سندھ اسمبلی میں ہندو میرج بل کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس بل سے پہلے مسلمانوں اور مسیحیوں کے علاوہ پاکستان میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتی مذاہب کی شادی کو رجسٹر کرنے کے لیے کسی قسم کا قانونی طریقہ کار موجود نہیں تھا

سندھ اسمبلی نے ہندو برادری کی شادی کو رجسٹر کرنے کے ضمن میں ہندو میرج بل منظور کر لیا ہے جس کے بعد اب ہندو برادری کے افراد کی شادیاں بھی قانونی طور پر رجسٹر کی جا سکیں گی۔

صوبائی وزیر برائے قانون اور پارلیمانی امور نثار کھوڑو نے بل ایوان میں پیش کیا جسے مختصر بحث کے بعد منظور کر لیا گیا۔

بحث کے دوران مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی لیڈر نند کمار نے کہا کہ پاکستان بننے سے آج تک ہندو برادری کی شادیاں رجسٹرڈ نہیں ہو پا رہی تھیں اور اس بل کو پیش کرنے میں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے لہٰذا اب اس معاملے کو طول نہ دیں، جس کے بعد ایوان نے ’ہندو میرج‘ بل منظور کرلیا۔

نند کمار نے بعد ازاں بی بی سی کو بتایا کہ اس بل میں صرف شادی کو رجسٹر کرنےکا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس میں ایک پروفارما رکھا گیا ہے لیکن میں اس میں کمی یہ ہے کہ اگر بعد میں علیحدگی ہو جائے تو بیوی بچوں کو کیا حقوق ملیں گے، اس بارے میں اس ایکٹ میں کچھ نہیں ہے۔

نندکمار نے بتایا کہ ہم چاہتے تھے کہ پنڈت اور شادی کروانے والوں کی بھی رجسٹریشن ہونی چاہیے مگر حکومت نے کہا کہ آج یہ بل منظور کر لیں باقی بعد میں دیکھیں گے۔

اس منظور شدہ بل کے مطابق دولھا اور دلھن کی عمر 18 سال سے زیادہ ہونا ضروری ہے اور 45 دن کے اندر اندر شادی کی رجسٹریشن یونین کونسل میں کروائی جانی لازمی ہے۔

بل کے مطابق شادی میں دو گواہوں کی موجودگی اور والدین کی اجازت لازمی درکار ہو گی۔

اس بل کی منظوری کے تین ماہ بعد اس بل کے قوانین کا اجرا کیا جائے گا۔

نند کمار نے بتایا کہ جن افراد کی اس سے پہلے شادی ہو چکی ہے وہ بھی اب اسے رجسٹر کروا سکتے ہیں اس کے لیے پہلے پنڈت کے دستخط ہوں گے اس کے بعد یونین کونسل میں دستخط ہوں گے۔

یاد رہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے علاوہ پاکستان میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتی مذاہب کی شادی کو رجسٹر کرنے کے لیے کسی قسم کا قانونی طریقہ کار موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنی شادی کا کوئی قانونی ثبوت فراہم نہیں کرسکتے تھے۔

اب اس بل کی منظوری کے بعد سکھ، پارسیوں اور دیگر اقلیتوں کی شادیاں بھی اسی بل کے تحت رجسٹرڈ کی جاسکیں گی۔

18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو یہ اختیار مل گیا تھا کہ وہ مذہبی اقلیتوں اور خاندانی امور سے متعلق معاملات خود دیکھیں، مگر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں نے ہندو میرج قوانین سے متعلق قانون سازی کی اجازت وفاق کو دینے کی قرارداد پاس کی جبکہ پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد زیرِ التوا ہے۔

اس بل کا مسودہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے گذشتہ دنوں منظور کیا تھا۔

اسی بارے میں