم میں کچھ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

دونوں ملکوں کےدرمیان سیاچن کی بے معنی جنگ تب تک جاری رہے گی جب تک دونوں ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کرتے اور یہ اعتبار اس وقت پوری طرح ٹوٹا ہوا ہے۔

اسی بارے میں