چین میں غیر ملکی کمپنیوں کےلیےنئے سائبر قوانین

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چین میں حکومت انٹرنیٹ کو سختی سے کنٹرول کرتی ہے

چین نے رواں ہفتے انٹرنیٹ پر اپنے کنٹرول کو مزید سخت کرنے کے اقدامات کے تحت اب غیر ملکی کمپنیوں اور چینی اور غیر ملکیوں کمپنیوں کے مشترکہ کاروباری منصوبوں کو آن لائن مواد شائع کرنے سے پہلے منظوری حاصل کرنا ہو گی۔

اس کے علاوہ چینی حکومت نے جمعے کو نئے مصنوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غیر ملکیوں کے چین میں رہنے اور کام کرنے کے علاوہ مستقل رہائش حاصل کرنے میں اب آسانی ہو گی۔

چینی حکومت کے اس مصنوبے کا ایک مقصد کو سست اقتصادی ترقی کی شرح میں اضافہ اور کم ہوتی غیر ملکی سرمایہ کار کو بڑھانا ہے۔

چینی صدر کا ’سائبر خود مختاری‘ کا مطالبہ

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق انٹرنیٹ پر مواد شائع کرنے سے متعلق نئے قواعد و ضوابط کا اطلاق 10 مارچ سے ہو گا۔

ان قواعد کے تحت ایسا ادارہ جس میں کسی حد تک غیر ملکی ملکیت ہو تو اس پر چین کے بارے میں ٹیکسٹ، تصاویر، نقشے، اینیمیشن، معلومات یا سوچ بچار سے متعلق آڈیو شائع کرنے سے پہلے اس کی پریس پبلیکیشن، ریڈیو، فلم اور ٹی وی کے سرکاری انتظامی ادارے سے منظور حاصل کرنا ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ماہرین کے مطابق نئی پالیسیاں چین میں سیاسی رائے کو محدود کرنے کی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔ جس میں زیادہ توجہ اب ملک میں تیزی سے ترقی کرتی انٹرنیٹ کی صعنت ہے۔

چین میں پیغامات پر مبنی سوشل میڈیا، سٹریمنگ ٹی وی شوز سمیت میڈیا کے تیزی سے بڑھتے ذرائع کے نتیجے میں ریاست کی جانب سے اس صعنت پر روایتی اشاعت کی سینسرز شپ کی طرز پر نئے قواعد و ضوابط لاگو کیے جا رہے ہیں۔

سن یٹ سین یونیورسٹی میں کیمونیکشن اینڈ ڈیزائن کے شعبے کے ڈائریکٹر ژانگ جیانگ کے مطابق چین میں اب بھی انٹرنیٹ انڈسٹری کے حوالے سے بنائی جانے والی پالیسی میں سماجی استحکام اور قومی سلامتی کے مفادات کو سامنے رکھا جاتا ہے۔

نئی قوانین کے تحت آن لائن پبلشرز کو لازمی اپنے مواد کو چین میں ہی موجود سرورز میں محفوظ کرنا ہو گا۔ اس شرط کی وجہ سے حکومت کو مواد تک رسائی اور اس پر کنٹرول کے زیادہ قانونی اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔

چین نے سائبر سکیورٹی اور قومی سلامتی کے تحت گذشتہ برس اسی طرز کی قانون سازی کی تھی جس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنا مواد چین میں ہی محفوظ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چین میں انٹرنیٹ پر ذرائع ابلاغ تیزی سے فروغ پا رہے ہیں

پیکنگ یونیورسٹی میں سکول آف مینجمنٹ کے پروفیسر پاول گیلیز کے مطابق چین نے حالیہ ماہ میں نئی قواعد متعارف کرائے ہیں جس میں صریحاً حکام کو طویل عرصے سے نافذ قانون کے تحت سینسر شپ کے نئے اختیارات ملے ہیں۔

چین میں انٹرنیٹ کا نگراں ادارہ متعدد بار خبردار کر چکا ہے کہ ملک میں غیر منظم انٹرنیٹ ٹریفک ملکی سلامتی کے لیے خطرہ کا باعث ہے اور حکومت کو یہ طے کرنا ہو گا کہ ( چین میں) کس کی اجازت دی جانی چاہیے۔

دریں اثنا چینی کابینہ کی جانب سے غیر ملکیوں کے لیے جاری کی جانے والی نئی پالیسی کے تحت غیر ملکیوں کے لیے زیادہ درجہ بندیاں بنائی گئی ہیں جس میں وہ امریکی گرین کارڈ کے مساوی رہائشی درجہ حاصل کرنے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ چین میں غیر ملکی طالب علموں کے لیے نوکری کرنے پر عائد پابندیوں کو نرم کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں