’بے یارومددگار لوگوں کا مسیحا‘

Image caption گرمیت سنگھ ہر رات نو بجے بلاناغہ اپنے گھر سے ہسپتال کے لیے نکلتے ہیں

’کیا آپ کو درد ہے؟‘

بھارت کی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے ایک ہسپتال میں جب بھی گرمیت سنگھ داخل ہوتے ہیں تو وہ یہ سوال کرتے ہیں۔

بوسیدہ اور سہولیات سے محروم ہسپتال میں چند مریض ادھر ادھر نظر آتے ہیں اور وہاں کی فضا سڑے کھانے اور پیشاب کی بدبو سے پر ہے۔ رات کو چوہے رینگتے پھرتے ہیں۔ رات کے کھانے میں چاول، مسور کی دال اور کوئی سبزی۔ یعنی بے مزہ کھانا۔ دن میں دو بار ایک ڈاکٹر اور ایک نرس دورے پر آتے ہیں اور باقی وقت مریضوں کو ان کی قسمت پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ہسپتال کیا ہے لاوارثوں کا گھر ہے۔ یعنی یہاں ایسے لوگوں کا علاج ہوتا ہے جن کا کوئی نہیں یا جنھیں گھر والوں نے چھوڑ دیا ہے۔ جب وہ صحت یاب ہو جاتے ہیں، انھیں یا تو بحالی گھر بھیج دیا جاتا ہے یا پھر وہ سڑکوں پر واپس چلے جاتے ہیں۔

آج کی رات شاید کسی کو تکلیف نہیں ہے۔ ایک بستر پر ایک نوجوان خاتون پڑی ہے ٹرین سے ٹکر کے بعد اس کے پاؤں کاٹ دیے گئے ہیں۔ وہ حاملہ بھی ہے۔

Image caption وہ بے یار و مددگار چھوڑ دیے جانے والے مریضوں کے لیے دوا اور کھانے کا انتظام کرتے ہیں

نرسیں اسے منجو کے نام سے پکارتی ہے۔ وہ اس سے اس کے اہل خانہ کے بارے میں پوچھتی ہے، بچے کے باپ کے بارے میں پوچھتی ہے لیکن کوئی جواب نہیں ملتا ہے۔

چند رات قبل لوگوں نے اسے روتے ہوئے دیکھا تھا کیونکہ اسے چوہے نے کاٹ لیا تھا۔

لیکن جب مسٹر سنگھ ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں تو اس کا چہرہ چمک اٹھتا ہے اور وہ اداسی کے ساتھ مسکراتی ہے۔

اس کے پاس والے بستر پر ایک خاتون الجھے ہوئے بالوں، گندے ہرے جیکٹ اور پھٹے سوتی کپڑے میں ہر وقت تھرتھراتی رہتی ہے۔ آج اس کے ہاتھ میں ایک روٹی ہے جو اسے صبح ہسپتال کی جانب سے ملی تھی۔ وہاں کے دوسرے مریضوں کا کہنا ہے کہ ایک رات وہ بستر سے گر گئی اور دیر تک زمین پر پڑی رہی ہے۔

دوسری طرف تپن بھٹاچاریہ ایک بستر پر پڑے ہیں اور ان کے پاؤں کو ٹریکشن پر رکھا گيا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جس آٹو رکشا سے وہ سفر کر رہے تھے وہ پلٹ گیا اور انھیں فریکچر آ گیا۔

Image caption راستے میں وہ پٹنہ میڈیکل کالج کے مخصوص وارڈ کے لیے کھانے اور دوائیں خریدتے ہیں

وہ کہتے ہیں: ’کیا آپ مجھے کوئی کام دلا سکتے ہیں۔ میرا کوئی نہیں ہے اور کوئی گھر بھی نہیں ہے۔‘

دوسرے کمرے دو مریض سدھیر رائے اور فرحان اپنی ہی دنیا میں کھوئے نظر آتے ہیں۔ فرحان دو ہفتے قبل پٹنہ میں ٹرین سے ٹکرانے کے بعد اپنے پاؤں کھو بیٹھے۔ سدھیر نے مجھے نہیں بتایا کہ انھیں کیا ہوا۔ وہاں نہ کوئی ڈاکٹر ہے اور نہ ہی بیڈ چارٹ کہ کچھ معلوم ہو سکے۔ اس کے بیڈ کے نیچے سے پیشاب اور خون بہہ رہے ہیں۔ لیکن جیسے ہی مسٹر سنگھ وہاں آتے ہیں لوگوں میں جوش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ان کے چہرے چمک اٹھتے ہیں بلکہ کچھ مسکرا اٹھتے ہیں۔

مسٹر سنگھ کی عمر اس وقت 60 سال ہے اور وہ ایک مشغول بازار میں کپڑے کی دکان چلاتے ہیں۔ رات میں وہ اس 90 سال پرانے ہسپتال کے مسیحا بن کر آتے ہیں۔ یہ 1760 بیڈ پر مشتمل پٹنہ میڈیکل کالج کا ہسپتال ہے اور بہار کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔

Image caption بغیر ہاتھ والوں کو وہ اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے ہیں

تقریبا 20 سال سے مسٹر سنگھ روزانہ کھانے اور دواؤں کے ساتھ ہسپتال کے اس وارڈ کا چکر لگاتے ہیں جہاں بے یار و مددگار چھوڑ دیے جانے والے مریض ہیں۔ انھوں نے گذشتہ 13 برسوں سے کوئی چھٹی نہیں کی ہے اور پٹنہ سے باہر قدم نہیں رکھا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ’ان بے یارو مددگار لوگوں کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔‘

ہر رات تقریبا نو بجے وہ اپنا گھر چھوڑ دیتے ہیں جہاں وہ اپنے پانچ بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ سارے بھائی ایک ہی فلور پر رہتے ہیں اور وہ اپنی ماہانہ آمدنی میں سے دس فیصد مسٹر سنگھ کے مریضوں کی دوا کے لیے عطیہ دیتے ہیں۔ یہ دوا مریضوں کو ہسپتال سے فراہم نہیں کرتی حالانکہ وہاں علاج مفت ہے۔ راستے میں وہ سستے علاقے میں رکتے ہیں جہاں سے وہ اپنے مریضوں کے لیے بریڈ، سبزی، سلاد، انڈا اور دہی لیتے ہیں۔

جب وہ وارڈ میں پہنچتے ہیں تو وہ مریضوں سے ان کا حال دریافت کرتے ہیں وہ ان کے نسخے دیکھتے ہیں اور مہنگی دواؤں، جانچ، سکین، اور کینسر کے مریض کی کیموتھیراپی کے لیے پیسے دیتے ہیں۔ وہ خون کا بھی عطیہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ چکتی ہوئی سٹیل کی تھالی نکالتے ہیں اور کھانا لگاتے ہیں۔

Image caption ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں سب کچھ بدلا لیکن اس ہسپتال کے حالات نہیں بدلے

وہ کہتے ہیں کہ ’انھیں بس تھوڑی عزت اور تھوڑی نگہداشت کی ضرورت ہے اور حکومت انھیں وہ بھی فراہم نہیں کر سکتی ہے۔

’میں گذشتہ 22 سال سے یہاں آ رہا ہوں لیکن اس دنیا میں کچھ نہیں بدلا ہے۔‘

یعنی یہاں ڈاکٹر اور نرسوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے علاج کی کمی ہے۔ یہ ہسپتال بہار کے صحت کے شعبے کے بارے میں بتاتا ہے۔ ریاست میں 4851 ڈاکٹروں کی پوسٹیں ہیں لیکن بحالی صرف 2289 ڈاکٹروں کی ہی ہوئی ہے جبکہ مریضوں کی تعداد ہمیشہ بستروں سے زیادہ رہتی ہے جس کی وجہ سے بعض کا زمین پر علاج کرنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں