جب بھارتی جنگ کی قیمت چینیوں نے ادا کی

تصویر کے کاپی رائٹ Yin Marsh
Image caption چین اور بھارت کے درمیان 1962 میں بمشکل ایک ماہ کے لیے جنگ ہوئی لیکن چینگ کو اس کیمپ کی مشکل زندگی 22 ماہ تک برداشت کرنی پڑی

جب دنیا بھر میں چینی بندر کے سال کے آغاز کا جشن منا رہے تھے تو بھارتی شہر کولکتہ میں بھی اس نئے سال کی پریڈ کے لیے لوگ جمع ہوئے۔

کولکتہ بھارت کا وہ واحد شہر ہے جہاں ’چائنا ٹاؤن‘ ہے اور اس علاقے میں سویا ساس بنانے کے کارخانوں اور ایسے چھوٹے کلبوں کی بھرمار ہے جہاں بزرگ مہاجونگ کھیلتے ہیں۔

دس سال قبل تک تو کولکتہ میں ڈریگن ڈانس کرنے والے 25 طائفے بھی تھے مگر اب ان کی تعدا کم ہو کر پانچ رہ گئی ہے۔

چینی نژاد باشندے گذشتہ چند دہائیوں میں تیزی سے کولکتہ چھوڑ کر گئے ہیں۔

ایسے ہی ایک شخص مائیکل چینگ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بداعتمادی کی فضا کی وجہ سے ملک چھوڑا، ورنہ آج بھی ہم بھارتی ہی ہوتے۔‘

چینگ کی دو نسلیں بھارت میں پلی بڑھیں، لیکن اب وہ امریکی شہری ہیں اور ریاست شمالی کیرولائنا میں رہتے ہیں۔

1962 میں جب وہ چھ برس کے تھے تو چینگ اور ان کے اہل خانہ کو دارجیلنگ کی پہاڑیوں پر واقع ان کی رہائش گاہ سے نکال کر ایسی ٹرین میں سوار کروایا گیا جس کے باہر ’دشمن‘ تحریر تھا اور اندر ہر کمپارٹمنٹ میں حیران اور پریشان چینی خاندان بھرے تھے۔

ایک طویل سفر کے بعد ان کی منزل راجستھان کے صحرا میں دیولی کا حراستی مرکز تھا۔

یہ وہ مقام تھا جہاں بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو برطانوی راج میں قید رہے تھے، لیکن اس وقت نہرو کی حکومت ملک میں قیام پذیر تین ہزار چینی باشندوں کو وہاں قید کر رہی تھی۔

چین اور بھارت کے درمیان 1962 میں بمشکل ایک ماہ کے لیے جنگ ہوئی لیکن چینگ کو اس کیمپ کی مشکل زندگی 22 ماہ تک برداشت کرنی پڑی۔

لیکن پھر بھی وہ خوش قسمت تھے کیونکہ کچھ افراد تو وہاں چار برس تک رہے۔

چینگ اور ان کے خاندان کو بھی جب رہائی ملی تو انھیں واپس دارجیلنگ نہیں جانے دیا گیا بلکہ انھیں کولکتہ میں آباد ہونے کو کہا گیا جہاں ان کی سخت نگرانی کی جاتی تھی۔

چینگ کہتے ہیں کہ ’وہ ہمیں وہاں نہیں جانے دے رہے تھے جہاں سے ہم تعلق رکھتے تھے۔ وہ میرے والدین کو روزگار کی تلاش میں کولکتہ سے بھی باہر نہیں جانے دیتے تھے۔ یہ ایک آہستہ آہستہ کیا جانے والا قتل تھا۔‘

چند ماہ قبل چینگ ایسے کچھ افراد کے ہمراہ واپس بھارت آئے جو ’دیولی والے‘ یعنی اس کیمپ میں قید رہ چکے تھے۔

سٹیو وین جنھوں نے اگست 1962 میں یومِ آزادی پر بھارتی پرچم کو سلامی دی تھی، تین ماہ بعد دیولی کے کیمپ میں پہنچ گئے۔

وین 1969 میں تائیوانی پاسپورٹ پر بھارت سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور پھر تقریباً 50 برس تک انھوں نے بھارتی سرزمین پر قدم نہیں رکھا اور نہ ہی کبھی کسی کو بتایا کہ ان کا اصل وطن بھارت ہے۔ وہ خود کو تائیوانی بتاتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Yin Marsh
Image caption دیولی کیمپ کے بچے آج بزرگ ہو چکے ہیں

’اگر میں یہ بتاتا کہ میری پیدائش بھارت کی ہے تو مجھے وہ بےعزتی یاد آ جاتی تھی جس کا مجھے سامنا کرنا پڑا تھا۔‘

ایک طویل عرصے بعد وین کی بھارت آمد کا مقصد جہاں حقائق کی تلاش ہے وہیں وہ اس سارے معاملے کے بارے میں آگاہی بھی دینا چاہتے ہیں۔

’بہت کم بھارتی دیولی کیمپ کے بارے میں جانتے ہیں یا پھر یہ کہ 1962 کا دفاعِ بھارت ایکٹ کسی بھی ایسے شخص کی حراست کی اجازت دیتا ہے جس پر دشمن ملک سے ہونے کا شبہ بھی ہو۔ چند لوگ ہی جانتے ہیں کہ 1950 سے قبل بھارت میں پیدا ہونے والے چینی بےریاست ہیں اور انھیں قیام کے اجازت نامے کی ہر برس تجدید کروانی پڑتی ہے۔‘

وین کا کہنا ہے کہ ’اس کیمپ میں 20 سے زیادہ قیدی مر بھی گئے تھے۔ ہم ان کی یادگار تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔‘

دیولی کیمپ کے قیدیوں کی ایسوسی ایشن نے بھارت کے اس وقت کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کو ایک خط بھی تحریر کیا جس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ بھارتی حکومت نے نہ معافی مانگی نہ کسی پچھتاوے کا اظہار کیا۔

یہ صرف بھارتی ہی نہیں جن کے پاس دیولی کی کوئی یادیں نہیں، چینیوں نے بھی کئی برس تک اس بارے میں بات نہیں کی۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں یہ سب یاد نہیں۔

اس کیمپ سے رہائی پانے کے بعد بھارت میں ہی قیام کرنے والی مونیکا لیو کہتی ہیں۔ میرا شناختی کارڈ نمبر 880 ہے جبکہ میرے والد کا نمبر 879 تھا۔

کولکتہ کے ٹانگرا چائنا ٹاؤن میں واقع مونیکا کے ریستوران کے سنہرے جھینگوں کی شہر بھر میں دھوم ہے۔

وہ اس ریستوران سمیت شہر بھر میں پانچ چائنیز ریستورانوں کی مالکہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں ان بری چیزوں کو یاد نہیں کرنا چاہتی جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انھیں کوئی نہیں بھولا۔‘

جب مونیکا کے خاندان کو حراست میں لیا گیا تو چین میں مقیم ان کے دادا اور دادی کو وہ رقم ملنا بند ہوگئی جو مونیکا کے والدین انھیں بھیجا کرتے تھے۔

مونیکا کے مطابق ان کے دادا بھوک سے مر گئے۔ انھیں اپنی ایک دوست بھی یاد ہے جو کیمپ میں سخت گرمی برداشت نہ کر سکی اور لُو لگنے سے چل بسی۔

مونیکا آج تک آلو اور لوکی نہیں کھا سکتیں۔ ’ساڑھے پانچ برس تک میں نے صرف یہی کھایا۔ اب تو میں ان کی بو بھی سونگھنا نہیں چاہتی۔‘

دیولی کیمپ کے بچے آج بزرگ ہو چکے ہیں اور ان کے لیے اس وقت کیمپ میں رہنا ایک طویل چھٹی جیسا تھا۔

یِن مارش کو جب اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ کیمپ میں بھیجا گیا تو ان کی عمر 13 برس تھی۔ انھوں نے اس بارے میں ایک کتاب لکھی جس کا نام ’نہرو کے ساتھ قید‘ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sandeep Roy
Image caption اتنے برس بعد مونیکا لیو اب بھی یہ نہیں سمجھ پا رہیں کہ معذرت سے ملے گا کیا؟

یِن یاد کرتی ہیں کہ جب انھیں ایک بار گوشت کھانے کو ملا تو سب بہت خوش تھے لیکن جب پتہ چلا کہ یہ اونٹ کا گوشت ہے تو سب کو ابکائی آ گئی۔ ’اس سالن میں کچھ تیر رہا تھا۔ چھوٹی چھوٹی نلیاں اور آنت کے ٹکڑے۔‘

سٹیو وین کو بھی یاد ہے کہ وہ کیمپ میں تربوز اگایا کرتے تھے اور غلیل سے پرندوں کو نشانہ بنانا ان کا مشغلہ تھا۔ ’ہمارا پسندیدہ پرندہ کبوتر تھا۔‘

انھیں یاد ہے کہ کس طرح انھوں نے ایک بار کبوتر کا شکار کر کے اس کا گوشت اس لڑکی کے والد کو دیا تھا جسے وہ پسند کرتے تھے۔

’مجھے آج بھی اس لڑکی کا نام یاد ہے، لی فُونگ۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔ میں بس جاننا چاہتا ہوں وہ کیسی ہے۔‘

مائیکل چینگ کا کہنا ہے کہ کیمپ میں حراست کے دوران ان کا سب سے بڑا نقصان تعلیم کا تھا۔ ’وہاں کوئی تختۂ سیاہ نہ تھا۔ وہ سلیٹوں پر چاک کی مدد سے لکھتے تھے۔ جب میں کیمپ سے رہا ہوا تو باقی بچوں سے تین سال پیچھے تھا اور یہ کمی کبھی پوری نہ ہو سکی۔‘

اس سب کے باوجود اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ ان کے نقصانات کی تلافی ہو سکے۔

ایک بھارتی سرکاری اہلکار نے ین مارش کو بتایا کہ اگرچہ بھارت میں اس وقت جواہر لال نہرو کی جماعت برسرِاقتدار نہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے معافی مانگنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

بھارت سے واپس آنے کے بعد یہ افراد اب ایک امریکی وکیل کی مدد سے ایک فلاحی تنظیم بنا رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے دعووں اور گمشدہ جائیداد کی قانونی دستاویزات پیش کر سکتے ہیں، وہ اس سلسلے میں کلیم داخل کر سکتے ہیں۔

ملک سے جاتے ہوئے بہت سے لوگ اپنا کاروبار، ساتھیوں یا ہمسایوں کو یہ سوچ کر سونپ گئے تھے کہ وہ چند دن یا ہفتوں میں واپس آ جائیں گے۔ جب وہ کئی برس بعد واپس آئے تو ان ہمسایوں نے اپنے دروازے بند کر لیے اور ان کے دوست انھیں ’چنگ چونگ چائنا مین‘ کہنے لگے۔

اتنے برس بعد مونیکا لیو اب بھی یہ نہیں سمجھ پا رہیں کہ معذرت سے کیا ملے گا۔

ان کے لیے یہ سب ماضی کی یاد بن کر رہ گیا ہے۔

’معذرت کیا ہے؟ ایک چھوٹا سا لفظ جیسے کہ ہوا کا ایک جھونکا۔ ہمارے پاس تو جو تھا وہ سب چلا گیا۔‘